موٹرسائیکل کو دو ہزار جرمانہ، پراپیگنڈا مشینری کا جھوٹ


گزشتہ دنوں آپ نے خبریں دیکھی ہوں گی کہ لاہور ٹریفک پولیس نے چالان کی شرح دو چار سو روپے سے بڑھا کر دو ہزار سے تیس ہزار روپے تک کر دی ہے۔ گاڑی والا سگنل توڑے تو پانچ ہزار، موٹر سائیکل والا دو ہزار جرمانہ بھرے گا۔ ساتھ ہی ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل پر سفر کرنے پر دو ہزار جرمانے کی خبریں تھیں۔ پچیس تیس ہزار کی سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل خریدنے والے کے لیے دو ہزار کی ڈنڈ بھرنا مشکل ہے۔ کئی خلاف ورزیوں پر تیس ہزار تک کے جرمانے کی خبریں تھیں۔ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ کیا ایک غریب شخص کیسے اتنا جرمانہ بھر سکتا ہے۔

اس کے بعد کچھ ویڈیوز سامنے آئیں جو اس صورت حال کو واضح کر رہی تھیں۔ ایک چنگ چی والے جوان نے چالان ہونے پر اپنی چنگ چی کو آگ لگا دی۔ ایک موٹر سائیکل والے مظلوم نے اپنی موٹر سائیکل جلا ڈالی۔ ایک مولانا نے اپنا گریبان چاک کیا اور نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے پر آمادہ ہوئے۔ ان واقعات سے دکھائی دے رہا ہے کہ واقعی پریشان کن صورتحال ہے اور مہنگائی سے ستائے ہوئے غریب جرمانہ دینے سے زیادہ یہ آسان سمجھتے ہیں کہ جان دے دیں۔ مگر اصل صورتحال کیا ہے؟ کیا واقعی اتنے بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں یا یہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسی کے جھوٹے میڈیا پروپیگنڈے کی کڑوی گولی کھلائی جا رہی ہے؟

سب سے پہلے ہیلمٹ کی بات کرتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پچیس تیس ہزار کی موٹر سائیکل خریدنے والا دو ہزار کا ہیلمٹ نہیں خرید سکتا، اور یہ کہ اچانک یہ مہم چلا کر لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن لیاقت ملک بتاتے ہیں کہ لاہور کی ٹریفک پولیس نے 30 جولائی کو لاہور میں ہونڈا کمپنی کے تعاون سے دو ہزار مفت ہیلمٹ بانٹے تھے اور ہزاروں پمفلٹس اور سکولوں کالجوں میں آگاہی کی ورکشاپس کے ذریعے بتایا تھا کہ ہیلمٹ لازمی استعمال کریں۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس نے کیمپ لگائے ہیں جہاں ڈی سی ریٹ پر گیارہ سو روپے میں ہیلمٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ہیلمٹ پہننے کا قانون سنہ ساٹھ کی دہائی میں بنایا گیا تھا اور یہ کوئی نیا قانون نہیں ہے۔ ہیلمٹ پہنانے کا حکومت کو خود کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی جان کو داؤ پر لگانے سے روکے۔

جہاں تک جرمانوں کی بات ہے، تو لیاقت ملک صاحب نے بتایا کہ جرمانوں میں اضافے کی تجویز آئی ہے، لیکن جرمانے اسمبلی کے قانون کے ذریعے بڑھائے جاتے ہیں، پولیس خود سے جرمانے بڑھانے کا اختیار نہیں رکھتی ہے۔ پرانے جرمانے ہی چل رہے ہیں۔ موٹر سائیکل پر بیشتر خلاف ورزیوں کا جرمانہ 200 روپے ہے۔ صرف موٹر سائیکل کو خطرناک طریقے سے چلانے، نابالغ افراد کے موٹرسائیکل چلانے اور دو سے زیادہ افراد کی سواری پر جرمانے کی شرح زیادہ ہے، جو 300 روپے ہے۔ گاڑی کے چالان کی زیادہ سے زیادہ رقم 500 روپے ہے۔ پبلک سروس وہیکل کے لیے جرمانے کی رقم 500 سے ایک ہزار روپے تک ہے۔ یعنی وہ ہزاروں روپے کے جرمانوں کی خبر محض افواہ ہے جو بظاہر تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول بنانے کے لیے منظم طریقے سے پھیلائی جا رہی ہے۔ کیا قانون کی ایک بڑی خلاف ورزی پر دو سو روپے جرمانہ ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے؟

موٹر سائیکل کے ضمن میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ غریب آدمی اس پر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آسانی سے سفر کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انگریز کے زمانے سے لے کر 1970 کی دہائی تک ملک میں غریب آدمی نہیں ہوتا تھا؟ اس وقت سائیکل پر ڈبل سواری یا بتی نہ لگانے پر چالان کیا جاتا تھا۔ موٹر سائیکل کے ساتھ سائیڈ کار کا رواج تھا جس میں زیادہ سواریاں بٹھائی جاتی تھیں۔ کیا اب چنگ چی بنانے کے زمانے میں سائیڈ کار استعمال کرنا مشکل ہو گیا ہے جو دو سیٹر موٹر سائیکل پر ہی کئی افراد کو بٹھایا جاتا ہے؟

لیاقت ملک صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے چند ماہ پیشتر ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر مہم چلائی تھی لیکن قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ وکلا اور صحافی ہیں۔ دو ماہ میں ان کے 51 اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مہم دوبارہ اس وقت شروع کی گئی جب لاہور ہائی کورٹ نے ان سے جواب طلب کیا کہ وہ قانون کی پابندی کیوں نہیں کروا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بے بسی ظاہر کی کہ اس صورت میں ٹریفک پولیس کے خلاف وکلا اور میڈیا کی مہم چلے گی اور سب سے بڑھ کر یہ الزام لگے گا کہ وہ ہیلمٹ بیچنے والوں سے ملے ہوئے ہیں۔ عدالت نے ان کو حکم دیا کہ وہ مہم چلائیں۔

کیا یہ پریشانی کی بات نہیں ہے کہ جن لوگوں کے ذمے قانون کا تحفظ ہے، یعنی وکلا، اور جو معاشرے میں آگاہی پھیلاتے ہیں، یعنی صحافی، وہی قانون کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں؟ آپ نے گزشتہ دنوں عدالت میں ایک گولڈ میڈلسٹ تھانیدار صاحب کی عدالت میں وکیلوں کے ہاتھوں ٹھکائی دیکھی ہو گی۔ اس میں دکھ کا پہلو تو ہے لیکن ایک بات دلچسپ بھی ہے کہ وہ تھانیدار صاحب خود وکالت کی ڈگری رکھتے ہیں۔ وکیلوں نے وردی دیکھ کر اپنا بھائی بند ہی دھو ڈالا۔ دوسری طرف چند ہفتے پہلے ایک معزز صحافی کی ٹریفک پولیس کے دفتر میں گھس کر اہلکاروں کی پٹائی کرنا بھی آپ کو یاد ہو گا اور اس ہفتے ٹریفک پولیس کے خلاف میڈیا مہم بھی سب کے سامنے ہے۔

اب بات آتی ہے کہ کیا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کرنا درست ہے یا غلط؟ دلیل دی جاتی ہے کہ ایک غریب شخص جو پچیس ہزار ماہانہ کماتا ہے اسے دو ہزار کا جرمانہ دینے کا کہنا ظالمانہ فعل ہے۔ ہم نے گلف نیوز اور خلیج ٹائمز دیکھے۔ دبئی میں ڈرائیور ماہانہ تنخواہ تین سے چار ہزار درہم ہوتی ہے۔ اور ادھر تین ہزار درہم کے جرمانے تو پولیس کر سکتی ہے، اس سے اوپر کے لیے عدالت بھی ہے۔ جرمانے کے علاوہ بلیک پوائنٹ ملتے ہیں۔ ایک سال میں 24 بلیک پوائنٹ مل جائیں تو ایک برس کے لیے لائسنس چھن جاتا ہے۔

نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر عدالت سزا دیتی ہے جو بیس ہزار درہم جرمانے اور اس کے ساتھ سزائے قید ہو سکتی ہے۔ ریسیں لگانے اور خطرناک ڈرائیونگ پر دو ہزار درہم جرمانہ ہے اور 12 بلیک پوائنٹ ملتے ہیں اور 30 دن تک گاڑی ضبط ہو سکتی ہے۔ ٹکر مار کر کسی کو زخمی کرنے اور بھاگنے کی سزا عدالت دیتی ہے، 24 بلیک پوائنٹ ملتے ہیں اور دو مہینے کے لیے گاڑی ضبط کر لی جاتی ہے۔ حد رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانے پر 3000 درہم تک جرمانہ ہوتا ہے اور 23 بلیک پوائنٹ تک ملتے ہیں۔ موٹرسائیکل پر ڈرائیور یا مسافر کے ہیلمٹ نہ پہننے پر 500 درہم جرمانہ ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1027 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar