جب باغ چھپروں پر گر پڑتا ہے!


اور اُن دو شخصوں کی مثال! ان میں سے ایک کے دو تاکستان تھے‘ انگوروں سے بھرے ہوئے۔ اردگرد کھجوروں کی باڑ! اور درمیان میں کھیتی! دونوں چمنستان بھر پور پھل دیتے ذرا سی کسر بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ یہی نہیں! درمیان میں نہر بھی رواں تھی! پھل اُترا اور خوب اُترا!

پھر اس نے دوسرے شخص کو جتایا کہ میرے پاس مال و متاع بھی خوب ہے اور افرادی قوت بھی! پھر وہ اپنے چمنستان میں اٹھلاتا ہوا داخل ہوا۔ زعم میں ! ’’کیسے ممکن ہے کہ اس پر کبھی زوال آئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ روز حساب آئے گا! آیا تو میں وہاں بھی مراعات یافتہ ہی رہوں گا!‘‘ مگر ہوا کیا؟

پھل اس کے سمیٹ لیے گئے!چمنستان اپنے چھپروں پر اُوندھا ہو گیا اور مالک ہاتھ ہی ملتا رہ گیا!! میاں محمد شہباز شریف کی گرفتاری پر یہ مثال بے طرح یاد آ گئی! کیا غرّہ تھا اورکیا تکبّر! حساب کتاب کا تو ذکر ہی کیا‘ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ بے کنار طاقت‘ یہ بے پناہ اختیار! یہ مکمل بادشاہی‘ بے زبان‘ بے دماغ غلاموں کا یہ ٹڈی دل لشکر۔

صاحبزادے کا مغل شہزادوں جیسا طمطراق! وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا!

جسے انجام کا ڈر ہو جو یہ سوچے کہ کل سوالوں کے جواب دینے ہوں گے‘ دنیا میں اور آخرت میں۔ وہ اپنے آپ کو روک کر رکھتا ہے! بے مہار نہیں ہو جاتا۔ بے لگام خواہشوں کو ٹوکتا ہے! مگر شہباز شریف!! سچی بات یہ ہے کہ طاقت کے بے محابا استعمال اور بے حد و حساب اقتدار کے نشے میں انہوں نے عملاً تیمور کو اور شاہ عباس صفوی کو پیچھے چھوڑ دیا!

صوبائی اسمبلی میں وہ جاتے ہی نہیں تھے کہ سوالوں کے جواب دیں! کابینہ اتنی بے وقعت تھی کہ رانا ثناء اللہ کے علاوہ کسی وزیر کا نام ہی کسی کو معلوم نہ تھا۔ یہاں تک کہ ہسپتالوں کے دورے کرتے تو وزیر صحت یا تو خود ہوتے یا کوئی ہوتا تو اسے خاطر ہی میں نہ لاتے۔

یہی حال دیگر محکموں کا تھا۔ تیسری قوت روکنے والی بیورو کریسی تھی اس کا علاج موصوف نے خوب کیا! بیورو کریسی کے اندر سے گردے‘ دل‘ پھیپھڑے ‘ انتڑیاں‘ جگر‘ دماغ سب کچھ نکالا‘ جاتی امرا محل کے اندر وسیع و عریض صحن میں یہ سارے اعضا تار پر لٹکا دیے۔ پھر بیورو کریسی کے اس چیرے ہوئے جسم کو سیا اور مردے کو اٹھا دیا۔

بس یہ تھی وہ بیورو کریسی جو ان کے احکام پر ایک مردے کی طرح ایک Zombieکی مثال‘ ایک روبوٹ بن کر‘ بے چون و چرا عمل کرتی تھی!نسخہ کیمیا چھوٹے میاں صاحب کے ہاتھ میں یہ آیا کہ جونیئر افسروں کو اوپر لائو اور جو سینئر افسر شاہی عقل کی بات بتانے کی ہمت رکھتی تھی اسے کونوں کھدروں میں ڈال دو۔

جونیئر افسر جب شاہ کے قریب ہوتا تو مجسم پلاسٹک بن جاتا۔ بادشاہ دن کو رات کہتا تو یہ دن میں چاند تارے بھی ڈھونڈ لیتا۔ حکومت کے قوانین سے جان چھڑانے کے لیے شہباز شریف نے ایک عجیب و غریب کام کیا جو کبھی کسی حکومت نے نہ کیا ہو گا۔

چھپن کمپنیاں بنا کر پوری صوبائی حکومت کے متوازی ایک نجی حکومت کھڑی کر دی۔ جن افسروں کے دودھ کے دانت ابھی گرے نہیں تھے انہیں دس دس بارہ بارہ پندرہ پندرہ لاکھ روپے تنخواہیں دیں۔ مراعات کا موٹا بھاری بنڈل اس کے علاوہ!

پھر غضب اندر غضب یہ کیا کہ ان کمپنیوں کے جو قوانین و ضوابط خود بنائے تھے‘ ان کے بھی پرخچے اڑا دیے‘ بورڈ آف ڈائریکٹرز ہر کمپنی کا بے بس ہو کر رہ گیا۔ فیصلے وزیر اعلیٰ کرتے شہزادہ بھی اجلاسوں میں شریک ہوتا۔

کچھ دن پہلے سپریم کورٹ نے پوچھا کہ میاں صاحبزادے کس حیثیت سے ان اجلاسوں میں بیٹھ کر حکم چلاتے تھے تو شہباز شریف نے جو جواب دیا وہ اس ملک کی تاریخ کا غلیظ ترین حصہ ہے۔ فرمایا کہ صاحبزادے پارٹی کے رکن کی حیثیت سے ان اجلاسوں میں اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔غالب ہوتے تو ضرور کہتے ع شرم تم کو مگر نہیں آتی!

کاش چیف جسٹس پوچھتے کہ پوری مسلم لیگ نون میں سوائے آپ کے بیٹے کے اور کوئی اس لائق نہ تھا؟ تین عشروں سے زائد شہباز شریف نے پنجاب کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔ بارہا وزیر اعلیٰ بنے۔ قبضہ گروپ ان کے ہمایونی عہد اقتدار میں دندناتا پھرا۔ موجودہ حکومت نے غصب کی ہوئی زمینیں واگزار کرائی ہیں تو ان کی مالیت کا سُن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں!

اس سارے عرصہ میں شہباز شریف نے کسی پریس کانفرنس میں کسی ڈھنگ کے سوال کا جواب نہ دیا۔ جواب کیا دیتے! سوال ہی کسی کو نہ پوچھنے دیا۔ شہباز شریف اپنے آپ کو احتساب سے‘ حساب کتاب سے‘ کسی قسم کی باز پرس سے مکمل ماورا گردانتے تھے۔

کتنی ہی بار لندن گئے؟ موجودہ حکومت کو یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کتنی بار لندن گئے؟ وزارت خارجہ‘ وزارت پانی وبجلی‘ وزارت توانائی‘ ہر جگہ دخیل تھے۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے۔ شعبدہ باز پرلے درجے کے!! ہیٹ پہن کر تیز تیز چلتے جیسے زمین گائے کے سینگ پر نہیں‘ ان کے ہیٹ پر کھڑی ہے۔

تقریر کرتے تو پیٹ پھاڑ کر گلیوں میں گھسیٹنے کی دھمکی دیتے بعد میں 74پکوان تیار کرا کے معافیاں مانگتے! سیلاب کی روک تھام کے لیے اقدامات صفر مگر جب سیلاب آتا اور تباہی مچ چکتی تو گھٹنوں تک لمبے بوٹ پہن کر شعبدہ بازیاں کرتے۔ کبھی انگلی نچاتے!

شہباز شریف کی گرفتاری ایک نشان عبرت ہے! یہ گرفتاری چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اپنے آپ کو مختار کل سمجھنے والے ہوش میں آئیں۔ رسی دراز ہے مگر ایک نہ ایک دن اس رسی کو ضرور کھینچ لیا جائے گا۔ کیا خبر اس گرفتاری میں اُس سرکاری ملازم کی بددعا بھی کار فرما ہو جس کے تین بچوں کی ماں کو شہباز شریف نے طلاق دلوائی اور اس سے شادی رچائی!

حضرت مشرق وسطیٰ میں ہوتے تو زواج المسیار کے موجد ہوتے! صاحبزادے کا پول بھی عائشہ احد ملک نے خوب کھولا۔ قاضی القضاۃ نے ذاتی دلچسپی لے کر معاملے کو رفع دفع کیا۔ بعض شوق بھی وراثت میں منتقل ہوتے ہیں! اب۔ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ! دیکھیے احد چیمہ اور فواد حسن فواد کیا کچھ کرتے ہیں! کیا کچھ بتاتے ہیں!

 جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے تاریخ عالم نہیں اپنے ملک ہی کی تاریخ دونوں بھائی پڑھ لیتے تو مسعود محمود کی وعدہ معاف گواہی سے عبرت پکڑتے اور اپنے آپ کو مخمور نہ کرتے۔ بے خود نہ ہوتے! مگر ہائے اقتدار کی شراب!

آہ!حکومت کا بادۂ‘ ناب! دماغ کو نشہ ایسا چڑھتا ہے کہ آدمی سب کچھ بھول جاتا ہے۔ پھرعیدی امین ہو یا شاہ ایران‘ حسنی مبارک ہو یا شہباز شریف! وہ دن آتا ہے اور ضرور آتا ہے کہ زنداں کا در کھلتا ہے۔ نشہ اترتا ہے اور کہانی ختم ہو جاتی ہے!!

بشکریہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں