چرچ سے ملا تک۔۔۔ ایک ہی لکیر


hafsa noorعہد وسطی میں یورپ میں پوپ کا چرچ پر ویسے ہی کنڑول تھا جیسے آج مولوی حضرات کا مساجد پر ہے، ماضی کے یورپ میں بادشاہ سے لے کر عوام تک چرچ کی غلامی کے شکنجے میں بالکل ایسے ہی جکڑے ہوئے تھے جیسے آج کا عام مسلمان مولویوں کے جبرواستبداد کے پنجے تلے سسک رہا ہے۔

پوپ مذہبی تعلیمات کے خزانے پر ناگ بن کر بیٹھا تھا، اگر کوئی بغاوت کا سوچ بھی لے تو اس پر کفر کے فتوی لگ جاتے تھے اور اسے موت کے گھاٹ بالکل ایسے اتار دیا جاتا تھا جیسے الباکستان میں سلمان تاثیر کو موت کی وادی میں پہنچا دیا گیا۔

یورپ میں ایک تحریک چلائی گئی جس کا منشور علم کو چرچ کی بالادستی سے آزاد کر کے ایک ایسی آزاد ریاست قائم کرنا تھا جو مذہبی امتیاز سے ماورا ہو کر سماج میں بہتری لا سکے۔ اس تحریک کو نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے، یہی وہ تحریک تھی جس کا ایک اظہار چرچ سے مارٹن لوتھر کی بغاوت کی صورت میں ہوا، مارٹن لوتھر نے چرچ کے دروازے پر سوالات کا پرچہ لگا دیا، جس کو مذہب میں اصلاح کی تحریک سمجھا گیا، مگر مجال ہے ہمارے پاکستانی معاشرے میں کوئی مذہبی ذہن سے اصلاح کی بات تو کجا، سوال کرنے کی جسارت بھی کر لے ۔

اسلامی نظریاتی کاؤنسل نے 163 شقوں پر مشتمل تحفظ حقوق نسواں بل میں اسلام کا جو احوال پیش کیا ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عورت انسان نہیں ہے

جس سماج میں عورت کو تیزاب سے جلایا جاتا ہوں، جہاں چار درندے لڑکی کا ریپ کر کے زندہ جلا دیتے ہوں، جہاں کلہاڑیوں سے اپنی سولہ سالہ بہن سمیرا کو غیرت کے نام پر پے در پے وار کر کے کہا جاتا ہو کہ لو خدا کا فرض پورا کر دیا، ایسا معاشرہ جہاں لڑکیاں زندہ جلائی جاتی ہوں اور وہ بھی محض رشتوں کے انکار پر!!

 جہاں عصمت دری کے واقعے پر چار عینی گواہ درکار ہوں، وہاں مذہبی سطح پر عورت کو مارنا پیٹنے کی ایسی اجازت کہ بس ہڈی نا ٹوٹے۔۔۔ ایک سوالیہ نشان ہے!!

جو سماج افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا ہو، یقینا وہ اس طرز کی صحت مند اور روشن خیال پر مبنی سوچ کو برداشت نہیں کرسکتا، آخر ہم کب تک فطری تقاضوں کو مذہبی سوچ پر فوقیت دیتے رہیں گے؟

آنکھ کی حیا کا مطالبہ فطرت کو جھٹلا کر کیوں کیا جاتا ہے؟ مرد عورت کو بھیڑ بکریوں کی طرح جدا کرنے سے صرف شہوت کے جنون کے ساتھ ذہنی بیمار اور ہوس کے پجاری ہی تخلیق کیے جا سکتے ہیں، اگر یہی سب ٹھیک ہے تو پھر درندگی پر کاہے کا شور برپا ہے؟

تاریخ میں عقل و فلسفے کے گروہوں سے ایسے مفکر نہیں نکلے، جنہوں نے انسانوں کی گردنیں اڑائی ہوں۔ افلاطون، دیمقراطیس کے گروہ کبھی ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائے۔ زمین پر فساد پھیلانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو جبر کے تحت زندگی گزار رہے ہوں اور ہر ایک پر وہ جبر مسلط کرنا چاہتے ہوں۔

سچ تو یہ ہے ہم لوگ سماج، تہذیب اور فطرت کی سب سے پست سطح پر سانس لے رہے ہیں، مفکرین پر کون سا فتویٰ نہ لگا، کیا مولویوں نے منٹو پر فحش نگاری کا الزام نہیں لگایا؟

یہ بالکل اسی طرح ہے جب پادریوں نے مارٹن لوتھر پہ مذہب دشمنی کا الزام لگایا، زمین گول ہے کہنے کے جرم میں گلیلیو کے معافی نامے سے لیکر طویل تاریخ میں مذہب کے نام پر جنونی رویوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

جب انسان کو خلا میں بھیج کر زندہ اتار لیا گیا تو مراسلاتی کالموں میں رویت ہلال کے مہتمم باالشان موضوع پر محکمہ موسمیات اور سائنس کا مذاق اڑایا گیا، ارنسٹ سیمس کا بنایا ہوا لاؤڈاسپیکر جس پہ ہمارے مولوی دن رات کفار کو بددعائیں دیتے نہیں تھکتے! کبھی یہ بھی اس معاشرے میں حرام ہوا کرتا تھا

مغربی سماج کو کوسنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ان کافر لوگوں نے اپنی عورتوں کو حقوق دینے کے لیے قانون تشکیل دیا کہ بیوی کے انکار پر شوہر کا جبری جماع جرم ہو گا اور اس قانون کو میریٹل ریپ کا نام دیا گیا مگر ہمارے سماج کے پارساؤں کا کہنا ہے 70 ہزار فرشتے ساری رات ایسی عورت کے گرد گھوم کر اسے لعن طعن کرتے ہیں

نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں فکرانگیزی، علم وفلسفہ ، سائنس اور تمام علوم کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ ان کو سرکاری سطح پر بھی عام کیا گیا تاکہ ایک عام آدمی بھی علم کی شمع روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے مگر پاکستان میں تو ایک ملالہ یوسف زئی کو تسلیم کرتے وقت بہت ملال ہوتا ہے اور اسے ایجنٹ اور نہ جانے کون کون سی فحش گالیوں سے نوازا جاتا ہے، ملالہ یوسف زئی کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ تعلیم کی بات کرتی ہے، اس گستاخ کا جرم یہ ہے کہ وہ ستائیس روپے کی گولی سے کیسے بچ نکلی؟

روسو، ڈیوڈ ہیوم اور ایڈم سمتھ جیسے مفکروں نے یورپ کو تبدیل کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا، ہیگل کے جدلیاتی تاریخ کے نظریئے نے یورپ میں روشن خیالوں کو نظریاتی بنیادیں فراہم کیں، مارکس نے جدلیاتی نظریئے سے طبقاتی کشمکش کو ثابت کیا ، یہ تمام نظریات صدیوں کے جبر سے انکار پر مبنی تھے، ان کے خلاف وہی مزاحمت تھی جو آج ہمارے معاشرے میں جدید خیالات کے خلاف موجود ہے

یہ وہی مزاحمت ہے کہ سبین محمود جیسے روشن خیالوں کو سرعام گولی مار دی جاتی ہے اور ممتاز قادری کو ماتھے پر بوسے دئے جاتے ہیں، جس قوم کا قومی پرندہ شاہین ہو، وہاں سبین جیسی فاختہ خون میں لتھڑی ہی ملے گئی

اب وقت آچکا ہے کہ ہمیں بھی اپنے عقلی دروازے کھولنے پڑیں گے، ہمیں بھی روشن خیالی کی تحریک کی ضرورت ہے، ایسی تحریک جو مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو اور انسان کے تحفظ اور خوشیوں کی بات کرے۔


Comments

FB Login Required - comments