خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے پاکستانی مدر ٹریسا ایوارڈ کے حقدار


پاکستان کے صوبے پنجاب میں عورتوں پر تشدد کے سدِباب کے لیے کام کرنے والے سلمان صوفی کو 2018 کا مدر ٹریسا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

اس برس جن دیگر شخصیات کو یہ انعام دیا جائے گا ان میں نوبیل انعام یافتگان شریں عبادی، توکل کامران، نادیہ مراد کے علاوہ افغان خاتون اوّل رولا غنی اور دیگر عالمی شخصیات شامل ہیں۔

پاکستانی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اور بلقیس ایدھی کو بھی اس سے قبل اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ انعام پانے والوں میں دلائی لامہ اور مہاتر محمد جیسی شخصیات بھی شامل ہیں۔

ہارمنی فاؤنڈیشن کی جانب سے سلمان صوفی کو بھیجے گئے دعوت نامے کے مطابق، سلمان صوفی پنجاب میں خواتین پر تششد کو روکنے سے متعلق قانون ‘پنجاب پروٹیکشن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016 کے مصنف اور وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹر کے بانی ہیں۔

ہارمنی فاؤنڈیشن کے بانی چیئرمین ابراہم متھائی سلمان صوفی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں صنفی مساوات کے لیے ان کی خدمات گراں قدر ہیں۔

‘ہم صنفی مساوات کے شعبے میں تیس سے زیادہ اصلاحات متعارف کروانے میں آپ کی کارکردگی کے معترف ہیں۔ خاص طور سے ‘پنجاب پروٹیکشن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016′ اس شعبے میں آپ کے ملک میں پہلا جامع قانون ہے۔’

انعام دینے کی تقریب اکیس اکتوبر کو بھارتی شہر ممبئی میں منعقد ہو گی۔

یہ اعزاز امن، مساوات، اور سماجی انصاف کے شعبوں میں گرانقدر خدمات انجام دینے والے افراد اور تنظمیوں کو دیا جاتا ہے۔

مدر ٹریسا سے اظہار عقیدت کے لیے یہ واحد ایوارڈ ہے جس کا اہتمام مشنریز آف چیریٹی کے تحت کیا جاتا ہے۔

سلمان صوفی پنجاب کے سٹریٹیجک ریفارمز یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے ہیں۔

اس سے قبل انھیں 2017 کے وائسز آف سالیڈیریٹی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ان کے ساتھ اس فہرست میں سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید بن رعد حسین اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش شامل تھے۔

یہ اعزاز ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنھوں نے دنیا بھر میں عورتوں پر تشدد روکنے کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔

مدر ٹریسا کون تھیں

مدر ٹریسا کی پیدائش البانیہ میں ہوئی تھی لیکن جب وہ بیس برس کی تھیں تب وہ ہندوستان آ گئی تھیں اور اس کے بعد انہوں نے ہندوستان میں رہ کر غریب اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے پوری عمر کام کیا۔ 1979 میں مدر ٹریسا کو امن کے لیے نوبل اعزاز سے نوازہ گیا۔

1997 میں ان کی موت کے بعد 2003 میں رومن کیتھولک عیسائیوں کے مقدس شہر ویٹیکن میں پاپائے روم پوپ جان پال (دوئم) نے، پاپائیت کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر بھارتی شہر کلکتہ میں خود کو خدمت خلق کے لیے وقف کر دینے والی مدر ٹریسا کو ‘ بابرکت’ شخصیت قرار دیا تھا۔

کولکتہ میں غریب اور بیمار لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنی زندگی وقف کرتے ہوئے 1949 میں مدر ٹریسا نے مشنریز آف چیریٹی کاآغاز کیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5673 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp