گینگ ریپ کا شکار ہونے والی انتھک عابدہ تھک کیسے گئی


وہ عابدہ (عابدہ کی درخواست پر اصلی نام استعمال کر رہا ہوں) کے گینگ ریپ والے مقدمے کے فیصلے کا دن تھا۔ کوئی آٹھ دس خواتین و حضرات عابدہ کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہمدردی کی خاطر ضلح کچہری راولپنڈی میں موجود تھے۔ یہ خواتین و حضرات عابدہ کے رشتہ دار نہیں تھے۔ بلکہ یہ وہ لوگ تھے جو عورتوں پر کسی بھی قسم کے تشدد کے مخالف ہیں اور اس پر آواز اٹھاتے ہیں۔ آج فیصلے کا دن تھا اور سیشن جج صاحب نے شام کا وقت دے رکھا تھا۔

سورج غروب ہونے سے تھوڑا پہلے جج صاحب جب تشریف لائے تو کورٹس بالکل خالی تھیں۔ ایک شدید خوف کا عالم تھا۔ عابدہ اور اس کے ساتھ انتظار کرنے والے سبھی سہمے سہمے اور خاموش تھے۔ اتنے شدید جرم کے لیے عدالتی فیصلے کا منظر شاید ان میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھ رکھا تھا۔ انہیں ہر طرف جیسے موت کے سائے منڈلاتے ہوئے نظر رہے تھے۔ گو کہ اس کیس کے لیے انہوں نے بہت محنت کی تھی اور فیصلے کی یہ گھڑی کوئی دو سال کے انتظار کے بعد آئی تھی لیکن پھر بھی خوف اور بے یقینی کی کیفیت انتہا پر تھی۔

جج صاحب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو ان کے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹی سی فوٹو البم تھی جو انہوں نے بیٹھتے ہی اپنے سامنے میز پر رکھ دی۔ اگلے چند لمحوں میں پولیس والے لوہے کی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے چار ملزم نوجوانوں کو کمرہ عدالت میں لائے اور انہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ کوئی وکیل نہیں تھا۔ ان چاروں ملزموں کا کوئی رشتہ دار یا دوست وہاں نہیں تھا۔ کمرہ عدالت میں صرف سیشن جج صاحب، گینگ ریپ کے چار ملزمان، اس ظلم کا شکار ہونے والی عابدہ، عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والے کوئی آٹھ خواتین و حضرات اور چند پولیس والے تھے۔ پولیس والے جج صاحب کے احکامات بجا لانے کے لیے نہایت مستعد نظر آ رہے تھے۔

جج صاحب کا چہرہ بہت پر سکون تھا۔ انہوں نے اپنے سامنے رکھی ہوئی وہ چھوٹی سی فوٹو البم اٹھائی اور اس کے پنے پلٹنے شروع کر دیے۔ وہ فوٹوز کو دیکھتے اور ساتھ ساتھ ملزموں کو بھی دیکھتے تھے۔ جج صاحب نے دفعہ کئی فوٹوز پر رک کر ملزموں کے مختلف پوز بھی بنوائے۔ دو ملزمان کی قمیضیں بھی اتروائیں اور ان کے جسم نشانات کا فوٹوز کے ساتھ موازنہ کیا۔ آخر میں جج صاحب نے باری باری کئی فوٹوز البم سے نکال کر پولیس والے کو تھمائے اور انہیں حکم دیا کہ یہ فلاں مجرم کو دکھاؤ اور پھر جج صاحب ملزم سے یہ پوچھتے کہ یہ فوٹو تمہارا ہی ہے نا۔ کسی ملزم نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان چار ملزموں نے جب عابدہ کو دن دھاڑے اغوا کیا اور پھر راولپنڈی شہر میں ہی کسی جگہ اس کا گینگ ریپ کیا تو اس وقت انہوں نے اپنے اس کارنامے کی کچھ ویڈیوز اور فوٹوز بھی بنائے تھے۔ ان کا مقصد شاید یہ ہو گا کہ آئندہ اس لڑکی کا ریپ کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور صرف اسے اس کے فوٹوز دکھا کر ہی کام چلا لیا جائے۔ ان فوٹوز میں صرف عابدہ ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی موجود تھے۔ وہ عابدہ کے مقابلے میں بہت طاقتور تھے اور صاف ظاہر ہے کہ ملزمان کو اپنی طاقت پر بے پناہ گھمنڈ تھا اسی لیے وہ بلا جھجھک اپنے اتنے گھناؤنے جرم کا ثبوت فوٹوز کی شکل میں ریکارڈ کرتے رہے۔ انہیں اپنی طاقت کا گھمنڈ تو تھا لیکن دوسری جانب ایک غریب اور مظلوم لڑکی کے ڈٹ جانے کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا۔

عابدہ نے مقدمہ درج کروا دیا اور بتایا کہ ملزمان نے فوٹوز بھی بنائے ہیں۔ پولیس نے کمال ہوشیاری سے ملزمان سے وہ فوٹوز برآمد کر لیے۔ کہتے ہیں کہ وہ فوٹوز ایک اعلی پولیس افسر نے دیکھے تو اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ ان ظالموں کو ان کے جرم کی سزا ضرور دلواؤں گا۔ وہ فوٹوز بھی مقدمے کی فائل کا حصہ بنے۔ بھلا ہو اس پولیس افسر کا جسے کوئی رشوت یا سفارش زیر نہ کر سکی اور کیس اپنی صحیح شکل میں عدالت تک پہنچ گیا۔ عابدہ کی خوش قسمتی جاری رہی۔ کیس ایسے نیک سیشن جج صاحب کے پاس لگا جو اپنی تنخواہ میں گزارا کرنے میں مشہور تھے۔ ان سے انصاف کی امید تھی۔ کوئی دو سال مقدمہ چلا۔ اس دوران عابدہ اور اس کے گھر والوں کو بے پناہ ہراسمنٹ برداشت کرنا پڑی۔ قتل اور اغوا کی دھمکیاں تو معمول ہی بن گئی تھیں۔ لیکن عابدہ ایک چٹان تھی، ڈٹی رہی۔

کیس کو تھوڑی بہت میڈیا کی توجہ بھی ملی جو مفید رہی۔

وہ نیک سیرت جج صاحب آج مقدمے کا فیصلہ سنانے کے لیے شام کو ہمارے سامنے عدالت لگائے بیٹھے تھے اور اپنے آپ کو مزید یقین دلانے کے لیے کہ وہ ٹھیک فیصلے پر پہنچے ہیں، ملزمان کو ان کے اپنے ہی بنائے ہوئے فوٹوز دکھا رہے تھے۔

فوٹوز کے ذریعے ہونے والی شناخت کی اس آخری مشق کے بعد جج صاحب نے ایک فقرے میں ان چاروں ملزمان کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ فیصلہ سننے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود عابدہ سمیت تمام عورتیں ایک دوسرے کے گلے لگ کر زور زور سے روئیں۔ عابدہ کی کوششیں رنگ لائیں۔ ایک مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا تھا۔

ملزمان اپیل میں فیڈرل شریعت کورٹ جا سکتے تھے، وہ گئے۔ بڑے بڑے وکیل کیے۔ مشہور زمانہ بابر اعوان صاحب بھی ملزمان کے لیگل پینل میں شامل ہوئے۔ لیکن مقدمہ بہت مضبوط اور سچ پر مبنی تھا۔ پھانسی کی سزا چاروں کے لیے برقرار رہی۔ اگلے مرحلے میں ملزمان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اسی دوران میں ایک ملزم نے جیل میں ہی خودکشی کر لی تو باقی تین رہ گئے۔

پچھلے آٹھ سال میں سپریم کورٹ میں کئی مرتبہ مقدمے کی تاریخ نکلی لیکن ملزمان کا وکیل کبھی پیش نہیں ہوا اور بیماری کا بہانہ چلتا رہا۔ وہ شاید مناسب وقت کے انتظار میں تھے۔ ابھی چند دن قبل اس مقدمے کی تاریخ نکلی اور ملزم کا وکیل حاضر ہو گیا۔ فیصلے نے تو ہم سب کو حیران کر کے رکھ دیا۔ تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ عدالت نے عابدہ کے گینگ ریپ کے ملزمان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عابدہ کے وکیل کو کسی حد تک ڈانٹ کے انداز میں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ گینگ ریپ کے بے چارے ملزمان نے جیل میں کتنی تکلیف کاٹی ہو گی۔

گینگ ریپ کے باعزت بری شدہ ملزمان اور ریپ کی گئی عابدہ ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ عابدہ کا کہنا ہے کہ اسے انصاف نہیں مل سکا۔ انصاف نہ مل سکنے کی وجوہات کا بھی عابدہ کو اندازہ ہے لیکن وہ ان وجوہات کا ذکر نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہ تھک گئی ہے اور اب ڈرتی بھی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اب وہ پہلے جیسی دلیر نہیں رہی کیونکہ وہ ایک بچے کی ماں ہے اور اسے کسی رسک میں نہیں ڈال سکتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 193 posts and counting.See all posts by salim-malik