شہباز شریف کی گرفتار ی


پاکستان کی سیاست 90 کی دہائی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ ہر آنے والا دن جمہوریت کی ساکھ متاثر کررہا ہے۔ اگر سلسلہ یونہی چلتا رہا تو عوام کا جمہوریت پر سے اعتماد جاتا رہے گا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی گرفتاری اور پھر ضمانت پر رہائی کے بعد بھی شریف خاندان کی آزمائش ختم نہیں ہوئی۔ تین مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے اور موجودہ لیڈر آف اپوزیشن شہباز شریف کو بھی نیب نے گرفتار کرلیا ہے۔ احتساب عدالت نے نیب حکام کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو دس روز کے لئے نیب کے حوالے کردیا ہے۔ ملک کی جمہوری تاریخ میں پہلی مرتبہ قائد حزب اختلاف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ضیا آمریت میں اپوزیشن لیڈر ولی خان کو گرفتار کیا گیا تھا مگر چونکہ تب ملک میں آمریت کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا،اس لئے اس گرفتاری کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ مگر اپوزیشن لیڈر کی حالیہ گرفتاری ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ شہباز شریف کے کیس کامیرٹ جو بھی ہو مگر اس گرفتاری کے معاشی و سیاسی اثرات بہت منفی ہونگے۔ کوئی بھی جمہوری حکومت اس طرح کا انتہائی اقدام برداشت نہیں کرسکتی اور تحریک انصاف کی حکومت تو پھر بھی بہت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ اس گرفتاری سے ملک میں سیاسی عد م استحکام بڑھے گا۔ آج شہباز شریف حکومت میں نہیں ہیں مگر میرٹ اور شفافیت کا جو بھی معیار مقرر کرلیں ،شہباز شریف کی دیانتداری پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ قومی خزانے کے اربوں روپے کی بچت کرنے والے شخص سے ایک ٹھیکہ منسوخ کرنے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ حالانکہ اس ٹھیکے کی منسوخی سے قومی خزانے کو ایک روپے کا بھی نقصان نہیں ہوا۔ بہرحال شاعر نے اسی پر کہا تھا کہ

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں

لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

شاید شہباز شریف کی گرفتاری شریف خاندان کے لئے کوئی بڑا دھچکا نہ ہو مگر جمہوریت اور ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہورہا۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت بھی مصلحت پسندی اور تاخیری حربوں سے کام لیتی رہی۔ آئین میں سے62اور63کو صرف اس لئے نہیں نکالا گیا کہ شاید اس کا نشانہ کوئی اور بنے گا۔ پیپلزپارٹی کے اصرار کے باوجود نیب آرڈیننس میں ترامیم نہیں کی گئیں ۔ پھر تاریخ نے وہ منظر دیکھا کہ کیسے مسلم لیگ ن کے سربراہ اور دیگر رہنما 62اور63کاشکار ہوئے۔ اسی طرح نیب آرڈیننس کے حوالے سے بھی نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج مرکز اور تین صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ فاروق لغاری مرحوم کہا کرتے تھے کہ اقتدار کی کرسی کا نشہ بہت خطرناک ہوتا ہے،اس کرسی پر بیٹھ کر انسان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ آج شاید تحریک انصاف کی حکومت کو بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ جو کچھ آج سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ کیا جارہا ہے اگر وہ سلوک کل تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ کیا گیاتو یہ خاکسار اس کی بھی شدید مخالفت کرے گا۔ کیونکہ میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ احتساب کا خاتمہ ایک ٹارگٹ نہیں بلکہ ایک مسلسل پراسس ہوتا ہے۔ اگر ٹارگٹ کرکے احتساب کریں گے تو اس کے نتائج خطرناک ہونگے۔ مجھے یاد ہے کہ کل پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف یہ سب کچھ ہورہا تھا،آج مسلم لیگ ن کے ساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے اور آنے والے کل میں اس کا نشانہ تحریک انصاف بھی بن سکتی ہے۔ تحریک انصاف کو خود بھی احساس نہیں ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے اپنی حکومت کمزور کررہی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر جمہوری وقتوں کے ایسے اقدامات سے غیر جمہوری قوتوں کا راستہ ہموا ر ہورہا ہے۔ پیپلزپارٹی کو قومی سطح پر ویسے ختم کیا جاچکا ہے۔ مسلم لیگ ن کو حالیہ انتخابات میں محدود کردیا گیا ہے اوراگر اب تحریک انصاف مکمل فیل ہوگئی تو پھر ایک ہی راستہ رہ جائے گا اور وہ راستہ جمہوری قوتوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوگا۔

شہباز شریف کی گرفتاری نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ عوام میں یہ تاثر شدت اختیار کرے گا کہ عام انتخابات سے قبل نوازشریف کو گرفتار کیا گیا مگر ان کے کیس میں بھی کچھ نہیں نکلا اور وہ ضمانت پر رہا ہوگئے۔ اسی طرح ضمنی انتخابات سے قبل شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں سے سیاسی انتقام کی بو آئے گی۔ بلاول بھٹو درست کہتے ہیں کہ اس گرفتاری سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں جائے گا۔ قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے بعد اپوزیشن لیڈر سب سے اہم عہدہ ہوتا ہے۔ اگر لیڈر آف اپوزیشن کو اس طرح گرفتار کیا جاسکتا ہے تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ اگر ناقابل تردید شواہد نیب کو مل گئے تھے تو ان ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر اپوزیشن لیڈر کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاتا۔ کھلی عدالت میں کارروائی چلتی ،پوری دنیا دیکھتی کہ کس نوعیت کے الزامات ہیں۔ اگر اپوزیشن لیڈر ان الزامات کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو عدالت سے بری ہوجاتے وگرنہ سزا کا سامنا کرتے۔ مگر قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے انتہائی اقدام اٹھایا گیا۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کو کبھی بھی مقدمات ختم نہیں کرسکتے۔ بڑے سے بڑا کیس بھی سیاستدان کی سیاست کو دفن نہیں کرسکتا۔ سیاستدان تب ختم ہوتا ہے جب وہ خود طے کرلیتا ہے کہ اس نے اپنی سیاست کو ختم کرنا ہے۔ سیاسی میدان میں کھڑے ہوئے سیاستدان کو اس طرح کے کیسز مزید مضبوط کرتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سیاستدان اب اپنے ماضی سے سبق سیکھ لیںاور کسی کے آلہ کار بن کر پارلیمنٹ کی بے توقیری نہ کریں۔ آج موجودہ حکومت مسلم لیگ ن کے خلاف سہولت کار بنی ہوئی ہے تو کل کوئی اور اس حکومت کے خلاف یہی خدمات سر انجام دے گا۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے میں اصل خدمات سیاستدان ہی سر انجام دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اس طرح کے اقدامات سے کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ صرف ایک چیز مسلم لیگ ن کو کمزور کرسکتی ہے اور وہ تحریک انصاف کی پنجاب میں زبردست کارکردگی ہوگی ۔ اگر تحریک انصاف بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوگئی تو مسلم لیگ ن خودبخود کمزور ہوجائے گی، وگرنہ شہباز شریف کی گرفتاری سمیت ایسے جتنے بھی اقدامات ہونگے اس سے حکومت اور جمہوریت کمزور جبکہ مسلم لیگ ن مضبوط ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں