آسیبی آنکھوں والے کون تھے؟


zafar kakarعمر زاخیلوال 1984 میں بطور مہاجر اپنے خاندان کے ساتھ پشاور آئے اور کچھ عرصہ بعد یہاں سے کینیڈا منتقل ہو گئے۔ انہوں کوئینز یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ Carleton University in Ottawa میں پڑھاتے رہے اور ساتھ ساتھ وال سٹریٹ جنرل، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے اخبارات میں لکھتے رہے۔ انہوں نے گورنمنٹ آف کینیڈا کے لئے بطور ریسرچ اکانومسٹ کام کیا۔ انہوں افغانستان میں دیہی ترقی کی وزارت میں بطور چیف ایڈوائزر خدمات سرانجام دیں۔ اس کے بعد افغانستان کے قومی بنک ’دا افغانستان بنک‘ میں سپریم کونسل کے ممبر رہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ Afghanistan Investment Support Agency (AISA) میں بطور صدر کام کیا۔ 2009 سے 2015 تک وہ افغانستان کے وزیر خزانہ رہے۔ ڈاکٹرعمر زاخیلوال آج کل پاکستان میں افغانستان کے سفیر اور افغان صدر اشرف غنی کے خصوصی نمائندے کے طور پر تعینات ہیں۔ کل ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے سلیم صافی کے ساتھ جرگہ میں افغانستان کا موقف بیان کیا۔ آیئے پہلے اس کی جھلکیاں دیکھتے ہیں۔

’ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی افغان پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے۔ افغانستان میںمسلسل جنگ جاری ہے ۔ ہم اس جنگ کا تماتر الزام پاکستان کے سر نہیں تھوپ سکتے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس جنگ میں ملوث ہیں، جو لوگ اس کی قیادت کر رہے ہیں،ان کے قائدین کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے اور ان کی موجودگی کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میںملا منصور کا واقعہ اس کی مثال ہے گو میں اس کو ایشو نہیں بنانا چاہتا مگر یہ ہمارے دعوے کی تصدیق کرتا ہے‘۔

’ ہم طالبان کے مکمل خاتمے پر یقین رکھتے تو ہم امن کے دروازے نہیں کھولتے۔ امن کی آواز کابل سے بلند ہو رہی ہے نہ کہ طالبان کی طرف سے یا کسی تیسرے ملک کی طرف سے۔ حامد کرزئی اپنے دور میں طالبان کو مسلسل امن کے لئے پکارتے رہے۔ اسی طرح اشرف غنی نے طالبان کو امن کی دعوت دی اس لئے امن ہماری اولین ترجیح ہے۔ مگر جب یہ قوتیں امن کے لئے آگے نہیں بڑھ رہیں اور ہمسائے میں بیٹھ کر ہمیں زخم لگا رہی ہیں،حکومتی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں، عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں تو یہ ہمارے قریبی ہمسائے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تباہی کو روکنے میں ہماری مدد کرے‘۔

’ یہ ٹھیک ہے کہ طالبان افغانستان میں موجود ہیں اور جنگ لڑ رہے ہیں۔ مگر جاننا چاہیے کہ ان کی قیادت کہاں موجود ہے۔ اس جنگ کے لئے فتوے کون جاری کرتا ہے؟ بدقسمتی سے قیادت بھی یہاں موجود ہے اور زیادہ تر فتوی جات بھی پاکستان سے جاری ہوتے ہیں جن میں افغانستان میں جہاد رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے‘۔

’مذاکرات اور اعتماد کی بحالی پاکستان سول اور عسکری کی خواہش بھی ہے اور اسے مکمل ادراک بھی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستانی اداروں کی سوچ بے لچک ہے۔ جس قیادت کو عمل درآمد کرنا تھا وہ بھی اداروں کی اس بے لچک سوچ کی تابع ہو گئی ہے‘۔

’ میں نے پہلے بھی کہا ہے اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ پاکستان نے سب سے زیادہ افغان مہاجرین کی خدمت کی۔ یورپ میں چند ہزار افغان مہاجرین گئے جس سے پورا یورپ بحران کا شکار نظر آتا تھا جبکہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر قبول کیا۔ افغان اس کے شکرگزار ہیں اوراس میزبانی کو کبھی نہیں بھلائیں گے۔ مگر افغانستان جنگ سے دوچار ہے۔ ہمارا ملک لہولہان ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر حکومتی افراد،لوگوںکے رشتہ دار اور تجارت پیشہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں یہ تاثر عام ہے کہ یا تو پاکستان اس جنگ میں معاونت کر رہا ہے یا پاکستان کی سرزمین سے جو لوگ یہ منصوبہ بندی کرتے ہیں ان پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ جس کی وجہ سے شکایات جنم لے رہی ہیں‘۔

’ جب آپ کہتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے لوگ کنڑ میں موجود ہیں۔ افغان طالبان کہاں ہیں؟ وہ کنڑ میں ہیں۔ قندوز میں ہیں۔ نورستان میں ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ افغان اور پاکستانی طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جس طرح افغان طالبان ہماری سلامتی اور استحکام میںمدد نہیں کر رہے اسی طرح پاکستانی طالبان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان دونوں پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ اگر ہم تحریک طالبان پاکستان کی جڑوں کی بات کریں تو کیا ان کی جڑیں کابل میں ہیں؟کیا ان کو ترغیب کابل سے ملی؟ان کی تحریک کہاں سے شروع ہوئی؟کہاں سے ان کو شہہ مل رہی ہے؟یا پھر وہ تحریک طالبان افغانستان سے الحاق کا دعوی کرتے ہیں؟ ہم تو اس کے لئے بھی تیار ہیں کہ کوئی تیسری پارٹی افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان یا بلوچ یا کسی اور ملک کی خفیہ اداروں کے ساتھ ہمارے تعاون کی تحقیقات کرے جس کو افغانستان سے مدد مل رہی ہو کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری کریں۔ لیکن پاکستان بھی ان لوگوں کے خلاف تیسری پارٹی سے تحقیقات کے لئے رضامند ہو جو افغانستان میں جنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہ کوئی سودے بازی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر اس لعنت کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کریں۔ ان حالات میں چاہے ٹی ٹی پی ہو جو طالبان ہی کے بطن سے برآمد ہوئے ہیں کل کو کچھ اور بھی ہو سکتا ہے اور اب داعش بھی افغانستان میں ہے۔ اللہ نہ کرے یہ کل پاکستان میں بھی آجائے۔ یہ بھی تو طالبان ہی کے نتیجے میں ہو گی۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ایسے عناصر کا خاتمہ کریں‘۔

’ افغانستان میں بھارتی کردار کو لے کر پاکستان میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایسی غلط فہمیوں کا ازالہ بہت آسانی سے ہو سکتا اور ہم اس کے ازالے کے لئے تیار ہیں لیکن پاکستان کے لئے اس پر یقین کرنا مشکل ہو گا کیونکہ پاکستان ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جیسا کہ افغانستان میں سولہ سترہ بھارتی قونصل خانوں کی بات کی جاتی ہے جن کی اصل تعداد چار ہے اور آزادی کے دن سے آج تک ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ یہ ایک بہت سادہ حقیقت ہے جس کی تصدیق ایک دن میں ہو سکتی ہے۔ نہ آج تک اس بات کی تصدیق کی گئی نہ ہی اس کی درستگی کی گئی۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اور کتنی غلط فہمیاں ہوں گی۔ ہم ایک خود مختار ریاست ہیں اور ہمیں یہ حق ہے کہ ہم کسی بھی ملک سے تعلقات رکھیں۔ لیکن بطور ہمسائے آپ کو یہ حق حاصل ہے اور آپ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے کسی ملک سے تعلقات آپ کے لئے نقصان کا باعث نہیں بنیں گے۔ اور یہ ہمارے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہے کہ ہم کسی بھی ملک بشمول بھارت کو یہ اجازت دیں کہ وہ ہماری سرزمین آپ کے خلاف استعمال کریں۔ ہم اس پر بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اس پر مکمل تحقیقات کے لئے بھی تیار ہیں۔ حقائق کسی سے مخفی نہیں۔ پاکستان جیسی تحقیقات کرنا چاہے ہم اس کے لئے تیار ہیں‘۔

خیال تو یہ تھا کہ ڈاکٹر عمر زاخیل وال کے چیدہ نقاط سامنے رکھ کر اس پر بات کی جائے لیکن طول کلام نے اس کا امکان ختم کر دیا۔ سنجیدگی سے اگر غور کیا جائے تو ڈاکٹر عمر کی باتوں سے اختلاف ممکن نہیں سوائے اس کے کہ افغانستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی ہمدردیاں ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ ہیں۔ ایسا کیوں ہے اس کو سمجھنا کوئی راکٹ سائنس تو ہے نہیں اور اللہ کے فضل سے ہمارے یہاں افغان طالبان کی ببانگ دہل حمایت کرنے والے نہ صرف قومی صحافی و دانشور موجود ہیں بلکہ اب تو نئے چلن کے مطابق ٹی وی فوٹیج کھانے والے سیکیورٹی انالسٹ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس بات کو اب تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہماری اس ’ تزویراتی گہرائی‘ کے فلسفے اور ان ’تزویراتی اثاچہ جات‘ نے دونوں ممالک میں کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یہ مان لینے میں کونسی قباحت ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟ جس مذہبی بیانیے کی بنیاد پر افغانستان میں طالبان جہاد لڑ رہے ہیں ٹھیک اسی مذہبی بیانیے پر ٹی ٹی پی نے پاکستان میں جہاد شروع کیا تھا۔ جن فتوی جات کی ڈاکٹر عمر نے بات کی وہی فتوی جات انہی لوگوں نے ٹی ٹی پی کے حق میں پاکستان میں بھی جاری کئے تھے۔ اس سوال سے کب تک آنکھیں چرائی جائیں گی کہ اگر اے پی ایس میں بچوں کو قتل کرنے والے مجرم ہیں تو کابل میں عام لوگوں میں خود کش حملے کرنے والے کیسے مجاہد ہو گئے؟ ممکن ہے قومی جذبے سے سرشار ملت اسلامیہ کے جانباز دانشور اور مقتدر صحافی ڈاکٹر عمر زاخیل وال کی افغان پرستی اور خاکسار کی جہالت قومیت پر کلام کریں ۔ اگر ایسا ہواتو اپنی گزارشات پیش کر دیں گے۔

سر دست تو سوال یہ ہے کہ کل پاکستان کے دارلخلافہ کے قلب میں دفاع پاکستان کے نام پر آسیبی آنکھوں اور چنگاڑتی آوازوں والے جن لوگوں نے ٹینکوں، میزائلوں اور خون سے رنگے خادار تاروں سے مزین پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور قوم کو بتا رہے تھے کہ قومی حمیت کی پاسبانی کیسے ہوتی ہے، وہ لوگ کون تھے؟ وہ یہاں کس کی اجازت سے اکھٹے ہوئے تھے اور ان کا ایجنڈا کیا تھا؟ کیا ان میں برائے نام کالعدم تنظیموں کے لوگ نہیں تھے؟ اگر تھے تو سوال یہ ہے کہ کیا آبپارہ میں نیشنل ایکشن پلان کا جنازہ نہیں اٹھا؟ انیسویں صدی میں کسی یورپی سیاستدان نے کہا تھا کہ فرانس میں کسی کو چھینک آجائے تو یورپ کو زکام ہونے لگتا ہے۔ عرض یہ ہے کہ بلوچستان میں کسی قوم پرست کو چھینک آجائے تو دارلخلافہ میں بسنے والوں کی بھنویں تن جاتی ہیں مگر ان کی ناک کے نیچے چند لوگ شدت پسندی کی برآمدگی پر فخر کریں تو یہ خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “آسیبی آنکھوں والے کون تھے؟

  • 07-06-2016 at 1:24 am
    Permalink

    ظفراللہ خان صاحب
    آپ کی جرات کو سلام ہے. ایسے لوگ بہت کم پائے جاتے ہیں جو قلم کا هق ادا کرنا جانتے ہیں. میں وجاہت مسعود کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک سے ایک گوہر نایاب جمع کر رکها ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب میں بہت اعلی لکهنے والے موجود ہیں لیکن جس جرات رندانہ سے وجاہت مسعود فرنود عالم اور ظفر اللہ خان کا قلم چلتا ہے اس کی جتنی بهی داد دی جائے وہ کم ہے. ظفر اللہ خان آپ لکهتے رہیں آپ کی آواز بہت سے بہروں کے کانوں کے پردی پهاڑنے کے لئے کافی ہے

  • 08-06-2016 at 8:21 pm
    Permalink

    very bold article

Comments are closed.