انچولی کے گیٹو دادا کا سر اور تلوار


انچولی کے لڑکوں میں حس مزاح کا جواب نہیں۔ یہ بلیک ہیومر کے ماہر ہوتے ہیں۔ دوسروں کے بلکہ اپنوں کے بھی نام رکھنے، مذاق اڑانے اور جملے چپکانے میں اپنی مثال آپ ہیں۔

شان حیدر یعنی شانے بھائی بھی بڑے جملے باز تھے۔ وہ پلمبر تھے اور نٹ بولٹ کے ساتھ فقرے کستے جاتے تھے۔ کسی نے ان کا نام پانے بھائی رکھ دیا۔ عرفان بھائی پولیس میں ملازم ہوئے تو محلے والوں نے پہلے دن انھیں ایس پی کا رینک دے دیا۔ وہ آج بھی عرفان ایس پی کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے بھائی ڈاکٹر اخلاق کے کمپاؤنڈر تھے۔ سب انھیں ڈاکٹر گوہر کہتے ہیں۔

امروہے کے بھائی تولیہ کو کون نہیں جانتا۔ اب ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ ایک بے حد محترم شخصیت کا نام ان کے السید گروپ کے چلبلے دوستوں نے پتلون رکھ دیا۔ ان کے ایک ساتھی بہت دبلے ہیں۔ انھیں خاص خاص دوست مُردہ کہتے ہیں۔ گلوکار حسن جہانگیر جس گھر میں رہتے تھے، اس میں دادا ڈھائی کی دکان تھی۔ یہ دادا ڈھائی کیا نام ہوا؟

انچولی میں جعفر نام کے کئی نوجوان تھے۔ اختر بھائی کا بیٹا جیفی کہلاتا ہے۔ ایک کے گال پر نشان تھا۔ وہ جعفر دھبہ مشہور ہوگئے۔ ایک کی صورت جلالی تھی۔ انھیں جعفر جن کا لقب مل گیا۔

جے ڈی سی کے منتظم ظفر بھائی برسوں پہلے ماذا جوس والوں کے ملازم ہوئے تو انچولی میں اپنی کمپنی کی مشہوری کی۔ مجلسوں کے تبرک کے لیے رعایت پر جوس کے ڈبے فراہم کیے۔ چنانچہ ظفر ماذا نام پڑگیا۔

شیعہ کسی کے بارے یہ نہیں کہتے کہ وہ شیعہ ہے۔ بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ مومن ہے۔ لیکن سنی کی پہچان کیسے ہو؟ انچولی کے لونڈوں نے ایک لفظ ایجاد کیا، کٹرو! جو سنی رواداری کا مظاہرہ کرتا دکھائی دے وہ مولائی ہے۔ جو شیعوں کا کٹر مخالف ہے، وہ کٹرو ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ لفظ انچولی کے علاوہ بھی کہیں استعمال کیا جاتا ہے یا نہیں۔

میں نے انچولی میں لڑائیاں ہوتے دیکھی ہیں لیکن ہاتھاپائی کی نوبت کم آتی تھی۔ امروہے کے بالے “آپ بہت برے ہیں، آپ بہت خراب ہیں۔” کہہ کر منہ پھیر کر چلے جاتے تھے۔ ہم بیس سال جس مکان میں کرائے دار رہے، اس کے مالک حیدر بھائی بہت شریف آدمی تھے۔ شاید کبھی ان کی کسی سے تو تو میں میں بھی نہ ہوئی ہو۔ صرف ایک بار کسی بحث مباحثے میں ان کا ضبط جواب دے گیا اور انھوں نے سامنے والے کو گھونسا دے مارا۔ اس کے بعد مرتے دم تک پورے محلے نے انھیں حیدر پنچ ہی کہا۔

انچولی میں ہر رشتے کا جگت نام مل جاتا ہے۔ اس کا عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ مرحوم نواب بھائی ستر سال کی عمر میں بھی سب کے بھائی تھے۔ رضا تاؤ بیس سال کی عمر میں بھی سب کے تاؤ تھے۔ بہاریوں کے شبیر خالو سب کے خالو تھے۔ امروہے کے ظریف ماموں سب کے ماموں ہیں۔

نواب بھائی کے داماد فرخ بھائی ہر وقت ہر ایک کی خدمت کے لیے کمربستہ رہتے تھے۔ وہ فرخ ایدھی کہلانے لگے۔ انور حاجی کے بھائی نے اللہ جانے کون سی کمیٹی کی سربراہی کی کہ ہر شخص انھیں انجم چئیرمین کہتا ہے۔ ان کے دوست کو محمد حسن کے نام سے کوئی نہیں جانتا لیکن آپ منوں پڑوں کہیں گے تو سب سر ہلائیں گے۔ شہزاد نے کسی کو چونا لگایا یا نہیں لیکن پیٹھ پیچھے اسے شہزاد چونا ہی کہا جاتا ہے۔

ایک جگت تایا اور مشہور ہیں۔ انھیں زیادہ لوگ کالے آصف کے نام سے جانتے ہیں۔ آصف بھائی زندگی کے کچھ قیمتی سال یونان یا اٹلی میں گزار چکے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ دیوتا ہوتے ہوتے رہ گئے۔

لوگ زنجیروں کا ماتم کرتے ہیں۔ میں نے کالے آصف کو تلواروں کا ماتم کرتے دیکھا ہے۔ پہلے وہ تلوار جیسی لمبے پھل والی زنجیر لگاتے تھے۔ بعد میں دو تلواریں لے کر اپنی پیٹھ پر پھیر لیتے تھے۔ زخم ایسے کھلتے کہ ڈاکٹر ٹانکے لگا لگاکر ہار جاتے تھے۔

ایسا ہی ڈرا دینے والا خون کا ماتم اقبال بھائی کرتے تھے جنھیں سب گیٹو دادا کہتے ہیں۔ انچولی میں پہلے قمہ کا ماتم نہیں ہوتا تھا۔ گیٹو بھائی نے اس کا آغاز کیا اور کئی سال چھری مارنے کے بعد تشفی نہیں ہوئی تو ایک سال تلوار لے کر جلوس میں آئے۔

مجھے وہ شب عاشور یاد ہے۔ جلوس میں ہزاروں کا مجمع تھا۔ گیٹو بھائی ایک ہاتھ سے تلوار بلند کرکے لائے تو سب پر ہیبت طاری ہوگئی۔ خون کا ماتم کرنے والے عام طور پر سر پر چھری سے ہلکا سا کٹ لگاتے ہیں۔ کھال پھٹ جاتی ہے۔ خون نکل آتا ہے۔

گیٹو دادا نے سر منڈوایا ہوا تھا۔ ذوالجناح کو دیکھ کر جیسے ہی حسین حسین کا شور مچا، انھوں نے تلوار گھما کر پوری قوت سے سر پر مار لی۔ ٹن کی آواز آئی۔ میں نے گھبرا کے آنکھیں میچ لیں۔ جلوس میں بھگدڑ مچ گئی۔ کوئی پھسل گیا، کسی کے موچ آگئی، کسی کا سر پھوٹا۔ اسکاؤٹس نے سیٹیاں بجائیں۔ نعرہ حیدری لگائے گئے۔ آخر بھگدڑ تھمی۔ جان میں جان آئی۔ اوسان بحال ہوئے تو دیکھا کہ گیٹو دادا زندہ سلامت ہشاش بشاش کھڑے ہیں۔ ان کے سر پر خون کا ایک قطرہ نہ تھا۔ تلوار شرمائی شرمائی نظر آرہی تھی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ سخت جان کھوپڑی نے تلوار کو شکست دے دی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 147 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi