شہباز شریف کی گرفتاری کے سیاسی اثرات


شہباز شریف کو ریمانڈ پر دس روز کے لئے نیب کے حوالے کردیا گیا ہے۔ انہیں سستے گھر بنانے کے ایک منصوبہ آشیانہ سکیم میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے سلسلہ میں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت شہباز شریف جو مسلم لیگ (ن) کے صدر ہونے کے علاوہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ، صاف پانی کے ایک دوسرے مقدمہ میں نیب کے دفتر گئے ہوئے تھے۔ دوران تفتیش انہیں آشیانہ سکیم سکینڈل میں گرفتار کیا گیا اور آج نیب عدالت سے ان کا دس روز کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے طور پراختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں نیب نے ملک کی اہم پارٹی کے سربراہ کو گرفتار کیا ہے۔ یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسین فواد کے انکشافات اور اور سیاسی دباؤ کے الزامات کے بعد شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ فواد حسین فواد کے علاوہ شہباز شریف کے قریب جانے والے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ احد چیمہ بھی کئی ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔ وہ بھی آشیانہ سکیم میں بے قاعدگیوں کے الزام میں ہی گرفتار کئے گئے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے علاوہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی شہباز شریف کی گرفتاری پر احتجاج کیا ہے۔ سرادار ایاز صادق کی سربراہی میں اپوزیشن کے ارکان ِقومی اسمبلی پر مشتمل ایک وفد نے آج قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سے ملاقات کی اور ان سے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر بحث کے لئے فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم اسپیکر قومی اسمبلی جنہیں قواعد کے مطابق نیب نے شہباز شریف کی گرفتاری سے پہلے مطلع کردیا تھا، قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلانے پر تیار نہیں ہیں ۔ اپوزیشن کے وفد سے انہوں نے یہی کہا ہے کہ وہ دو ہفتے میں اجلاس بلائیں گے۔ اس معاملہ میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سرد مہری کے علاوہ وزیر اطلاعات کے اس بیان نے بھی اپوزیشن کی تشویش اور سیاسی انتقامی رویہ کی افواہوں میں اضافہ کیا ہے کہ ابھی تو ایک شخص گرفتار ہؤا ہے۔ ابھی اور بہت سی گرفتاریاں ہوں گی۔ فواد چوہدری نے اگرچہ یہ بھی کہا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور یہ نیب کا دائرہ اختیار ہے اور اسی نے یہ اقدام کیا ہے لیکن میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے نمائیندے جب اسی سانس میں یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ ابھی مزید بڑے لوگ گرفتار ہوں گے تو اسے احتساب کو سیاسی بنانے کا مزاج ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو ابھی اقتدار سنبھالے دو ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں اور قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں اسے معمولی اکثریت سے حکومت بنانے کا موقع ملا ہے۔ ایسے سیاسی ماحول میں وفاقی وزیر اطلاعات کی غیر ذمہ دارانہ اور کسی حد تک اشتعال انگیز گفتگو ملک میں سیاسی حالات کو مزید پیچیدہ اور کشیدہ کرے گی۔ حکومت اگر احتساب کو قومی احتساب بیورو کی ذمہ داری اور دائرہ اختیار سمجھتی ہے تو اس کے نمائیندوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف اب اپوزیشن میں نہیں ہے بلکہ اس پر اب ملک کے سیاسی اور انتظامی امور کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری عائد ہے۔ پارٹی اور حکومت میں شامل اس کے نمائیندوں کو اس حوالے سے اپنی سیاسی اور آئینی حدود کا پتہ بھی ہونا چاہئے اور ان کے طرز عمل اور گفتگو سے اس کا اظہار بھی ہو نا چاہئے ۔ ورنہ احتساب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے الزامات کا جواب دینا آسان نہیں ہو گا۔

بدعنوانی کا خاتمہ اور ملک کے بڑے سیاست دانوں کی بد عنوانی کو سامنے لانے اور اس پر انہیں سزا دلوانا تحریک انصاف اور عمران خان کا سیاسی سلوگن رہا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد بھی وزیر اعظم کے علاوہ حکومت کے دوسرے نمائندے گاہے بگاہے اس نعرے کو حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے اور اہم معاملات پر غیر واضح پالیسیوں کی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان کی دھؤاں دار تقریر میں بھی ان الزامات کی گونج سنائی دی تھی۔ پھر نیب کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نومنتخب وزیر اعظم سے ملاقات کی اور عمران خان نے انہیں احتساب کے عمل میں ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ یہ ملاقات کرپشن کو سیاسی نعرہ بنانے والی سیاسی پارٹی کے ہمدردوں کو خوش کرنے کے لئے تو شاید ضروری تھی لیکن اصول قانون اور عدل کی فراہمی کے تناظر میں یہ فاؤل پلے تھا۔ قومی احتساب بیورو ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس کے سربراہ کو اپنا کام کرنے کے لئے کسی حکومت سے سرپرستی کی درخواست کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی حکومت نیب کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کے باوجود جب وزیر اعظم نیب کے سربراہ سے ملتے ہیں اور انہیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں تو یہ رویہ اداروں کی خود مختاری پر سوالیہ نشان کے طور پر سامنے آتا ہے۔

پاکستان کا احتساب بیورو اپنے طرز عمل اور طریقہ کار کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اس ادارے کی اصلاح کے بارے میں ماضی میں بھی بات ہوتی رہی ہے اور نئی حکومت کو احتساب کو حقیقی بنانے کے لئے بھی احتساب بیورو کے سربراہ کی سرپرستی کا اعلان کرنے کی بجائے مؤثر قانون سازی کے ذریعے یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ملک میں اگر چہ کسی کی بھی بدعنوانی کو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن کسی کے ساتھ سیاسی بنیاد پر یا کسی بھی دوسری وجہ سے زیادتی بھی نہیں ہوگی۔ نیب کے معاملات میں حکومتی نمائیندوں کے تبصرے اس تاثر کے برعکس رائے ہموار کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ نیب کے سربراہ بھی اپنے بیانات اور طریقہ کار کی وجہ سے گناہ گاروں کا احتساب کرنے سے زیادہ خود شہرت پانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے طریقہ کار سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ نیب ایک مخصوص ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے مشن پر کاربند ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ ایک برس کے دوران شریف خاندان کے خلاف نیب کی مستعدی کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ملک کے دو بڑے سیاسی خاندانوں کے علاوہ باقی سب نیک چال چلن کے مالک ہیں اور اگر شریف خاندان اور زرداری کی کرپشن کا سراغ لگا کر انہیں سزا دلوا دی گئی تو ملک کے سارے دلدر دور ہوجائیں گے۔ یہ تاثر قوی کرنے میں خواہ نیب کے چئیرمین کردار ادا کریں یا فواد چوہدری کے بیانات اسے مضبوط کریں لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وقتی طور پر شور مچانے اور نعرے لگانے کے باوجود حقیقی احتساب نہیں ہوسکے گا ۔

نیب کی کارکردگی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جج بھی برہمی کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا معطل کرنے کا جو تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے ، اس سے بھی یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ نیب اپنا ہوم ورک نہیں کرتی۔ سپریم کورٹ کی سرپرستی کے علاوہ پورے نظام کے وسائل پر دسترس رکھنے کے باوجود نیب مناسب شواہد اکٹھے کر نے اور قانونی لحاظ سے مضبوط مقدمہ پیش کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس سال مئی میں ایک غیر معروف اخبار کے ایک تین ماہ پرانے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نیب نواز شریف کے خلاف 4,9 ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کے الزام کی تحقیق کررہی ہے۔ یہ کالم ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کی ناقص تفہیم کی بنیاد پر لکھا گیا تھا۔ قومی احتساب بیورو کے سربراہ بھی جب میڈیا میں شہرت پانے کےشوق میں حقائق کو سمجھنے اور تلاش کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوں تو اسے احتساب کے عمل کے لئے افسوسناک صورت حال ہی کہا جاسکتا ہے۔

ملک میں چند روز میں ضمنی انتخاب ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات قومی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی سیاسی قوت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امید وار ہی تحریک انصاف کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔ ان انتخابات سے عین پہلے شہباز شریف کی گرفتاری کے سیاسی مقاصد اور پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ کرپشن کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاست دانوں کا احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن اگر ملک میں احتساب کا ادارہ صرف ایک خاندان اور ایک سیاسی جماعت کا راستہ روکنے کے لئے استعمال ہو گا تو اس کے بارے میں شبہات پیدا ہونا اور سوال اٹھنا ناگزیر ہے۔ پاکستان میں حکومتی ، عدالتی اور سیاسی معاملات کو خلط ملط کیا گیا ہے۔ اسی لئے شہباز شریف کی گرفتاری سے یہ شبہ قوی ہورہا ہے کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ خاص طور سے اگر یہ پہلو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ نیب نے گزشتہ ایک برس کے دوران اسٹبلشمنٹ اور نواز لیگ کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کے بعد سے شریف خاندان کے خلاف مقدمات کھولنے اور ان پر تیزی سے کارروائی میں سرگرمی دکھائی ہے۔ پاناما پیپرز میں چار سو کے لگ بھگ پاکستانیوں کے نام تھے لیکن سپریم کورٹ کے علاوہ نیب نے بھی صرف نواز شریف کو مجرم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ حالانکہ ان کا نام بھی ان انکشافات میں شامل نہیں تھا۔

 شہباز شریف کو اب بدعنوانی کے ایک معاملہ میں تحقیقات کے لئے گرفتار کیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی کے بعد تفتیش مکمل ہونے اور ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے سے پہلے ایسی ہائی پروفائل گرفتاری سنسنی خیزی اور ملک میں سیاسی اور سماجی ہیجان پیدا کرنے کے علاوہ کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتی۔ اس قسم کے اقدامات کا نیب کے علاوہ حکومت کی نیک نامی کو بھی شدید نقصان ہوگا۔ جس کی قیمت بالآخر اس ملک اور قوم کو ادا کرنا پڑے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1003 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali