انسان کی جیت


چند دنوں پہلے کراچی میں احمد ندیم قاسمی کے یکتا افسانے ’’ پرمشیر سنگھ ‘‘ پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک محفل رکھی ۔ ’’پرمشیر سنگھ ‘‘کا شمار احمد ندیم قاسمی کی شاہکار کہانیوں میں ہوتا ہے ۔ یہ اس زمانے میں لکھی گئی جب برصغیر پر نفرت کے سیاہ سونامی کی یلغار ہوئی ۔

اس سونامی نے روا داری ، دوست داری ، بین المذاہب ہم آہنگی اور صدیوں پرانے رشتوں کو بنیادوں سے ہلاکر رکھ دیا ۔ انسان حیوان بن گیا اور پرمشیر سنگھ ایسے انسان حیوانوں کے درمیان گھرگئے۔

یہ ہمارے ادیب تھے جنھوں نے نفرت انگیز سونامی کی بھیانک اور بلند وبالا لہروں کے سامنے اپنی انسان پرست اور امن دوست تحریروں کے بند باندھے ۔ پرمشیر سنگھ اور احمد ندیم قاسمی پر بات کرنے کے ساتھ ہی ہمیں سعادت حسن منٹو اور کرشن چندرکو بھی یاد کرنا چاہیے جنھوں نے بے مثال انسان دوست کہانیاں لکھیں ۔

منٹو نے تو ہمیں آئینہ بھی دکھایا ان کی کہانی ’’کھول دو‘‘ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنا کریہہ چہرہ دکھائی دیتا ہے ۔ کرشن چندر نے پشاور ایکسپریس ، اندھے ، لال باغ ، ہم وحشی ہیں اور’ایک طوائف کا خط پنڈت نہرو اور قائداعظم کے نام لکھا‘ ۔کیسی دل دوز تحریریں ہیں ۔ انھیں پڑھ کر اپنے انسان ہونے پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

اس وقت بات ’’ پرمشیر سنگھ ‘‘ کی ہورہی ہے جس کا پانچ برس کا بیٹا کرتار فسادات کے دوران اپنے ماں باپ سے بچھڑگیا ہے ، یہ بات قاسمی صاحب نے کھل کر نہیں لکھی لیکن پڑھنے والوں کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ بچہ کسی چھرے بازکا شکار ہوگیا ہے ۔

ادھر اپنے گھر والوں سے بچھڑ جانے والا پانچ برس کا اختر ہے جسے سکھوں کا ایک غول اپنی کرپان کی سان پر رکھنے کے لیے بے قرار ہے لیکن پرمشیر سنگھ ہے جسے اختر میں اپنا کرتار نظر آتا ہے اور ہجوم کی کر پانیں اس وعدے پر میان میں چلی جاتی ہیں کہ ’’اختر‘‘ کو’’کرتار سنگھ‘‘ بنا دیا جائے گا ۔

پرمشیر سنگھ وعدہ توکرتا ہے لیکن اس کے اندر جو انسان رہتا ہے ، وہ یہی سوچتا ہے کہ میرا کرتار اگر بچ گیا ہوگا تو شاید کوئی اسے اسی طرح مسلمان بنا رہا ہو ۔

’’کچھ کہے بغیر وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا ۔ پھر ایک جگہ رک کر اس نے پلٹ کر اپنے پیچھے آنے والے پڑوسیوں کی طرف دیکھا ۔’’ تم کتنے ظالم ہو یارو،اختر کوکرتارا بناتے ہو اور ادھر اگر کوئی کرتارے کو اختر بنالے تو؟ اسے ظالم ہی کہوگے نا ‘‘ پھر اس کی آواز میں گرج آگئی ’’ یہ لڑکا مسلمان ہی رہے گا، دربار صاحب کی سوں ۔ میں کل ہی امرتسر جا کر اس کے انگریزی بال بنوا لاؤں گا ۔ تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ، خالصہ ہوں، سینے میں شیرکا دل ہے، مرغی کا نہیں۔‘‘

اس کہانی میں اختر ہے جسے ڈر لگتا ہے تو چاروں قل پڑھ کر اپنے سینے پر دم کرتا ہے اور پرمشیر سنگھ کے سینے پر بھی ۔ پانچ برس کا ایک بچہ سکھوں اور مسلمانوں کی عداوتوں کے بیچ پل بن گیا ہے اور اسی پل پر سے چل کر پرمشیر، اختر کو پاکستان کی سرحد پر چھوڑ آتا ہے ۔

وہ اخترکے عشق میں گرفتار ہے لیکن اسے اخترکی ماں کی تڑپ کا بھی اندازہ ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اختر اپنی ماں کے لیے بے قرار رہتا ہے ۔ پاکستانی سرحدکے قریب اخترکو پہنچا کر وہ دوبارہ جس تیزی سے پاکستانی سرحد کی طرف لپکتا ہے اور سپاہیوں کی گولی کھاتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ میں تو اخترکو اس کا دھرم واپس کرنے، اس کے کیس کاٹنے آرہا تھا ‘ لہولہان پرمشیر اور اس کے لیے تڑپ کر بھاگتا ہوا اختر، دونوں انسان ہیں اور وہ حیوانوں سے جیت جاتے ہیں ۔ یہ ہم سب کی جیت ہے۔

ہم ستر برس بعد اس کہانی کو پڑھیں تو یہ انسان کی فتح مندی کا نشان ہے ۔ اس زمانے میں اوراس کے بعد جتنے بلوے ، جتنے فسادات ہوئے ان میں کیسے کیسے قہر ناک نعرے لگائے گئے، قتل وغارت پر اکسانے والی تحریریں لکھی گئیں لیکن آج ہم میں سے کوئی ان تحریروں کو نہیں جانتا اس کے برعکس ہر وہ تحریر زندہ ہے جو انسانوں کے لیے لکھی گئی ۔

کچھ باتیں احمد ندیم قاسمی کے بارے میں، وہ پیرزادوں کے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن والد جب مجذوب ہوئے توگھرکے بڑوں نے ان کے والد کی گدی پر قبضہ کیا اور اس مجذوب، اس کی بیوی اور تین بچوں کے لیے ازراہ عنایت ڈیڑھ روپے مہینے کا وظیفہ مقررکیا ۔

تب ہی احمد شاہ جو بعد میں احمد ندیم ہوا اپنے گائوں کی پہاڑیوں اور وادیوں میں جھاڑیوں کی خشک ٹہنیاں اور مویشیوں کا خشک گوبر چنتا تھا کہ اس کی بیوہ ماں اپنے گھرکا چولہا جلا سکے اور ڈیڑھ روپے مہینے کی ’’خطیر رقم‘‘ سے اپنے بچوں کا اور اپنا پیٹ بھر سکے۔

باپ کے سائے سے محروم ہوجانے والے اور اپنے خاندان کے دوسرے پیٹ بھرے بچوں کے قہقہے سننے والے احمد ندیم نے زندگی سے کبھی ہار نہیں مانی ۔ انھوں نے ابتدا سے ہشت پہلو زندگی گزاری۔ کالج میں تھے تو آغا حشرکاشمیری کے ڈرامے ’’ عشق اور فرض ‘‘ میں سہراب بنے ۔ دو مہینے تک ریہرسل ہوتی رہی۔

اس زمانے میں لڑکیاں کہاں دستیاب تھیں کہ ہیروئن یا اس کی سہیلیوں کے سوانگ میں اسٹیج پر آتیں ۔ یہ ’’کام ‘‘ بھی لڑکوں کے حصے میں آیا ۔گرد آفرید مردانہ بھیس میں سہراب سے لڑرہی ہے، دونوں کی تلواریں ٹکرا رہی ہیں ۔ سہراب سے ہدایت کار نے کہا تھا کہ وہ گرد آفرید کو اس انداز سے زیرکرے کہ اس کے سرکی ٹوپی گر جائے اور اندر سے گرد آفرید نکل آئے اور سہراب اس پر فدا ہوجائے ۔

سہراب ہمارے احمد ندیم تھے، ہزاروں کے مجمع کے سامنے ان کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے، انھوں نے گھبراہٹ میں گرد آفرید کو اس تیزی سے گرایا کہ اس کی صرف مردانہ بال والی ٹوپی ہی نہیں گری، گرد آفرید والی زنانہ بالوں کی وگ بھی پھسل گئی۔

اب تماشائیوںکے سامنے سہراب کے روبرو گرد آفرید کے بجائے ایک لڑکا بیٹھا تھا، سہراب نے ہونقوں کی طرح اپنی ’’ہیروئن‘‘ کو دیکھا تو ’’ہیروئن‘‘ نے جلدی سے اپنی وگ اٹھا کر سر پر جمالی اور سہراب نے اس سے اظہار محبت شروع کردیا لیکن وہاں تماشائیوں کے قہقہوں سے چھت اڑی جارہی تھی محبت بھرے مکالمے کون سنتا۔

احمد ندیم قاسمی نے واقعی ہشت پہلو زندگی گزاری ، گھرکے چولہے کے لیے خشک گوبر اکٹھا کیا،ڈراموں میں حصہ لیا ، شعرکہے، کالم نگاری کی ، جیل گئے ، ترقی پسندوں کے محبوب اور پھر ان کے معتوب ہوئے ۔ افسانے لکھے تو ایسے کہ اردو ادب میں یادگارٹہرے۔

بھلا کون ہے جو ’’رئیس خانہ ‘‘ پڑھے اور زندگی میں اسے کبھی بھلاسکے۔ کس کے ذہن سے ’’ہیروشیما سے پہلے، ہیروشیما کے بعد‘‘جیسی دہلادینے والی کہانی محو ہوسکتی ہے جس کا پٹواری چیخ کرکہتا ہے۔

’’یہ ایٹم بم کوئی نئی چیز تو نہیں ۔ ہم ہندوستانیوں کے لیے ایٹم بم کوئی عجوبہ نہیں ۔ بنگال میں کس ایٹم بم نے قحط ڈالا ۔ آسام میں کس ایٹم بم نے لڑکیوں کی جوانیاں لوٹیں ۔ راجپوتانہ اور پنجاب میں کس ایٹم بم نے بیوائوں اور یتیموں کی فوج کی فوج پیدا کردی۔

ہندوستان پر تو پچھلی دو صدیوں سے ایٹم بموں کی بارش ہورہی ہے اور تم منہ کھولے ہیروشیما کے ایٹم بم کی باتیں یوں سن رہے ہو جیسے تمہارے لیے جنت کا دروازہ کھل گیا۔‘‘ قاسمی صاحب نے یہ افسانہ جب لکھا تھا اس وقت تک برصغیر آزاد نہیں ہوا تھا اور وہ نہیں جانتے تھے کہ کچھ برس جاتے ہیں جب ہندوستان اور پاکستان دونوں اپنے لیے جنت کا یہ دروازہ کھول لیں گے۔

وہ مٹی کی چادر اوڑھ کر سوگئے ہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہوکہ مٹی کی اس چادرکو سمیٹتا ہواپرمیشر سنگھ باہر نکل آئے اور سپاہیوں کی گولی سے زخمی ران پرکس کر پگڑی بندھتے ہوئے ان سپاہیوں سے پوچھے ’’مجھے کیوں مارا تم نے۔ میں تو اخترکے کیس کاٹنا بھول گیا تھا ۔ میں تو اخترکو اس کا دھرم واپس دینے آرہا تھا یارو ۔‘‘

لاہورکی مٹی میں پیرزادہ احمد ندیم اور پرمیشر سنگھ ایک دوسرے کے گلے میں بانھیں ڈالے آرام کر رہے ہیں۔ خالق و تخلیق کیسے شیروشکر ہوئے ہیں ۔کس کی مجال ہے کہ احمد ندیم قاسمی کو پرمیشر سنگھ سے جدا کرسکے ۔کس کی ہمت ہے کہ اس افسانے کوگریہ کیے بغیر پڑھ سکے اور اسے فراموش کرسکے۔ میں پنجاب کے اس پریم چند کو یاد کرتی ہوں جس کے پیر آخری لمحے تک رکاب سے نہیں نکلے۔

بشکریہ ایکسپریس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں