مفتی پوپلزئی اور قومی یکجہتی


salim javedافسوس کی بات ہے کہ رمضان اور عید کے چاند کے لئے، پشاور میں مفتی پوپلزئی کی بیٹھک کو، کچھ دوستوں نے، پختوںوں پہ جگتوں کا بہانہ بنا لیا ہے۔ کچھ مسخرے یہ کہتے ہیں کہ”نسوار سے چاند صاف نظر آتا ہے” تو کچھ دانشور یہ فرماتے ہیں کہ “پوپلزئیی، قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہا ہے”۔

اگرچہ خاکسار کی ذاتی رائے یہ ہے کہ بدلتے زمانے میں رویت ھلال کو کمپیوٹرازیڈ کیلنڈر کے ساتھ منسلک کیا جائے پر ظاہر ہے کہ فردی رائے، سپیشلسٹ لوگوں کی صوابدید پہ منحصر ہوگی۔ فی الوقت، میں مفتی پوپلزئی صاحب کی کمیٹی کے دفاع میں چار بنیادی باتیں، آپ کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔

پہلی یہ کہ مفتی پوپلزئی نے کوئی قانونی یا شرعی جرم نہیں کیا، دوسرے، سرکاری کمیٹی کا طریقہ کار ٹھیک نہیں، تیسرے، رویت ہلال سے قومی یکجہتی کو کوئی تعلق نہیں اور چوتھے، رویت ہلال حکومت کا خود ساختہ مسئلہ ہے جس سے علماء کو بدنام کرنا مقصود ہے۔ ذیل کے چار پیراگراف، انہی چار عنوانات کی تشریح ہیں۔

دیکھئے، جنرل ضیاء الحق نے مولویوں کا معدہ بھرنے، رویت ہلال کمیٹی کا خاکہ بھی نہیں سوچا تھا، اس سے کئی عشرے پہلے سے مسجد قاسم علی خان پشاور میں چاند کی شہادات کی بیٹھک منعقد ہوا کرتی تھی۔ واضح ہو کہ کوئی مسلمان حکومت (چاہے نام کی مسلمان ہی کیوں نہ ہو)، جب کسی کام کے لئے، ایک محکمہ متعین کرتی ہے تو اسکے مقابل، کسی مسلمان کو نافرمانی کرتے ہوئے، ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بنانا چاہئے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا رویت ھلال کمیٹی، ایک مشاورتی ادارہ ہے یا محکمہ؟ اگر یہ محکمہ ہے تو اسکو آئینی اختیارات برائے تعزیر و سزا دینا ضروری ہیں (حتی کہ نیشنل ہائ وے اتھارٹی کو بھی سزا دینے کے کچھ اختیارات حاصل ہیں مگرہمارے مفتی منیب کو صرف بیان دینے کا حق ہے)۔ اس صورت میں، پھر اس رویت ھلال محکمہ کے مقابل، اگر مفتی پوپلزئی اپنی کمیٹی بٹھائے گا تو نہ صرف مجرم ہوگا بلکہ گناہگار بھی ہو گا۔ تاہم اگر حکومت نے اس کمیٹی کو ابھی تک صرف مشاورتی کمیٹی بنا رکھا ہے( جیسے قائمہ کمیٹی برائے دستوری اصلاحات وغیرہ) –اس صورت میں،غیر سرکاری علماء کو اپنی کمیٹیاں بنانے کا حق حاصل ہے۔ (خصوصا پوپلزئی جیسے علماء جن کے آبا و اجداد کے دور سے لوگ ان کی اس خاص معاملے میں راہنمائی چاہتے ہیں)۔ اب آپ فیصلہ کیجئے، پوپلزئی کا جرم کیا ہے؟

دوسری بات یہ کہ سرکاری کمیٹی سنجیدہ ہے ہی نہیں ورنہ چاہئے تھا کہ یہ مفتی پوپلزئیی کے گواہوں سے بھی رابطہ کر کے پوچھتی، آخر اس کے گواہ، دوسرے سیارے سے تو نہیں آتے؟ پھر، اس کمیٹی کا اعلان کتنا غیر شرعی، غیر منطقی ہے۔ آپ ذرا اس اعلان پر غور کریں۔ “پورے ملک میں رمضان کا چاند نظر نہیں آیا”۔ بھائی لوگو! گواہی، وقوعہ دیکھنے کی ہوتی ہے، وقوعہ نہ دیکھنے کی نہیں ہوا کرتی۔ اگر 20 کروڑ کے ملک میں 8 آدمیوں نے قتل ہوتے دیکھا تو ان شاہدین کی بنیاد پی مقدمہ چلے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ کروڑوں لوگوں نے قتل ہوتے نہیں دیکھا۔ حالانکہ، شرعاً اس اعلان کو یوں ہونا چاہئے تھا کہ” پورے ملک سے ہم کو چاند دیکھنے کی کوئی شہادت ابتک موصول نہیں ہوئی”۔ (ان دونوں جملوں میں زمین آسمان کا فرق ہے)۔ اس بنا پر، پشاور کے جن 8 اشخاص نے مفتی پوپلزئی کو گواہی دی تھی، ان پر جرح ہونا ضروری تھی۔ اور گواہی کا ٹائم،29 شعبان کے آخر تک یعنی 30 شعبان کی صبح کی نماز تک ہے۔ ساری رات گواہان کا انتطار کیا جا سکتا ہے( ورنہ تو چاند صرف 50 سیکنڈ کیلئے ہی نظر آتا ہے)۔ پھر چاند دیکھنے کا بھی عجیب مضحکہ خیز منظر ہوتا ہے جب رویت ہلال والے، F۔ 16 جتنی دوربین سے عینک لگائے، چاند کا چہرہ ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں۔ بھائی، شریعت میں نارمل آنکھ سے چاند دیکھنے کا حکم ہے، آلات سے دیکھو گے تو چاند کبھی ٖغائب ہوتا ہی نہیں ہے بھائی۔ اب آپ بتائیے، پوپلزئی، اس کمیٹی کے ساتھ بیٹھ جائے اور اختلاف کرے تو کہیں گے فسادی ہے، انکے ساتھ حق میں ہو جائے تو کہیں گے کہ بک گیا ہے۔

تیسری بات یہ کہ قومی یکجہتی کا انحصار،ایک ہی دن عید منانے پر نہیں۔ آپ کو پہلے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ عید کا دن، ایک اسلامی عبادت ہے یا قومی تہوار؟۔ اگر یہ اسلامی عبادت کا دن ہے تو کسی نصِ قرآنی سے بھی پوری امت کا ایک دن عید منانا ضروری ثابت نہیں ہوتا۔ اگر یوں ہوتا تو پھر کراچی اور پشاور کی نماز کے اوقات بھی گھڑی کے مطابق ایک کرنا پڑتے تاکہ قومی یکجہتی نصیب ہو جائے۔ اگر سعودی عرب، ایران وغیرہ کے چاند کی تاریخ پر اعتراض نہیں، حالانکہ وہ بھی ایک ہی امت ہیں تو اس معاملے میں، پختونخواہ کو بھی الگ سمجھ لیا جائے تاکہ دوستوں کی بے چینی ختم ہو۔ کبھی علماء سے اس حدیث بارے بھی پوچھیں کہ ایک بدو قبیلہ، رمضان کے آخری دن، مدینہ آتا ہے، حضور(ص) کی زیارت کرتا ہے، ان کے صاف کپڑے دیکھ کر، حضور استفسار فرماتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں شوال کا چاند نظر آگیا تھا پس ہم نے عید کرلی۔ حضور کوئی جرح و تنقید نہیں فرماتے بلکہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں ابھی نظر نہیں آیا۔ اب سوچئے، وہ لوگ مدینہ سے کتنا دور رہتے ہون گے جو اسی روز مدینہ پہنچ گئے۔ کیا وہ بوئنگ پہ اڑ کر آئے تھے؟ قومی یکجہتی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ عید قربان تو ایک ہی دن منائی جاتی ہے، سو اس سے کتنی قومی یکجہتی حاصل ہوئی؟

چوتھے یہ کہ حکومت نے یہ رویت ہلال کمیٹی کا سارا پاکھنڈ، اسلام اور مولویوں کو بدنام کرنے کے لئے گھڑا ہے۔ اگر حکومت، قومی یکجہتی کی بات میں بدنیت نہ ہوتی تو سرکاری کمیٹی کے مقابلے میں بیٹھنے والی کسی بھی کمیٹی کو موقع پر گرفتار کیوں نہیں کرتی؟ کیا سرکاری پرائس کنٹرول کمیٹی کے ہوتے ہوئے کسی اور کمیٹی کو نرخنامے کے اعلان کی اجازت دی جا سکتی ہے؟

معلوم ہوا، حکومت خود علماء کا تمسخراڑانا چاہتی ہے۔ بالفرض، اگر عید کو ہم اپنا قومی تہوار بھی سمجھ لیں تو اس میں بھی قصور پوپلزئی کا نہیں بلکہ حکومت کا ہے۔

اب چند باتیں، پختونخواہ سے باہر رہنے والے دوستوں کے لئے۔

پختونخواہ میں چاند دیکھنے میں غلطی ہو یا نہیں مگر یہ طے ہے کہ وہ روایتی طورپر رویت ھلال کو اپنا کام سمجھتے ہیں۔ پٹھان اور روزے کا ربط مشہور ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ ایک پٹھان نے ہندو مذہب قبول کرلیا۔ مگر رمضان آیا تو روزے شروع کردئے۔ پنڈت نے کہا کہ تم تو اب ہندو ہوگئے، روزے کیوں رکھ رہے ہو؟ اس نے کہا”ہندو تو ہوا ہوں لیکن پٹھان بھی تو ہوں نا”۔

خود پختونخواہ کے اندر بھی رویت ہلال میں فرق رہا ہے۔ خاکسار نے 1992 میں 32 روزے رکھے۔ بونیر(ڈگر) میں روڈ بنوا رہا تھا کہ رمضان ہوگیا۔ پشاور میں ایک دن بعد، اور ڈیرہ یعنی میرے آبائی علاقے میں عید، حکومت کے ساتھ، اسکے ایک دن بعد ہوئی۔

یادش بخیر! ڈگر کے ایک گاؤں کی مسجد میں بارہ گھڑے رکھے تھے جن میں مٹی بھری تھی اور ہر ایک میں ایک کھجور کی ٹہنی لگی تھی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ہر گھڑا،ایک اسلامی مہینہ کا چانددیکھنے کےلئے ہے اور ٹہنی کا رخ، آسمان میں اس جگہ ہے جہاں چاند کا نظر آنا ممکن ہے۔ یہ ہے اسلاف کا رویت ہلال کےلئے اہتمام!

اس کے باوجود، اگر پوپلزئی کے ساتھ کسی کو اختلاف ہے تو بھی اتنا سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ نہ تو پوپلزئی نے لاہور جا کر اپنا اجلاس کیا ہےنہ ہی پشاور میں کسی کو ڈنڈے کے زور سے روزے رکھوا رہا ہے۔ کسی نے اسکے ساتھ روزہ نہیں رکھنا تو نہ رکھے۔ اتنی سی بات ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مفتی پوپلزئی اور قومی یکجہتی

  • 06-06-2016 at 10:17 pm
    Permalink

    انتہائی خوبصورت مدلل اور پر تاثیر تحریر.
    ابھی ایک وال پہ ایک صاحب کی جانب سے رمضان کے حوالے سے مبارکباد کا کمنٹ نظر سے گزرا.مبارکباد ندارد مگر پوپلزئی صاحب اور پشاور (بادی النظر میں پشتونوں) کی طرف رخ سخن کر کے طنز کے تیر ضرور چلائے تھے.حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں ایسی ذہنیت پر.

Comments are closed.