رمضان المبارک: چین میں مسلمانوں پر پابندیاں


editدنیا بھر کے مسلمان رمضان المبارک کے آمد پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور عبادات کا اہتمام کر کے اس مقدس مہینے کا استقبال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے برعکس چین کے صوبے سنکیانگ XINGJIANG میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں پر روزہ رکھنے یا عبادت کرنے کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی لامذہب ہے لیکن سرکاری طور پر یہ ملک میں آباد مختلف عقائد کا احترام کرنے اور انہیں اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دینے کا اعتراف کرتی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی سنکیانگ کے مختلف علاقوں اور شہروں کی مقامی انتظامیہ نے یہ احکامات جاری کئے ہیں کہ سرکاری ملازمین ، طالب علم ، استاد اور کم عمر بچے روزہ نہیں رکھ سکتے۔ بیشتر صورتوں میں انہیں عبادت کرنے یا مساجد میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ رمضان کے ماہ میں اگرچہ مسلمان کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں لیکن ریستوران کھلے رکھے جائیں گے۔ مقامی حکام کی ان ہدایات کے برعکس چین کی مرکزی قیادت نے گزشتہ ہفتے کے دوران اعلان کیا تھا کہ مغربی صوبے سنکیانگ میں لوگوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

چین کی سٹیٹ کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک وہائٹ پیپر میں سنکیانگ میں مذہبی آزادی کا دعویٰ دراصل مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے ہی کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اس علاقے کی مذہبی اقلیتوں کو اتنی آزادی حاصل نہیں رہی۔ اس طرح اس سرکاری اعلان کے مطابق اب سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کو بھرپور آزادی حاصل ہے۔ بیان میں واضح طور سے کہا گیا ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق روزہ رکھنے یا عبادات کرنے میں آزاد ہیں۔ مسلمان ریستوران چاہیں تو روزے کے دوران کاروبار بند رکھیں تاہم جو لوگ اپنے ریستوران کھلے رکھنا چاہیں، انہیں اس کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ حیرت انگیز طور پر یہ بیان سنکیانگ کے صوبائی دارالحکومت اورمکی URUMQI اور صوبے کے دیگر شہروں کی انتظامیہ کے طرز عمل کے برعکس ہے۔ صوبے میں عام طور سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے روزہ رکھنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس مقصد کیلئے سرکاری اختیار کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری دفاتر ، اسکولوں اور بڑے تجارتی مراکز میں کام کرنے والے مسلمانوں کو روزہ رکھنے حتیٰ کہ عبادت کرنے کےلئے مساجد میں جانے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔ یہ پالیسی کئی برسوں سے نافذ العمل ہے لیکن ہر سال رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر پابندیوں کی تجدید کرنے کا خاص طور سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ سرکاری دفاتر اور مقامی انتظامیہ کے علاوہ مقامی کمیونسٹ پارٹی بھی مسلمانوں کو روزے رکھنے سے باز رکھنے کے لئے متحرک رہتی ہے۔ اس لئے سرکاری اداروں کے ذریعے احکامات جاری کرنے کے علاوہ پارٹی کے عہدیدار مختلف علاقوں میں ملاقاتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور والدین کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو روزہ رکھوانے سے باز رہیں۔

مذہبی رسوم پر عملدرآمد کے حوالے سے چین کا صوبہ سنکیانگ دنیا بھر میں بدترین جگہ ہے۔ حالانکہ اس علاقے میں 10 ملین سے زیادہ اویغور بستے ہیں جو اسلامی عقیدہ کو اپنے ثقافتی ورثہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ چین کی حکومت اس صوبے کو باقی ماندہ ملک کے ساتھ منسلک کرنے اور سنکیانگ میں مشرقی ترکستان خود مختاری کی تحریک کو دبانے کیلئے اقدامات کرتی رہتی ہے۔ اس حوالے سے اس صوبے کی اویغور مسلمان آبادی کو اسلام سے دور کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے سے روکنے کو سرکاری پالیسی کا اہم حصہ بنا لیا گیا ہے۔ چینی حکمرانوں کا خیال ہے کہ مذہب پرستی میں اضافہ سے انتہا پسندوں کو اپنے پاؤں جمانے کا موقع ملے گا۔ لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور اویغور آبادی کے بیرون ملک کام کرنے والے گروہ لوگوں کو روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے سے روکنے جیسے اقدامات کو ریاست کا جبر قرار دیتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ اس طرح اس علاقے میں انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اویغور باشندے صدیوں پرانی ثقافتی روایات پر عمل پیرا ہیں۔ مسلمان ہونا بھی اس روایت کا حصہ ہے۔ جبکہ چین کے حکام ان روایات کو مسترد کرتے ہیں اور زبردستی لوگوں کو اپنے عقیدے کے خلاف کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو افہام و تفہیم کی بجائے نفرت اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ماحول قومی ہم آہنگی پیدا کرنے کی بجائے انتہا پسندی کو ہی جنم دیتا ہے۔

سنکیانگ صوبہ زنگوریا اور مشرقی ترکستان پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں کو اٹھارویں صدی میں چین کی کنگ بادشاہت کے دور میں ایک صوبے کا حصہ بنایا گیا تھا۔ مشرقی ترکستان کا رقبہ چین کے کل رقبہ کا 15 فیصد ہے اور اس علاقے کی آبادی 20 ملین کے قریب ہے۔ ان میں 15 مختلف نسلی گروہ آباد ہیں لیکن اویغور کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ یہ لوگ ترک حملوں کے دوران مسلمان ہوئے تھے۔ اس علاقے پر اگرچہ چین کے شاہی خاندانوں کا تسلط قبل از مسیح سے ہی رہا ہے لیکن اس دوران کئی موقع پر اس علاقے نے خود مختاری بھی حاصل کی اور چین سے علیحدہ حکومت قائم کی۔ تاہم 1949 میں چین کی کمیونسٹ حکومت نے اس صوبے کو باقاعدہ طور سے چین کا حصہ بنا لیا تھا۔ یہاں کی اویغور آبادی چین کی اکثریتی ہان آبادی کی بجائے خود کو وسطی ایشیا سے زیادہ قریب سمجھتی ہے۔ یہ لوگ شروع سے ہی خود مختار مشرقی ترکستان کے لئے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ افغانستان کی جنگ اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والی مسلح جدوجہد جس نے بعد میں دہشت گرد گروہوں کی شکل اختیار کر لی، سے اویغور باشندوں کے بعض گروہ بھی متاثر ہوئے۔ یہ شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ ان میں سے کئی لوگ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان کے مدرسوں میں تعلیم بھی پاتے رہے اور یہاں سے جنگی تربیت بھی حاصل کی۔ چین نے پاکستان کو بھی اس بارے میں متنبہ کیا ہے اور اویغور علیحدگی پسند دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہا ہے۔ تاہم چینی حکام مشرقی ترکستان کی علیحدگی کی تحریک اور او یغور دہشت گردوں کو ایک ہی طرح دیکھتے ہیں اور انہیں یکساں قوت سے کچلنا چاہتے ہیں۔

یہ صوبہ وسیع رقبے کے علاوہ معدنی وسائل اور تیل کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ اس وجہ سے چین کے لئے اس خطے کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ چین نے متعدد اقتصادی اقدامات کے ذریعے علاقے میں ترقی کیلئے کام کیا ہے۔ شاہراہوں کے ذریعے اس صوبے کو ملک کے باقی حصوں سے ملا دیا گیا ہے۔ متعدد صنعتی اور تجارتی منصوبے بھی شروع کئے گئے ہیں لیکن بیجنگ کے حکمران اویغور آبادی پر بھروسہ نہیں کرتے اور علاقے میں ان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کیلئے مسلسل اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے اہم فیصلہ ہان آبادی کو اقتصادی مراعات ، سرکاری ملازمتیں اور سہولتیں دے کر سنکیانگ میں آباد کرنے کے بارے میں تھا۔ سنکیانگ میں 1949 میں ہان آبادی ساڑھے چھ فیصد یا 2 لاکھ 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ اب صوبے کی 40 فیصد آبادی ہان باشندوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری سرپرستی اور ملازمتوں میں ترجیحی سلوک کی وجہ سے ہان معاشی، سیاسی اور سماجی طور سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اس صورتحال میں اویغور آبادی میں ناراضگی اور ردعمل بھی پیدا ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار 2009 کے نسلی فسادات کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان فسادات میں 197 افراد مارے گئے تھے جبکہ 1600 زخمی ہوئے تھے۔ چینی حکمرانوں نے سختی سے ان فسادات کو کچل دیا تھا۔ مار دھاڑ اور فساد کے الزام میں 700 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں اویغور اکثریت تھی۔ 25 افراد کو ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں موت کی سزا دی گئی تھی۔

یہ فسادات اس علاقے میں ہان لوگوں کی کثرت سے امیگریشن کے بارے میں چینی پالیسی کی ناکامی کا اظہار بھی تھا لیکن بیجنگ نے اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی بجائے ، اسے سختی سے نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اویغور ثقافت اور عقیدے کے خلاف اقدامات بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔

بیجنگ کی حکومت سنکیانگ کو انتظامی سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے اپنے کنٹرول میں رکھنے کےلئے طویل المدت منصوبوں پر عمل کر رہی ہے۔ لیکن مقامی اویغور آبادی کی ثقافت کی حفاظت یا انہیں اپنے ورثہ کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرنا اس پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ حال ہی میں کاشغر میں اویغور باشندوں کو جدید عمارات میں منتقل کرنے اور ان کی پرانی آبادیوں کو گرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔او یغور اس فیصلے کو اپنے کلچر پر حملہ قرار دیتے ہیں لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان لوگوں کو زلزلے سے محفوظ کرنے کےلئے کیا جا رہا ہے۔سنکیانگ کی اقتصادی ترقی اور اس کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ سیاسی روابط اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئےبیجنگ کے اہم ترین منصوبے ہیں۔ چین پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری کا جو منصوبہ مکمل کرنا چاہتا ہے، وہ بھی دراصل اپنے مغربی صوبے کو اقتصادی لحاظ سے ترقی دینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ چینی حکام کا خیال ہے کہ اقتصادی خوشحالی کے نتیجے میں لوگ ثقافت اور عقیدہ کو بھول کر مالی سہولتیں اور مفادات حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔ اس کے علاوہ خطے کے ملکوں کے ساتھ بہتر مواصلت اور تعاون کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم SCO سنکیانگ پر گرفت مضبوط کرنے کے سیاسی منصوبہ کا حصہ ہے۔ اس طرح بیجنگ وسطی ایشیا کے ملکوں سے براہ راست رابطہ قائم کر کے انہیں علاقائی بنیادوں پر اویغور کی مدد کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔

سنکیانگ کی سرحدیں 8 ملکوں سے ملتی ہیں۔ ان میں منگولیا ، روس ، قازقستان ، کرغستان ، تاجکستان ، افغانستان ، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ان ملکوں میں 5 مسلمان ملک ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران افغان جنگ کے نتیجے میں سامنے آنے والی اسلامی انتہا پسندی کی وجہ سے سنکیانگ کے یہ سارے مسلمان ہمسائے اپنے طور پر دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لئے کسی کی طرف سے بھی اویغور باشندوں کی خود مختاری کی تحریک کی حمایت نہیں کی جاتی۔ حتیٰ کہ رمضان المبارک جیسے مہینے میں جب چینی حکام سنکیانگ کے مسلمانوں کو عبادات سے روکتے ہیں تو بھی پاکستان سمیت کہیں سے احتجاج کی کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔

ورلڈ اویغور کانگریس کی طرف سے چینی حکومت کے اقدامات کو سامراجی ذہنیت اور انسانی حقوق کی بھیانک خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن چین کا جواب ہے کہ اس نے علاقے میں لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر بنائی ہے اور ترقی کے کئی منصوبوں پر عمل بھی ہو رہا ہے۔ فی الوقت دنیا بیجنگ کی بات کو قبول کر رہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali