اللہ ہے بس پیار ہی پیار


”جھوٹ نہیں بولنا، ورنہ اللہ زبان کے نیچے کوئلہ رکھ دے گا۔ “
یہ دہشت پھیلاتا جملہ مجھ سمیت آپ سب نے بھی اپنی بچپن میں سنا ہوگا۔ اور اس جملےکی سختی کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اب آپ اس پر یقیناً ہنستے ہوں گےکہ ہمارے والدین کتنے معصوم تھے۔ ہم نے تو بچپن سے لے کر اب تک لاکھ جھوٹ بول ڈالے مگر ہماری زبان پر ایک کٹ تک نہ لگا۔
دراصل ہمارے والدین واقعی معصوم ہوا کرتے تھے۔ بچوں کی زبانوں پر زبردستی کوئلہ رکھوانے کی کوشش کرتے اور خود نجانے کتنے ہی جھوٹ بولتے رہتے۔ رشتہ داروں میں کسی کپڑے یا دوسری شے کی قیمت اصل سے دوگنی بتانا۔ ابو کا گھر پر ہوتے ہوئے انہیں پل بھر میں غائب کروادینا (انکل ابو تو گھر پر نہیں ہیں)۔ وغیرہ جیسے بچپن میں بولے جانے والے جملوں(جھوٹوں) کا تجسّس تازہ اور خستہ پراٹھے کہ طرح آج بھی آپ کے ذہن کے کسی گوشے بھی پھڑکتا، مچلتا ہوگا۔

یا آپ کے گناہ گار کانوں نے اپنے بڑوں کو دوستوں، رشتہ داروں کی بیٹھک میں ”یار میں نے تو کبھی کسی سے کوئی اونچ نیچ کی ہی نہیں ” جیسا عالمگیر ”سچ ” کہتے بھی سنا ہوگا۔ یہ بے تّکےجھوٹ آج بھی ہم میں سے بیشتر والدین ضرورت پڑنے پر اپنے بچوں سے بلواتے ہیں۔ جہاں بچے یہ کام نہ کرسکیں وہاں دھڑلے سے خود ہی بول دیتے ہیں۔ اور پھر بھی اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ہمارے بچے ہم سے کبھی جھوٹ نہ بولیں۔ ہم سے زبان درازی نہ کریں۔ ہمارے بچے ہم سے کسی قسم کی جواب طلبی نہ کریں۔ یعنی والدین بچوں کی تربیت کا نہایت اہم پہلو فراموش کرکے اپنے اوپر اُمید کی ایسی گٹھڑی باندھ لیتے ہیں جس کا بوجھ انہیں بڑھاپے میں ادھ مواہ کردیتا ہے، کہ ہماری اولاد ہر حال میں فرمانبردار ہی رہے گی۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے آپ بچے کے سامنے ہزار بار بھی چیخیں بیٹا سچ بولو، بیٹا نماز پڑھو، بیٹا صفائی کا خیال رکھو، وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دے گا۔ لیکن اگر آپ محض تین سال کے بچے کے سامنے بغیر اس سے کچھ کہے کوئی اچھا کام کریں گے تو آپ دیکھیں گے، دوسری سے تیسری بار دیکھا دیکھی میں بچہ آپ کی ناصرف پیروی کرنے لگے گا، بلکہ اس فعل کو بھولے گا نہیں۔ بشرطیکہ آپ اس اچھے عمل کو جاری رکھیں۔

اسی طرح کا معاملہ منفی اعمال کے ساتھ ہے۔ جب ایک ماں اپنے شوہر سے جھوٹ بولتی ہے یا ایک باپ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ تو وہ اپنے بچے کو تو ایسا کرنے کو نہیں کہتا۔ لیکن نفسیاتی طور پر وہ وہی کرتا یا کرتی ہے جو اس نے اپنے والدین کو کرتے دیکھا ہوتا ہے اور یہ عادت بالغ ہونے تک اس کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔

منافقت کے اس سنہری اصول پر کاربند رہنے کے علاوہ ہم ایک اور ظلم بھی اپنے بچوں پر ڈھاتے ہیں۔ اللہ کا تصور۔ ہم انجانے میں بچوں کے لیے ایک ان دیکھی ذات کا خوف بٹھادیتے ہیں۔ لڑائی کرو گے تو اللہ مارے گا۔ چوری کرو گے تو اللہ ناراض ہوجائے گا۔ یعنی کیا اللہ کی صفت قہار، اس کے الرحمٰن ہونے پر غالب ہے۔ ہم اپنی دعاؤں میں اللہ کو یا الرحمان کہہ کر پکارتے ہیں یا، یا قہار؟ تو پھر غیردانستہ طور پر یہ تضاد کیوں برتتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اللہ کا خوفناک پہلو کیوں دکھاتے ہیں۔ ہم نے اپنی اب تک کی زندگی میں نجانے کیا کچھ نہ کرڈالا، مگر ہم تو ابھی بھی سلامت ہیں۔ یہ اللہ کا رحم ہی ہے کہ اس نے ہم پر اب تک اپنا قہر نازل نہیں کیا۔ معصوم بچہ کچھ کردے تو ہم اپنی آنکھیں خوفناک حد تک باہر نکال کر بچے سے کہتے ہیں اللہ آگ میں ڈال دے گا، اللہ کانوں میں سیسہ ڈال دے گا۔

ہم اپنے بچوں کے معصوم ذہنوں میں اللہ کی محبت کیوں نہیں ڈالتے۔ بچوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ اللہ پیار ہے۔ اس کے پاس جنت ہے، باغ ہے۔ اور جس چیز کی ہم خواہش کریں گے، اس کے پاس وہ سب کچھ ہے۔ اور ہم اس سے مانگیں گے تو وہ ہم کو ضرور دے گا۔ یہاں یہ مقصد نہیں کہ بچے کو برا کام کرنے دیا جائے اسے تنبیہہ نہ کی جائے۔ لیکن انداز اور لہجہ تو بدلہ جاسکتا ہے۔

مثلاً ”اگر تم نے جھوٹ بولا تو اللہ تمہاری زبان کاٹ دے گا ” کہنے کی بجائے یہ بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ ” بیٹا اگر تم جھوٹ بولنے سے بچو گے تو تم کو اللہ کی طرف سے ایک انعام ملے گا۔ کسی چیز کا ڈر ہو تو بچہ کرہاً اس کی بات مانتا ہے۔ کسی سے محبت ہو تو اس کی بات طوعاً مانی جاتی ہے۔ دل سے مانی جاتی ہے۔ ذرا غور کیجیے ہم اور ہمارے بچے جبراً اللہ کی بات مانتے ہیں یا اس سے محبت ہمیں اس کی اطاعت کرنے پر مجبور کرتی ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ماہ وش طالب کی دیگر تحریریں
ماہ وش طالب کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں