سُولی پر لٹکتی فرزانہ


yousaf Benjaminما ہ جون کی شدید گرمی تھی، لُو ایسی چل رہی تھی کہ جسم جھُلسائے جاتی تھی، خون پسینہ ایک ہوئے جا تا تھا اور دن کا یہ تیسرا پہر تھا۔ چند بچے کھُلے گٹروں سے کھیل کود کے لئے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ دو مزدور سر منہ ڈھانپے بانس اُٹھائے روزگار کی تلاش میں تھے۔ آبادی کے عین بیچوں بیچ برسوں پرانے بدبودار جوہڑ کے مینڈک پانی کی تہہ میں جا چھُپے تھے۔ گلی میں دیواروں پر معمولی معمولی چھاﺅں اُتر رہی تھی۔ قریب ہی دو کُتے اُس چارپائی کے نیچے گیلی جگہ پر آرام فرما رہے تھے جس پر کچھ خواتین محلے کی فرزانہ (فرضی نام) پر بیتی کسی دکھ بھری کہانی کا تذکرہ کر رہی تھیں تو یہ رُوداد سُننے کو ہمار ے قدم بھی رُک گئے ۔

فرزانہ کا گھر لاہور میں یوحنا آباد کے اُس پار کی آبادی میں گلی کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ شہر کا یہ گنجان آباد علاقہ مناسب شہری سہولیات اور عوامی نمائندوں کی توجہ سے محروم ہے۔ فرزانہ کے گھرکی چار دیواری اُسی طرح برائے نام اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے جس طرح سماج میں رائج متعصبانہ قوانین، تھانوں کی غیر معیاری تفتیش اور عوامی اعتماد سے محروم نظامِ انصاف۔ معاشی حالات کی بد حالی فرزانہ کو عزت کی زندگی جینے نہیں دیتی اور روز کی روٹی کی فکر اُسے ہر روز کُھن کی طرح کھائے جاتی ہے۔

فرزانہ کے کس کس غم کا راگ چھیڑا جائے؟ اُس کی انتہائی غربت اور پسماندگی کا؟ یا سماج کی اک معمولی سی عورت ہونے کا؟ خاندان کے افراد کے عدم تحفظ کا؟ یا دیمک زدہ نظامِ ریاست کا؟ فرزانہ کے فطری طور پر مسیحی گھرانے میں پیدا ہونے کا؟ یا غیر فطری طور پر جبراً تبدیلی مذہب کا؟ فرزانہ کے جیون کے ہر موڑ پر کانٹوں کا تاج اُس کا منتظر رہا، یہاں تک کہ انتہائی کرب کے دنوں میں اُس نے گھر کے درو دیوار کے اندر بھی کربلا کا تجربہ کیا ہے۔ اُسے اپنے مسیحی عقیدے سے دائمی وفاداری کی قیمت اُس وقت چُکانا پڑی جب اُس نے تبدیلی مذہب کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور نتیجتاً آج گویا سُولی پر لٹک رہی ہے۔

یہی کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے فرزانہ اپنے معمولاتِ زندگی خوب نبھا رہی تھی۔ اُسے چلنے پھرنے کے لئے کسی سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ محلے کی ہر خوشی غمی میں شریک ہوتی اور اپنے تیئں خوشحال زندگی بسر کر رہی تھی ۔ فرزانہ کی یہ خوشحالی اُس وقت دم توڑ نے لگی جب اُس نے تبدیلیِ مذہب کی ایک دبی دبی اور خاموش سی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ خوفناک دھمکیاں روز کا معمول بن گئیں۔ کھیل ہی کھیل میں بچوں کا لڑنا جھگڑنا بہانے بننے لگا۔ ہر وقت شوہر اور بچوں کے تحفظ کا سوچ کر دل بیٹھنے لگا۔ بیٹی کو نظرِ بد سے بچانے کے لئے نہ صرف اُس کی تعلیم کی قربانی دینی پڑی بلکہ کسی بڑی انہونی سے بچنے کے لئے وقت سے پہلے ہی اُس کے ہاتھ بھی پیلے کر دئیے۔

”اُن لوگوں نے آخر کار بچوں کے معمولی جھگڑے کو بنیاد بنا کر میرے گھر پر حملہ کر دیا۔ اسلحہ کی نوک پر گلی کے مرد و زن کو بھی شدید زدوکوب کیا گیا۔ بحث مباحثہ کے دوران پستول کی ایک گولی میری داہنی ٹانگ میں جا کھُسی تو لگا آسمان آن گرا ہے“۔زخمی بدن اور زخمی روح کا ملن کسے کہتے ہیں وہ فرزانہ کے چہرے سے عیاں تھا۔اُس کے حلق سے نکلتا اک اک لفظ سماجی تہذیب اور مذہبی آزادی کے پرخچے اُڑا رہا تھا۔

”پرچہ درج ہوا، جیسی تیسی تحقیقات ہوئیں،کوئی ایک آدھ گرفتاری بھی ہوئی، پھر پرچہ واپس لینے کے لئے دباﺅ ڈالا جانے لگا، لالچ دیا گیا، دھمکیاں ملنے لگیں تو جان ومال کی فکر کھانے لگی۔ کئی سیانے بیچ آن ٹپکے ، لہٰذا آخر کار معاف بھی کرنا پڑا اور صلح بھی کرنی پڑی کیونکہ بچوں کی زندگی جو عزیز ہے میاں!“، فرزانہ نے لمبی سانس لے کر آخری جملہ مکمل کیا تو ”معافی اور صلح“ کا سارا پول اُس کے آنسوﺅں نے کھول کر رکھ دیا جنہیں پاس بیٹھی اُس کی بیٹی اپنے ململ کے ڈوپٹے سے بار بارصاف کئے جاتی تھی۔

فرزانہ اب ایک ٹانگ سے تقریباً اپاہج ہونے کے قریب ہے۔ محدود وسائل کے باوجود صحت یابی کی کوششیں بہرحال جاری ہیں۔ اب تک کے طویل علاج کے اخراجات نے خاندان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ فرزانہ کی ٹانگ اب حرکت کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہو چکی ہے۔ ٹانگ پر جگہ جگہ سے ریشہ رِسنے لگا ہے۔ لاکھوں روپے، درجنوں ڈاکٹر اور حکیم، سینکڑوں دوائیاں اور لاتعداد ٹیسٹ ابھی تک فرزانہ کو اس سُولی پر سے نہیں اُتار سکے جس پر وہ گزشتہ دو سال سے لٹک رہی ہے۔

” میں بس اپنی ٹانگ پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں“ اِس معصومانہ خواہش کے اظہار کے بعد جب فرزانہ کے آنسو بالکل بھی تھم نہ سکے تو میں بھی اپنی آنکھیں ملتے ہوئے باہر نکل آیا۔


Comments

FB Login Required - comments