منفیات


ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻗﯿﺪ ﮐﺌﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮬﯿﮟ۔ ہم اپنی خوشیوں اور دکھوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں، انہیں ان کا واجب حق اور مقام نہیں دیتے۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﻛﻴﻮﮞ ﮬﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺍِﺗﻨﮯ ﺳﮩﻢ ﭘﺎﻝ ﺭﻛﮭﮯ ہیں ﻛﮧ ﻛﻮﺋﻰ ﺧﻮﺷﻰ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣُﺴﻜﺮﺍﺗﮯ ﺗﮏ ﻣُﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎ ﻛﺮ ہیں۔ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ہیں ﻛﮧ ہماﺭﮮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮩﻴﮟ ﺑﺴﺘﮯ ﺑﻠﮑﮧ بھیڑیے ہیں یا سروں پر ﮔﺪﻫ منڈلاتے پھرتے ہیں۔
ﺟﻮ ﺍﮔﺮ ہماﺭﮮ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﻴﮟ ﺧﻮﺷﻰ ﻳﺎ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﻨﺴﻰ ﺩﻳﻜﮭﻴﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺟﮭﭙﭧ ﻛﺮ ﻟﮯ ﺍُﮌﻳﮟ ﮔﮯ۔

ﺍﭘﻨﻰ ﺧﻮﺷﻰ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﭧ ﻛﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﻛﻰ ﺭﻭایت ﻛﻮ ﮨﻢ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﻛﮫ ﻛﺮ ﺑُﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ دوسری طرف ﺍﭘﻨﮯ ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﮐﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﮯ۔ ﮬﻤﯿﮟ ہماﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﻑ ﺟﮑﮍﮮ ﺭﮬﺘﺎ ہے ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﮐﮫ ﮐﮩﯿﮟ ہماﺭﮮ ﺩﮐﮫ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻮﺍ ﮬﻮﺍ ﺗﻮ ہماﺭﺍ ﺩﮐﮫ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﮬﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺩﮐﮫ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮯﻧﺎﻡ ﺳﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭہے ہوتے ہیں اور ہم اپنی ان رویوں پر ہٹ دھرمی سے قائم رہتے ہیں۔

یوں ﺩﻳﻜﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮬﭧ ﺩﮬﺮﻣﻰ اور ثابت قدمی ﺍﻳﮏ ﮬﻰ ﺟﺬﺑﮯ ﻛﮯ ﻣﻨﻔﻰ اور مثبت ﭘﮩﻠﻮ ہیں۔ ﺍﻧﺎ ﻛﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺑﮭﻰ ﺍﻳﮏ ﻋﺠﻴﺐ ﻃﺮﺡ ﻛﻰ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﻰ ﭘﺎﺋﻰ ﺟﺎﺗﻰ ہے۔ ﺍﻛﺜﺮ ﻳﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﻳﺴﮯ ﺍﻳﺴﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﻴﮟ ﺑﮭﻰ ﺍﭘﻨﻰ ﮬﭧ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺪ ﭘﺮ ﻳﻮﮞ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮬﺘﮯ ہیں ﻛﮧ ﺟﻦ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﻴﮟ ﻋﺎﻡ ﺩﻝ ﮔﺮﺩﮮ ﻛﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﭻ ﺍﻭﺭ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺑﮭﻰ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﻳﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﮔﺮ ﺣﻖ ﻛﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮬﻮﮞ ﺗﻮ ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺭﻗﻢ ﻛﺮ ﺳﻜﺘﮯ ہیں۔ ﻟﻴﻜﻦ ﺍﻥ ﻛﻰ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﻰ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻤﺖ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔
ایسے میں ضروری ہے کہ اپنے رویوں کے ساتھ ساتھ اپنی روایتوں کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ انسان اپنے نسل در نسل چلے آتے رویوں اور روایتوں کا ہی عکس ہوتا ہے۔

ﺭﻭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﯾﺎﻧﺘﺪﺍﺭﺍﻧﮧ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺸﮑﯿﻞ ﻧﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﻬﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺮﮎ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻻﺯﻣﯽ ﺍﻣﺮ ﮨﮯ کیونکہ روایتوں اور رویوں کا دیانتدارانہ اور تنقیدی جائزہ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺭﺛﮯ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﻠﯽ ﻧﺴﻞ ﺗﮏ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﻭﺭﺛﮧ ﺭﻭﯾﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺘﯿﮟ ہی ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮦ ﻗﻮﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮔﻠﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﻭﺭﺛﮯ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﻭﮨﯽ ﺣﺼﮧ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺗﻠﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺌﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻧﺌﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺁﮨﻨﮕﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ میں کوئی خلیج حائل کریں یا رخنہ ڈالیں۔

ﻟﯿﮑﻦ عموماً ہوتا یوں ہے کہ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﻭﺭﺛﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺣﺘﯽ ﺍﻟﻤﻘﺪﻭﺭ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﻠﯽ ﻧﺴﻞ تک ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮ ﺩینے کو نہ صرف ﮐﺎﻓﯽ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ورثے میں ملے تعصبات اور ضدیں خوب پالتے ہیں اور انہیں مزید تنومند کر کے اگلی نسل کو منتقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہم تعصب کے ان سنپولیوں کو اپنا خون پِلا پِلا کے اژدھے بناتے چلے جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ زہر سانپ کی طاقت سہی لیکن انسان کا معاملہ مختلف ہے۔ انسان اپنے اندر پیدا ہونے والے زہر کا ﭘﮩﻼ ﺷﻜﺎﺭ ﮬﻤﻴﺸﮧ ﮬﻢ ﺧﻮﺩ ﮬﻮتا ہے۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻛﮯ ﺯﮬﺮ ﺳﮯ ﻧﻴﻼ ﭘﮍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﻭﺟﻮﺩ اس کا ﺍﭘﻨﺎ ہوتا ہے۔
ﺩﮬﻴﺮﮮ ﺩﮬﻴﺮﮮ وہ ﺯھر انسان کی ﺭﮔﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺳﺮﺍیت ﻛﺮﺗﺎ ﮬﻮﺍ اسے ﺑﮯﺣﺎﻝ ﻛﺮ ﻛﮯ ﺟﺐ اس کی ﺯﺑﺎﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ہے ﺗﺐ ھی ﻭﻩ اس ﺯﮬﺮ کو ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﻛﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﻛﺮتا ہے۔ اس لیے تعصب اور بغض جیسے زھر کو تلف کر دینا ہی دانش مندی ہے۔

کیونکہ ﺍﻳﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﮯ ﺩﻝ ﻣﻴﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﻣﻴﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺫﻳﺎﺩﻩ ﺍﺫﻳﺖ ﻧﺎﮎ ﺟﺬﺑﮧ ‘ ﻧﻔﺮﺕ’ جو تعصب کی دین ہے۔ نفرت ﺍﯾﺴﯽ ﺁﮒ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮨﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻮ ﺟﻼ ﮐﺮ ﺭﺍﮐﮫ ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺁﮒ ﻛﻰ ﻟﭙﭩﻮﮞ ﻛﻰ ﺯﺩ ﻣﻴﮟ ﺁ ﻛﺮ ﺟﮭﻠﺴﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺍﺣﺴﺎﺱ ‘ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﺤﺒﺖ’ ہوتا ہے۔ ﺍﻭﺭ احساسِ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ عاری ﺩﻝ ﻛﻰ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻛﻮﺋﻰ ﻭﻳﺮﺍﻥ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮧ، ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﻛﻰ ﭼﮩﻜﺎﺭ ﺗﻮ ﻛﻴﺎ ﺍﻧﮉﮮ ﭘﻴﻨﮯ ﻛﻮ ﺁﺋﮯ ﺳﺎنپوں ﻛﻰ ﭘﮭﻨﻜﺎﺭ ﺗﮏ ﺳﻨﺎﺋﻰ ﻧﮧ ﺩﮮ۔

ﻧﻔﺮﺕ ﻭﻳﺮﺍﻧﻰ ﮬﻰ ﻭﻳﺮﺍﻧﻰ ہے۔ نفرت اور تعصب جیسے امراض میں مبتلا اذہان ہر وقت خود کو کسی نہ کسی خود ساختہ محاذ پر ڈٹا ہوا رکھتے ہیں اور ہر صورت دوسرے پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہر محاذ پر وہ اپنے رویوں کو اپنا ہتھیار بنانے ہیں۔ ان میں بدزبانی، بدخواہی اور طنز جیسے مہلک ہتھیار سرِ فہرست ہیں۔ انسانی اذہان کو قدرت نے متنوّع صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان کو مثبت یا منفی طور پر استعمال کرنے کا کسی قدر اختیار بھی انسان کو ودیعت کیا گیا ہے۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ ہر دو طرح کے استعمالات کی صورت میں آپ کی توانائیاں ضرور صرف ہوتی ہیں۔ یوں طنز کرنے کے ﻣﺎﻫﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﺒﻬﺘﻰ ﻫﻮﺋﻰ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﺷﻮﻗﻴﻦ ﺧﻮﺍﺗﻴﻦ ﻭ ﺣﻀﺮﺍﺕ بھی باصلاحیت اور ﻣﺤﻨﺘﻰ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﻴﮟ۔

ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ اس کام کے لیے ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﭼﻨﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺑﮯﺿﺮﺭ ﻟﮕﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻃﻨﺰ ﮐﯿﺎ جا رہا ﮨﻮ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﻠﮓ ﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺑﻬﮍﮎ ﺑﻬﯽ ﺍﭨﻬﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺻﺎﻑ ﺩﺍﻣﻦ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻬﮍﮎ ﺍﭨﻬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺑﻬﮍﮐﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺍﻧﮩﯿﮟ کسی طور ﻧﮧ ﺳﻤﺠﻬﺎ ﺟﺎئے۔ ان کے ان محاذوں میں کامیابی اور ناکامی کا تناسب بھی بالکل کسی فوجی محاذ کی طرح دو چیزوں پر منحصر ہوتا ہے۔ نمبر ایک ان کی طاقت اور نمبر دو حریف کی کمزوری۔ انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن وہ اپنے اس شرف کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ کہیں تو بالکل لاچار ہو کر رہ جاتا ہے اور کہیں خُدا بن بیٹھتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتا کہ جیسے ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮈﺍل کر ﺟﺎﻝ ﮐﻮ سمندر ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻳﺎ ﺟﺎﺋﮯ کہ نہ تو وہ پوری طرح مقید ہو اور ہی مکمل طور پر آزاد۔ قدرت کی طرف سے بندے کو ملے ہوئے اختیارات کی مثال بهی ایسی ہی ہے کہ اس کی حدود مقرر کر کے اسے دنیا کے سمندر میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس آزاد قسم کی قید کو سمجھنا ہی انسان کا شرف ہے۔ جو نہ سمجھ پایا اس نے اس شرف کو کھو دیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں