اسلامی دنیا میں فلسفہ کیسے پہنچا؟


اسلامی دنیا میں فلسفیانہ روایات کا آغاز آٹھویں صدی میں شروع ہوا۔ ابویوسف الکندی کو اسلامی دنیا میں فلسفے کا پہلا استاد تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہیں اسلامی فلاسفی کا فادر کہا جاتا ہے۔ آٹھویں صدی میں اسلامی دنیا میں یونانی فلاسفی کا عربی میں ترجمہ شروع ہوا۔ عرب دنیا اس زمانے میں یونانی فلاسفی سے بہت متاثر تھی۔ اس زمانے میں وہ پڑھے لکھے انسان جو یونانی فلسفے کے استاد تھے وہ اپنے آپ کو فلاسفہ کہتے تھے۔ ان کے خیالات کو بنیادی طور پر فلسفہ کہا جاتا ہے جو کہ یونانی لفظ philosophy کا عربی ورژن ہے۔ مورخین کے مطابق اسلامی علمی عروج کا آغاز آٹھویں صدی سے شروع ہوا۔ اس دور میں ایک اہم ٹیکنالوجیکل تبدیلی رونماہوچکی تھی۔ اس ٹیکنالوجیکل ایجاد کا موجد چین تھا۔ چین ہی وہ پہلا ملک ہے جہاں کاغذ ایجاد ہوا۔ اسلامی دنیا میں فلسفے کی ترقی اور پھیلاؤ میں کاغذ کی ایجاد کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

اس سے پہلے فلسفیانہ خیالات کاغذ پر نہیں آئے تھے۔ کاغذ یعنی پیپر چین کے ذریعے سمرقند پہنچا اور اس کے بعد باقی مشرق وسطی تک۔ اس ایجاد سے فکر وخیالات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ یہ سوچ اور خیالات کا عظیم انقلاب تھا۔ یاد رکھیں سوچ، خیالات یا نظریات کا انقلاب ہمیشہ کسی نہ کسی ٹیکنالوجی سے جڑا ہوتا ہے۔ کاغذ یا پیپر کی ایجاد کی وجہ سے انسان کے خیالات آٹھویں صدی میں دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئے۔ یونان کے انسان کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس دنیا میں سب سے پہلے لکھنے کا آرٹ ایجاد کیا۔ یونانی اگر لکھنے کاآرٹ نہ سیکھتے تو یونانی فلسفہ آج کہیں نہ ہوتا۔ یونانی تہذیب و کلچر کی ترقی کے پیچھے لکھنے کے آرٹ کی ایجاد کی ٹیکنالوجی تھی۔

اب آٹھویں صدی میں بہت زیادہ تعداد میں پیپرز پر کتابیں لکھی جانے لگیں۔ اسی زمانے میں بغداد مسلمانوں کا دارالحکومت بنا۔ امیہ سلطنت کو عباسیوں نے مکمل طور پر شکست دیدی تھی اور اب عباسی سلطنت قائم ہوچکی تھی۔ عباسیوں نے بغداد کو اپنا نیا دارالحکومت بنایا۔ جب ہارون الرشید عباسی سلطنت کے خلیفہ بنے تو یہی سے گولڈن ایج آف اسلام کی شروعات ہوئیں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اعلان کیا کہ دنیا بھر میں آرٹس اورسائنسز کا جو علم ہے اس کا عربی میں ترجمہ کیا جائے اور یہ علم پوری مسلم عرب دنیا تک پہنچایا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ عرب دنیا دین اسلام کے ساتھ ساتھ باقی علم سے بھی مستفید ہوسکے۔

اس کے لئے دنیا بھر سے کتابیں منگوائی گئی۔ عباسی سلطنت میں مختلف ادارے قائم کیے گئے جن کا مقصد تھا کہ ان کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا جائے۔ ہارون الرشید کے بعد مامون الرشید کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اسی وجہ سے عرب دنیا میں فلسفیانہ سوچ کا انقلاب برپا ہوا۔ ہارون الرشید نے اس دور میں الکندی کو اس کام کا سربراہ مقرر کیا۔ اب الکندی خود بھی اور اپنے ساتھ سیکڑوں تعلیم یافتہ انسانوں کے ساتھ ملکر یونانی فلاسفی کا عربی میں ترجمہ کررہے تھے اور یہ فلاسفی عربی زبان میں عرب دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی تھی جس سے لاکھوں انسانوں کی سوچ میں مثبت اور جدید سوچ جنم لے رہی تھی۔

مورخین کے مطابق شام وہ خطہ ہے جہاں یونانی فلاسفی کا کچھ ترجمہ ہوچکا تھا۔ بہت سے تعلیم یافتہ انسان شام میں اس کام آغاز کرچکے تھے۔ الکندی نے شام کے ان زہین دماغوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ عیسائی اور یہودیوں کا اس میں اہم کردار ہے۔ عیسائی اور یہودی مفکرین نے الکندی کے ساتھ ملکر یونانی فلاسفی کے عربی زبان میں ترجمہ کیے ۔ اس زمانے میں اسلامی دنیا میں برداشت اور امن تھا۔ عیسائی اور یہودی بھی اسلامی روایات، اخلاقیات اور خیالات سے متاثر تھے اس لئے وہ یونانی علم و فکر کو عرب دنیا تک پہنچانے میں عباسی حکمرانوں اور عباسی ریاست کی مدد کررہے تھے۔

الکندی کا تعلق اشرافیہ طبقے تھا، ان کے والد کوفہ کے گورنر رہ چکے تھے۔ ہارون الرشید الکندی سے اس لئے متاثر تھے کہ الکندی کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا اس لئے انہیں house of wisdom کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ بہت بڑی تعداد میں کتابوں کی اشاعت کی گئی جس سے عرب دنیا میں روشن خیالی پروان چڑھی۔ اس سے پہلے اسلامی مفکرین ہمیشہ یہ تبلیغ کرتے تھے کہ علم و الکلام یا فلسفہ مسلمان کو دین سے دور کرتا ہے اس لئے فلسفے کو مسلمانوں کو نہیں پڑھنا چاہیے۔ لیکن الکندی نے اعلان کیا کہ مسلمان نے اگر اچھا، بہترین اور معیاری انسان بننا ہے تو اسے ہر قسم کا علم حاصل کرنا ہوگا۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں اس بات سے بلکل شرمندہ نہیں ہونا چاہیے اگر سچائی کہیں اور سے ملتی ہے۔ اس لئے سچائی کی تلاش کے لئے ہر قسم کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔

الکندی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مسلمان قرآن اور حدیث سے حقیقی سچائی حاصل کرسکتے ہیں لیکن یہ بھی درست بات ہے کہ سچائی فلسفے سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ الکندی کے مطابق دونوں راستے سچائی تک پہنچنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ الکندی کے مطابق فلسفے اور اسلام کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ تک پہنچنا۔ الکندی سمیت اس وقت کے تمام اسلامک فلاسفرز اور عرب دنیا یونان کے عظیم فلاسفرارسطو سے بہت متاثر تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ارسطو کے خیالات اسلامی روایات کے بہت قریب ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں