پرنٹ میڈیا۔ تاریخ اور مستقبل


1609ء میں جرمنی سے پہلا مطبوعہ خبرنامہ (اخبار ) اویساریشن آرڈرزیٹنگ ( Avisa Relation order zeitung) شائع ہوا جبکہ انگریزی صحافت کی ابتدا 13 سال بعد ہوئی جب 1622ء میں لندن سے ویکلی نیوز کا اجراء ہوا۔ لیکن اردو صحافت کو پہلا قدم اٹھانے کے لئے ابھی دو سو سال کا انتظار کرنا ہی تھا۔

27 مارچ 1827ء کو کلکتہ سے شائع ہونے والے فارسی ہفت روزہ “جامِ جہان نما” کو منشی سدا سکھ مرزا پوری نے اردو کے قالب میں ڈھالا اور یوں پہلی بار اردو صحافت کاآغاز ہو گیا اور پھر اس نوزائیدہ زبان (اردو ) نے ادب اور شاعری کے علاوہ صحافت کے میدان میں بھی غضب ڈھالا۔

اگر سرسیّد اور مولانا محمد حسین آزاد کی نثر نے قیامت برپا کر دی تو میر اور غالب نے اردو شاعری کو فارسی کے برابر لا کھڑا کیا ظاہر ہے اردو صحافت کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ پہلے اخبار جام جہاں نما میں گنتی کی چند خبریں یا ایک دو شعر ہوتے جو غیر دلچسپ تھیں لیکن جب فروری 1837ء میںمولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے دہلی سے اپنا اخبار “دہلی اخبار “ جاری کیا تو اردو صحافت نے اپنی اہمیت جتانا شروع کردی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد یہ اخبار بند ہوا اور مولوی محمد باقر کو انگریز حکومت نے پھانسی دے دی، لیکن اس دوران اردو کے کئی معتبر صحافی اور اخبارات میدانِ صحافت میں کود چکے تھے۔

ان میں سرسیّد احمد خان، منشی نول کشور اور تاج الدین وغیرہ قابل ذکرہیں، جبکہ سید الا خبار اور کوہ نور وغیرہ اہم اخبارات تھے۔ تاہم بیسویں صدی کے آغاز میں زمیندار، کامریڈ اور الہلال جیسے بڑے اخبارات لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئے تھے اور ان اخبارات کو نکالنے والے مولانا ظفر علی خان محمد علی جوہر اور ابوالکلام آزاد جیسے نابغہ روزگار لوگ تھے۔

اردو کا پہلا کالم مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار میں افکار و حوادث کے نام سے چھپنے لگا جیسے عبدالمجید سالک لکھتے تھے، اور پھر تو بڑے لکھاریوں اور بڑے اخبارات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو مولانا عبد الماجد دریا آبادی، چراغ حسن حسرت، محمود نظامی، احمد ندیم قاسمی اور باری علیگ سے ہوتا ہوا نذیر ناجی، مجیب الرحمٰن شامی، عباس اطہر اور منوبھائی تک چلا آتا ہے جبکہ اخباری سلسلہ سچ، ہند اور احسان سے ہوتے ہوتے نوائے وقت اور جنگ تک چلا آتا ہے۔

لیکن اب لگتا یوں ہے کہ وقت کا تغیّر اور زمانے کی تبدیلی اس شاندار ٹریک ریکارڈ کی حامل اردو صحافت (پرنٹ میڈیا ) کو دشتِ فراموشی کے موڑ پر لے آئی ہے کیونکہ الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی قلاباز صحافت اخباری صحافت کے دوراندیش اور باوقار راستوں سے الگ قلانچیں بھرتی اور ملیامیٹ کرتی لشکروں کے شہ سوار بن چکے ہیں۔ ابھی دودن پہلے مجھے پشاور سے نکلنے والے ایک نئے روزنامےنے اپنے فورم پر انٹرویوکے لئے بلایا تو ایک سوال پوچھا گیا کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل کیسا ہے؟

تو میں نے جواب دیا کہ ایک ایسے وقت میں جب آدم خور قبیلہ کے لوگ کالم نگار کی دہلیز سے نیوزروم کی چوکھٹ تک پہنچ جائیں تو پھر کیا اور کیسے لکھا جائے؟ اوپر سے مقابلہ جدید تراش خراش کے سوٹ پہنے لیکن کوڑھ مغز اور ذہنی طور پر بانجھ ان لونڈوں سے ہو جو چینل تو پکڑ لیتے ہیں لیکن کتاب اور قلم ہرگز نہیں پکڑتے پھر کہاں کی شاندار روایتوں کی امین اردو صحافت اورکہاں کی سچائی!

تاہم یہ ضروری نہیں کہ ڈرا جائے یا جاہلوں کے غول کے سامنے ہتھیار پھینک دیے جائیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ممالک مثًلا اری ٹیریا میں ریاستی جبر اور ظالمانہ سنسر کے باوجود بھی صحافی اور دانشور ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں پرنٹ میڈیا کو الیکٹرانک میڈیا باوجود اپنی پذیرائی اور انتہائی کوشش کے اس لئے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہوا کہ پرںٹ میڈیا نے صحافت کا اعلٰی ترین معیار برقرار رکھا ہے جو سینکڑوں سالوں سے پرنٹ میڈیا کا خاصہ ہے اور یہ ایک طویل ریاضت کے بعد اس کے ہاتھ لگا ہے!

سو اردو پرنٹ میڈیا کے لئے ضروری ہے کہ ریاستی جبر کے شکار ممالک کے صحافیوں سے ڈٹنا سیکھیں اور ترقی یافتہ ممالک کے پرنٹ میڈیا کی مانند معیار کو شعار بنائیں کیونکہ کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں سو اس نقار خانے میں بقاء کا آخری راستہ بھی یہی ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں