سوال کرنا بدتمیزی ہے یا ذہانت؟


مجھے موسیقی کے بارے میں زیادہ جانکاری تو نہیں لیکن سنا ہے کہ اس میں سات سُر ہوتے ہیں جن سے سارے راگ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان سُروں میں کچھ تِیور ہوتے ہیں اور کچھ مدّھم۔ میرا تو بس یہ خیال ہے کہ مدّھم سُروں پر اگر میٹھے بول گائے جائیں تو ان کو اور بھی مسحور کن بنایا جا سکتا اور تِیور سُروں پر شوخ و چنچل گیت گا کر ان کو مزید چمکایا جا سکتا ہے اور میرا یہ خیال غلط بھی ہو سکتا ہے۔ گیت کانوں کو بھلا لگے اس کے لیے سُر اور تال کا ایک دوسرے سے موافق اور متوازی ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جہاں سر اور تال کا توازن بگڑا وہیں موسیقی محض ایک شور بن کر رہ جائے گی۔

لیکن ہمارے ہاں کے تو باوا آدم ہی نرالے ہیں۔ ہر کوئی اپنی راگنی الاپ رہا ہے اور ہر کسی کے سُروں کی اپنی گنتی ہے۔ سنتے تھے کہ موسیقی سننے کے لیے کان بھی سُریلا ہونا چاہیے تبھی کوئی سُر اور تال سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر وہ انسان جو سُریلا کان رکھتا ہو وہ سُروں پہ گفتگو بھی کر سکتا ہو اور ان پر مستند رائے دینے کی قابلیت و اہلیت بھی اس میں موجود ہو، بلکہ اس کی حدود صرف سننے اور سَر دُھننے تک محدود ہیں یا صرف سنے ہوئے کی بنیاد پر اس خیال کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرے کہ یہ حتمی نہیں ہو گی۔ اسی طرح سُر اور راگ کا حقیقی معنوں میں علم رکھنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ سننے والے کی رائے سے متفق بھلے ہی نہ ہوں لیکن اس کی رائے کا احترام ضرور کریں۔ یہی رواداری وہ واحد راستہ ہے جو آپ کو دوسرے کی رائے یا خیال کو درست سمت پہ لے جانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

یوں بھی حدود کا خیال تو مہذب معاشروں میں رکھا جاتا ہے۔ اور ہیں تو ہم بھی ایک (نام نہاد) مہذب معاشرے سے تعلق رکھنے والے لیکن اس کی حدود و قیود ذرا مختلف ہیں۔ اور یہاں کے زیادہ تر باشندے حدود و قیود کے نفاذ کو اپنے علاوہ ہر کسی پر ضروری سمجھتے ہیں۔

بات سیاست پہ ہو رہی ہو، شاعری پہ یا پھر موسم پہ۔ ذکر خارجہ پالیسی کا ہو یا عالمی تجارت کا۔ زیرِ بحث موضوع گلوبل ویلج ہو یا گلوبل وارمنگ، ہمارے ہاں تمام معاملات میں ہر شخص نہ صرف خود کو ہر موضوع پہ گفتگو کرنے کا اہل سمجھتا ہے بلکہ اپنی رائے کو سب سے زیادہ ٹھوس، مدلل مستند اور مقدّم بھی خیال کرتا ہے۔ چلیں یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن مسئلہ تب ہوتا ہے جب اپنی رائے کو دوسروں سے بھی اسی طرح درست منوانے کی کوشش کی جائے جس طرح آپ خود اپنی رائے کے بارے میں سوچے بیٹھے ہیں۔ اور جب ایسا ممکن نہ ہو پائے تو انتشار لازمی ہے۔

کچھ ایسا ہی حال ہمارے سینئیر اور جونئیر شعراء کرام کا ہے۔ ہر کسی کا اپنا آرٹ اور اپنا کرافٹ، مرضی کے عیوب اور مرضی کی گنجائشیں۔ جہاں جی چاہا تنافر اور شتر گربہ کی پروا کی جہاں چاہا یہ کہہ کر مصرع پہ محنت کرنے سے جان چھڑا لی کہ عصرِ موجود میں ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہر کسی کی نظر میں اپنے علاوہ باقی سب بیکار ہیں اور سب کا کلام بیکار ترین۔ ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ فنکار کسی بھی دوسرے انسان کے مقابلے میں زیادہ حسّاس ہوتا ہے، شعراء کے ہاں یہ حساسیت ان کی تخلیقات میں تو دکھائی دیتی ہے لیکن بیشتر کے رویے اس حساسیت سے خالی ہیں۔ یہاں بھی طبقے اور فرقے بن چکے ہیں۔ بہت سے شعراء ہیں جو خود کو فقیر کہلوانے پر بضد ہیں اور انکار کرنے والے کے خلاف باقاعدہ محاذ بنا لیتے ہیں۔

بعض ایسے ہیں جو خود کو تصاویر وغیرہ کے ذریعے ہر ممکن طور پر بے نیاز اور درویش صفت ظاہر کرنا چاہتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پہ یا کسی بھی دوسرے فورم پر آپ ان کی تخلیق پر ذرا سا تنقیدی تبصرہ کر دیجیے اور پھر دیکھیے کیسے ہوا ہوتی ہے ان کی بے نیازی۔

نئے شعراء نیا شعر کہنے اور تازہ کاری کی دُھن میں یوں سرپٹ بھاگ رہے ہیں کہ ان کو اپنی سمت کا ہی کچھ پتہ نہیں کہ ہم جا کہاں رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنا استاد خود ہے۔ چھوٹوں کی نظر میں بڑے مغرور اور بڑوں کی نظر میں چھوٹے بدتمیز اور بدتہذیب ہیں۔

ہمارے ہاں تو تمیز اور بدتمیزی، تہذیب اور بد تہذیبی کی تعریف بھی ہر کسی نے اپنی سہولت کے مطابق گھڑ رکھی ہے۔ ہمیں بچپن ہی سے سکھا دیا جاتا ہے کہ بڑوں سے سوال نہیں کرنا۔ سوال نہ کرنا ایک ایسی خلیج ہے جو ہمیشہ سے دو نسلوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی آئی ہے، نئی اور پرانی نسل اس خلیج کے دونوں طرف کھڑی رہ جاتی ہے اور درمیان سے وقت سرعت کے ساتھ گزرتا چلا جاتا ہے اور یہیں سے خرابی کا عمل شروع ہوتا ہے۔

درحقیقت خود کو جواب دینے کے قابل بنانے کی محنت سے بچنے اور لاجواب ہونے کے خوف کی وجہ سے سوال کرنے کو بدتہذیبی یا بدتمیزی کہنے کی روایت پڑی ہے، ورنہ سوال تو ایک نبی نے بھی دوسرے نبی سے کیا۔ کیونکہ سوال تو جاننے کی خواہش کا دوسرا نام ہے۔ سوال تو تجسّس ہے اور یہ تجسّس ہی ہے جس نے ہمیں پتھروں کے زمانے سے نکال کر اس آسائشوں بھری زندگی تک پہنچایا۔ سوال اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی بات کو سنا گیا اس پر غور کیا گیا، آپ کے عمل پر توجہ دی گئی اور اس سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی گئی، سوال بھی اسی کوشش کی ایک کڑی ہوتا ہے۔ سوال کو دبانے کی کوشش جن معاشروں میں کی جاتی ہے وہ لازمی طور پر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں نہ ادب پھلتا پھولتا ہے اور نہ ہی دیگر حوالوں سے ایسے معاشرے ترقی کر پاتے ہیں۔

سوال سے بچنا سہل پسندی کی علامت ہے اور سہل پسند قومیں کبھی پنپتے ہوئے نہیں دیکھی گئیں۔ ضرورت دراصل اس امر کی ہے کہ سوال کو تہذیب کا حصہ بنایا جائے اور سوال کیسے کیا جانا چاہیے اس حوالے سے بچوں کی باقاعدہ تربیت کی جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ سوال کا مقصد واقعتًا نامعلوم کو معلوم کرنا ہونا چاہیے۔ جبکہ ہمارے ہاں اکثر اوقات سوال کا سب سے آخری مقصد بھی جاننا نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے کی لاعلمی کا پردہ فاش کرنا ہوتا ہے۔ ہم سوال جاننے کے لیے نہیں کرتے بلکہ جو پہلے سے جانتے ہوں اس کو بیان کرنے کی خواہش میں کرتے ہیں تاکہ دوسرے کو لاجواب کر کے حظ اٹھا سکیں۔ جس دن سوال کرنے کو بدتمیزی کی بجائے ذہانت تسلیم کر لیا گیا اور سوال کرنے کی تربیت کو اپنے تمدن کا حصہ بنا لیا گیا اس دن دنیا ایک نئے روپ میں سامنے آئے گی جو بہت حسین ہو گا جس میں سُر اور تال ایک توازن میں سنائی دیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں