کراچی اور قاتل ٹرائی اینگل


iqbal khurshidوہ دسمبر کی ایک خاموش اور سردرات تھی۔

گلیوں میں سراسیمگی پھیلی تھی۔ مردوں کے چہروں پر اندیشے۔ عورتیں متذبذب۔ نوجوان خود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے۔ یہ 1986 کا موسم سرما ہے، جب شہر لسانی فسادات کی لپیٹ میں تھا۔ سانحہ علی گڑھ رونما ہونے کو ہے۔ گوہر ایوب نے کراچی میں لسانیت کا جو بیج بویا تھا، اس سے پھوٹتی زہریلی بیلیں بڑی توانا ہوگئی تھیں۔

عورتوں اور بچوں کو محلے کے ایک گھر میں اکٹھا کر دیا گیا۔ خبر گردش میں تھی، کسی بھی وقت “ادھر سے“ حملہ ہو سکتا ہے۔ (شاید ”ادھر“ بھی اسی قسم کی کوئی خبر گردش میں ہو) مکان کے آہنی دروازے کے باہر مردوں کا پہرا تھا، جن کی اکثریت نہتی تھی۔ کچھ کے پاس ڈنڈے تھے، ایک آدھ کے پاس پسٹل۔ جلد وہ ”بوتل بم“ سے متعارف ہونے والے تھے۔ آہنی دروازے کے پیچھے بیٹھی عورتوں اور بچوں میں، ایک بچہ وہ بھی تھا، جو اِس پل یہ کہانی بیان کر رہا ہے۔ اور اس کی نظریں اس نوجوان لڑکی پر ٹکی تھیں، جس کا پیٹ بڑھا ہوا تھا، اور دانت بج رہے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا:” آج رات سردی تو ہے،مگر ایسی بھی نہیں۔ “

1986 میں جو کچھ ہوا، وہ شہر قائد کی تاریک تاریخ کا اٹوٹ انگ۔ بعد میں بھی کتنے عذاب آئے۔ اسلحہ، بھتا، ٹارچر سیل۔ آپریشن ، خندقیں، آہنی دروازے، ماورائے عدالت قتل۔ البتہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا، جس کا موازنہ 1986 کی اس سرد رات سے کیا جاسکے۔ ایک عفریت تھا، جو سو گیا تھا۔

اور وہ سویا ہی رہتا، اگر12 مئی 2007 کا وحشت ناک سورج طلوع نہیں ہوتا۔ حاکموں، لیڈروں، جرنیلوں، جیالوں،حق پرستوں کے مفادات نے اس آدم خور عفریت کو پھر جگا دیا۔ اس روز جو ہلاکتیں ہوئیں، وہ فقط ٹریلر تھیں۔ جو کچھ آگے ہونے والا تھا، اس کا تصور بھی محال تھا۔ موت کے عفریت نے قاتل رقص کا فیصلہ کر لیا تھا، مگر اس نے کچھ بر س انتظار کیا۔ وہ اطمینان سے ہتھیاروں کی دھار تیز کرتارہا، تاآں کہ کراچی میں ایک خونیں تکون نہ ظاہر ہوجائےاور یہ تکون تھی، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی کا اتحاد۔ وحشت کی نئی داستان لکھی جانی تھی، جس کے سامنے دسمبر 1986 کا سانحہ بھی ماند پڑنے کو تھا۔

اے این پی نے محنت کش پشتونوں کو اپنا دام میں پھنسانے کے لیے بارہ مئی کا کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور ساتھ ہی اپنے اکثریتی علاقوں میں جرائم کے فروغ کا سلسلہ شروع کر دیا طوفانوں میں پھنسی کراچی کی کشتی میں پہلا سوراخ ہو گیا۔

ایم کیو ایم نے ایم این پی کو دبانے کے لیے طالبان فوبیا کے فروغ کا فیصلہ کیا۔ گو اس بات سے انکار نہیں کہ کراچی میں مذہبی عسکریت پسندوں کو رہایش اور روپوشی کی حیران کن سہولیت میسر تھی (اور کچھ سہولیات کے لیے وہ ریاست کے ممنون ہوں گے)، مگر ایم کیو ایم کا مقصد اپنے ہمدردوں میں ایک خوف پیدا کرنا تھا، جس میں وہ کامیاب رہی۔ کشتی میں دوسرا سوراخ ہو گیا۔

ادھر پیپلزپارٹی بدترین جمہوری دور کی بنیاد رکھ چکی تھی۔ ایم کیو ایم اے این پی تصادم میں خاموش رہتے ہوئے وہ لیاری میں جرائم پیشہ گروہوں کو منظم کرنے میں جٹ گئی۔ اور یوں کراچی کی خستہ حالی کشتی ایک قاتل تکون میں داخل ہوگئی۔

 آنے والے برسوں میں کراچی میں لسانی فسادات کے اتنے واقعات،ایسے سانحات ہوئے، ایسی بربریت دیکھنے میں آئی، جس کا بیان ناممکن ہے۔ ہر سال، جب 12 مئی کا دن قریب آتا، اے این پی اور ایم کیو ایم کے درمیان زہریلے جملوں کا تبادلوں شروع ہو جاتا۔ نتیجہ پشتون مہاجر فساد کی صورت سامنے آتا۔ ہلاکتیں ہزاروں میں ہوئیں۔ اردو بولنے والے بھی ہلاک ہوئے، پشتون بھی، بلوچ بھی۔ اور ان کی نمایندگی کی دعوے دار جماعتیں بہ ظاہر گریہ کرتی ہوئی، مگر اندر سے مطمئن و مسرور۔ انھیں اپنے ہمدردوں سے زیادہ ان کی لاشیں درکار تھیں۔ سب کی جیبوں میں ایک فہرست، جسے وہ جذبات کی شدت میں لہراتے: ”ہمارے اتنے ووٹرز ہلاک ہوچکے ہیں!“

پیپلز پارٹی کا مفاد اسی میں تھا کہ اس کے اتحادی باہم دست و گریباں رہیں، اور اپنے وہ اپنے مفادات کا کھیل کھیلتی رہی۔ اگر کبھی ان برسوں کی حقیقی کہانی بیان ہوئی، تو لوگ تاتاریوں اور نازیوں کے مظالم بھول جائیں گے۔ قصہ طویل ہے مختصر یہ ہے کہ لسانیت کو فروغ دینے والی، کراچی کو آگ میں جھونکے والی، لاشوں پر سیاست کرنے والی یہ تکون 2013 میں یک دم بے معنی ہوگئی، تو ہم نے یہ منظر دیکھا کہ ٹی وی چینلز پر ان پارٹیوں کے نمایندے چہرے پر معصومیت سجائے، ایک دوسرے کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں ۔ جب کبھی وہ شکوہ کرتے: ”حضور، ہمیں الیکشن مہم نہیں چلانے دی جا رہی۔ “ دراصل وہ انسانی کھوپڑیوں کے ڈھیر پر کھڑے ہوتے تھے۔

سیانے کہتے ہیں،  انسان جو بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔ ممکن ہے، سیانے درست کہتے ہوں۔ آج ایم کیو ایم تو زیر عتاب ہے۔ شاید غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ مگر عجب ہے، اے این پی، کراچی اور پی پی کراچی کی اس وقت کی قیادت سینیٹر بن کر کاﺅے بوائے کیپ پہن کر مزے کر رہی ہے۔

کیا ہی بہتر ہو، اس تکون کے باقی کناروں کو بھی ریگ مال سے رگڑ کر گول کر دیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments