جگجیت سنگھ


جگجیت سنگھ 8فروری 1941 کو راجھستان کے علاقے سری گنگا نگر میں پیدا ہوئے۔ یہی پر انہوں نے ابتدائی تعلم حاصل کی۔ سری گنگا نگر میں ہی بچپن سے انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ پنڈت شرما سے دو سال تک موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ پھر کیا تھا ایک دن وہ خیال اور ٹھمری کے ماہربن گئے۔ راجھستان میں چاروں اطراف ان کی شہرت کے چرچے تھے، وہ محفلوں میں ایسا گاتے کہ لوگ حیرت زدہ رہ جاتے، انہیں پورے علاقے میں موسیقی کا استاد کہا جانے لگا۔ پھر ایک دن خیال آیا کہ کیوں نہ وہ ممبئی جائیں اور فلموں کے لئے گائیکی کا آغاز کریں۔ 1965 میں روشنیوں اور فلمی دنیا کے شہر ممئی کا رخ کر لیا۔ ممبئی میں ان کی ملاقات چترا سنگھ سے ہوئی، یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی اور پھر ان دونوں نے شادی کر لی۔ چترا سنگھ اور جگجیت سنگھ اب جنم جنم کے جیون ساتھ بن گئے۔

دونوں کوایک دوسرے سے بے انتہا محبت تھی۔ چترا سنگھ کا غزل گائیکی میں بڑا نام تھا۔ شاید اردو غزل ہی وہ وسیلہ تھا جو ان دونوں کو ایک دوسرے کے اتنا قریب لے آیا کہ وہ جیون ساتھی بن گئے۔ اب جگجیت سنگھ غزل گا رہے تھے۔ ممبئی میں غزل گائیکی کی شروعات کر چکے تھے لیکن اس دور میں بیگم اختر، نورجہاں، مہدی حسن، غلام علی، طلعت محمود جیسی شخصیات کا طوطی بول رہا تھا۔ ان سب کے ہوتے ہوئے جگجیت سنگھ نے غزل گائیکی میں منفرد انداز اختیار کیا اور الگ شناخت پیدا کی۔

جگجیت سنگھ آہستہ آہستہ غزل گائیکی کو سادہ اور سہل بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی گائیکی کی سادگی کو عوامی سطح پر بہت پزیرائی ملنے لگی۔ ان کی نظمیں اور غزلیں عوام کو پسند آنے لگیں۔ ایک وقت ایسا آگیا کہ جگجیت غزل گائیکی کے بادشاہ کہلائےجانے لگے۔ جگجیت نے فلموں کے لئے بھی گانے گائے، اس طرح انہوں نے فلمی نغموں کو نیا انداز دیا۔ جگجیت سنگھ کو سب سے زیادہ مقبولیت مرزا غالب کی غزلوں کو گا کر نصیب ہوئی۔

مرزا غالب پر ایک ٹی وی سیریل بنائی گئی جو جگجیت سنگھ کے دوست گلزار نے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کی تھی۔ اس ٹی وی سیریل کے موسیقار جگجیت سنگھ اور ان کی بیوی چترا سنگھ تھے۔ چترا سنگھ اور جگجیت سنگھ نے اس ٹی وی سیریل میں مرزا غالب کی غزلوں کو نیا انداز دیا، ایسا انوکھا اور دلفریب انداز کہ اب ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر میں جگجیت کے چرچے تھے۔ وہ باقاعدہ طور پر غزل کے بادشاہ بن چکے تھے۔ اس کے علاوہ جگیت کی پرائیویٹ البم کی بھی دھومیں تھیں۔ جگیجت سنگھ کی جوڑی جاوید اختر، گلزار اور ندا فاضلی سے بنی۔ جگجیت نے ایسی غزلیں اور نظمیں گائیں کی وہ اردو غزل کے تان سین بن گئے۔

بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اسٹیج کنسرٹ شوزکیے جنہیں شائقین کی طرف سے بھرپور پسند کیا گیا۔ اسی دوران جگجیت اور چترا سنگھ کی زندگی میں ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ جگجیت اور چترا سنگھ کا اکلوتا بیس سال کا بیٹا کار حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد جگجیت کی بیوی چترا نے موسیقی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا۔ لیکن جگجیت ٹوٹے دل کے ساتھ سنگدل دنیا کا سامنا کرتے ہوئے غزلوں اور نظموں کو گاکر دل بہلاتے رہے۔ بھارت کے روایتی آلہ ساز ’سارنگی ’ اور طبلے کے ساتھ جدید آلات موسیقی کو غزل گائیکی میں متعارف کرانے کا سہرا بھی جگجیت سنگھ کو ہی جاتا ہے۔ اس تجربے کو انہوں نے اس قدر کامیابی سے سنوارا کہ انہیں جدید غزل سرائی کا موجد تسلیم کیا جانے لگا۔

جگجیت سنگھ کافلموں میں گانے کا خواب 1980ء میں پورا ہوا جب فلم ”ساتھ ساتھ ”میں جاوید اختر کی غزلوں اور نظموں کو انہوں نے اپنی آواز دی۔ اسی سال مہیش بھٹ کی فلم ”ارتھ“ سے جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی شہرت آسمان چھونے لگی۔ فلم میں ”تم اتنا جو مسکرارہے ہو۔ “جیسے سدابہار گیت شامل تھے۔ 1987ء ان کا البم ”بیونڈ ٹائم ”ریلیز ہوا۔ یہ کسی بھی بھارتی موسیقار کی پہلی ڈیجیٹل سی ڈی تھی انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب اورمشہور ترین غزلیں اپنے چاہنے والوں کو دیں جن میں ” یہ زندگی کسی اور کی، میرے نام کا کوئی اور ہے، ہونٹوں سے چھولو تم، تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا، ہزار بار رکے ہم، ہزار بار چلے“ جیسی ہٹ غزلیں شامل تھی۔

جگجیت کے لئے بیٹے کی موت کا غم برداشت کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ اس غم میں وہ آہستہ آہستہ گھلنے لگے تھے۔ یہاں تک کہ 1998ء میں انہیں دل کا دورہ بھی پڑا۔ 2007ء میں انہیں ہائی بلڈ پریشر مزید بڑھ جانے کے سبب اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ جگجیت سنگھ کی زندگی میں ایک اور تلاطم اس وقت دیکھنے میں آیا جب 2009میں چترا سنگھ کی اصل اور ان کی سوتیلی بیٹی مونیکا نے خودکشی کرلی۔ چترا سنگھ کی جگجیت سنگھ سے دوسری شادی تھی۔ مونیکا چترا سنگھ کے پہلے شوہر کی بیٹی ہونے کے باوجود جگجیت سے بہت قریب تھیں۔

پہلے بیٹے اور بعد میں بیٹی کی موت نے جگجیت کو اندر سے ہلاکر رکھ دیا تھا۔ پے در پے صدمات کے سبب وہ اکثر بیمار رہنے لگے تھے۔ 23ستمبر2011 کے دن اچانک ان کا بلڈ پریشراس حد تک بڑھ گیا کہ ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی۔ انہیں بے ہوشی کی حالت میں ممبئی کے لیلا وتی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں 24ستمبر کو ان کے دماغ کی سرجری بھی کی گئی جس کے دوران دماغ میں جم جانے والے خون کو نکال دیا گیا۔ لیکن انہیں پھر بھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ اسی دوران انہیں وینٹی لیٹرلگایا گیا، 10 اکتوبر 2011ء کو دو ہفتے تک کوما میں رہنے کے بعد جگجیت سنگھ کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر میں میرے جیسے ان کے لاکھوں پرستاروں کو دکھی کر دیا۔

اردو شاعری کو گائیکی کے ذریعے ایک نیا انداز دینے والے جگجیت سنگھ کا خلاء پُر کرنا مشکل ہے۔ وہ ایک بہترین اور اعلی گائیک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی تھے۔ جگجیت سنگھ نے اپنے کیرئیر کی بلندیوں کو چھونے کے ساتھ ساتھ اپنے اعلی و ارفع اخلاق کے باعث لاکھوں دلوں م کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا جگجیت سنگھ کا نام ان کے فن کی طرح ہمیشہ ہمیشہ زندہ و سلامت رہے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں