ٹوٹی ہوی دیوار (ناول) چوتھی قسط


چوتھا باب
وقت : صبح دس بجے
تاریخ:7 نومبر، 2015
مقام : شاہ فیصل کالونی نمبر 5۔ کراچی

‘ ساری رات نہیں سویا ہے یہ، ذرا سی آنکھ لگتی نہیں ہے تو پھر چیخ کر اُٹھ جاتا ہے، اُٹھتا ہے تو پھر الٹیاں لگ جاتی ہیں، مجال ہے جو ایک دانا بھی پیٹ میں گیاہو۔ ’ ’بختاور نے عثمان کو پریشانی سے دیکھتے ہوئے ادریس سے کہا

‘ اچھا ٹھیر میں ابھی تھوڑی دیر میں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں وہ سوئی دے دے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ‘ ’ ادریس نے پیٹھ کھجا کر بختاور کو جواب دیا پھر ایک لمبی سی جمائی لی اور کمرے سے دالان میں آکر آسمان کی طرف دیکھنے لگا اور پھر منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا غسل خانے میں چلا گیا، ’لگتا ہے آج ٹھیک ٹھاک سالی بارش ہوگی۔ ’ ابھی اُس نے غسل خانے کے دروازے کی اندر سے چٹخنی چڑھائی تھی کہ کوئی گلی میں کھلنے وا لے د روازے کو زور زور سے پیٹنے لگا۔ بختاور چیختی ہوئی اندر کمرے میں سے نکلی، ’ کھولتی ہوں۔ کھولتی ہوں توڑو گے کیا دروازہ بھائی؟ ‘ ’ یہ کہتے ہوئے اُس نے دروازے کی چٹخنی اتار دی۔ دروازہ کھلا تو تین چار سپاہی اور ایک سب انسپکٹر دروازے پر کھڑے ہوئے تھے۔

‘ادریس گھر پر ہے؟ ’ سب انسپکٹر نے تحکمانے لہجے میں کہا۔

‘ کیوں۔ ادریس سے کیوں ملنا ہے؟ ’ ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے بختاور نے اُن سے اُلٹا سوال دھر دیا۔ ‘ اوئے بندہ جلادیا ہے اُس نے تین سو دو کا کیس بن رہا ہے اُس پر۔ ’ انسپکٹر نے پھر تحکمانہ لہجے میں کہا۔ یہ سن کر بختاورنے فوراٌ کہا، ’ ’وہ گھر پر نہیں ہے۔ آتا ہے تو اُسے بتاتی ہوں۔ ’ بختاور نے کنکھیوں سے باتھ روم کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ انسپکٹر کی طرف دیکھ کر جواب دیا، ’ ’اوئے بتانا نہیں ہے تھانے بھیج دینا۔ ’ انسپکٹر نے ڈنڈا گھماتے ہوئے کہنا شروع کیا، ’ بیان لینا ہے اُس سے، کل واردات ہوئی ہے چوک پر، بندہ مار دیا ہے کچھ لوگوں نے، اُس کا بھی نام ہے مارنے والوں میں۔ ’ تھانہ دار یہ کہ کر پلٹ گیا اور بختاور نے دروازے کی چٹخنی اندر سے چڑھادی اور پھر غسل خانے کے دروازے کو زور زور سے گھبراہٹ میں بجانے لگی، ’ ادریس باہر نکل پولیس آئی تھی۔ ’
‘ اوے آرہا ہوں مر نہیں۔ ’ ادریس باہر نکلا تو اُس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو اندر جانے سے پہلے تھا، ’کیا ہوگیا؟ ۔ کیوں شور مچا رہی ہے تو۔ ‘ ’ ادریس نے تولیہ گلے سے نکالا۔
‘ پولیس آئی تھی تیرا پوچھ رہی تھی۔ کہہ رہی تھی کوئی بندہ مارا ہے تو نے؟ ‘ بختاور نے روہانسی لہجے میں کہا۔
‘ ’ اوے وہ کل کے چکر میں آئی ہوگی۔ ’ ادریس کے چہرے پر اب بھی وہی اطمینان تھا، ’ تو فکر نہیں کر، وہ بلاسفمی کا کیس ہے، پولیس کی دو منٹ میں پھٹ جائے گی۔ تجھے میں نے کل رات نہیں بتایا تھا کہ وہ سالا کوئی کرسچن بھنگی، ہمارے نبی کریم کی شان میں گستاخی کر رہا تھا۔ سالا حرامی لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا تھا، اس لیے بیس تیس لوگوں نے اُسے پکڑ کر ماردیا۔ ’ اُس نے بختاور کی آنکھوں میں دیکھا، ’ ابے تجھے نہیں پتہ؟ یہ تو سالا ثواب کا کام ہے۔ اپنے مولوی سلیم اللہ نے خاص طور پر بتایا تھا کہ محلے میں ان سب باتوں کا خیال رکھنا ہے۔ اچھا ٹھیر میں ابھی ذرا مو لوی سلیم اللہ کو بتا تا ہوں تاکہ وہ تھانہ جانے سے پہلے ہی کچھ بند و بست کردیں۔ ’ ’ یہ کہہ کر ادریس نے سیل فون سے مولوی سلیم اللہ کو فون ملایا اور بتانے لگا، ’ جی مولوی صاحب علاقے کا سب انسپکٹر گھر پر آیا تھا دو تین پولیس والوں کو لے کر۔ جی جی۔ میری بیوی کو تڑی مارکرگیا ہے۔ جی جی۔ اچھا۔ اچھا ٹھیک ہے جیسے آپ کہیں مولوی صاحب۔ ’ پھر وہ بختاور کی جانب دیکھتے ہوئے بولا، ’لے بھئی بختاور کام ہو گیا ابھی تیس چالیس لوگ آرہے ہیں مدرسے سے، نعرہ بازی کرنی ہے تھانے پر، اس انسپکٹر کی تو ابھی بجاتے ہیں، سالا کنجر تڑیاں دے رہا ہے زنانی کو۔ ‘ ’ یہ کہتے ہوئے ادریس دالان سے کمرے میں واپس چلا گیا اور پھر الماری سے ایک ٹوپی نکال کر پہنی اور واپس دالان میں آ گیا۔ پھر کچھ سوچ کر وہ دوبارہ کمرے میں آیا اور اُسی الماری سے مولوی سلیم اللہ کا دیا ہوا ایک اسکارف بھی گلے میں ڈال لیامگر جونہی اُس نے الماری کا پٹ بند کیا اُس کی کھڑکھڑ اہٹ سے عثمان کی اچانک آنکھ کھل گئی اور جونہی ادریس پر اُس کی نظر پڑی وہ ہسٹریائی انداز میں زور زور سے چیخنے لگا، ’نہیں مجھے نہ جلانا، مجھے نہ جلانا، آگ آگ۔ ۔ ‘ ’ یہ کہہ کر وہ بسترپر ا س بُری طرح سے اچھلنے لگا جیسے سچ مچ اُس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہو اور پھر وہ اپنے پیروں سینے اور پیٹ پر جلدی جلدی ہاتھ پھرنے لگا جیسے کوئی بھڑکتی ہوئی آگ بجھا رہا ہو۔
‘اوے عثمان۔ کیا ہوگیا بچہ۔ ’ ادریس دوڑ کر اُس کے قرب آیا اور اُس کو پکڑنے کی کوشش کی مگر عثمان نے وحشت سے خود کو ادریس سے چھڑایا اورپاگلوں کی طرح بھاگ کر دالان میں آگیا اور پھر بختاور کے پیچھے چھپ گیا، ‘ اماں مجھے بچا لے۔ اماں مجھے بچالے۔ ‘ کی تکرار کرتے ہوئے عثمان کبھی بختاور کے دائیں جانب جاتا تھا تو کبھی بائیں جانب مگر ادریس کو اُسی طرح وحشت زدہ نظروں سے دیکھتارہا۔
‘اوئے اس تخم کو کیا ہوا یار؟ ’ ادریس نے نے ٹھوڑی پر ہاتھ پھرتے ہوئے عثمان کو حیرانی سے دیکھا اور بختاور سے کہا، ’ تو فکر نہ کر۔ میں تھانے سے واپسی میں ڈاکٹر منظور احمد کو گھر لاؤنگا، وہ انجکشن دیں گے تو یہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ مجھے لگتا ہے کل کا سین دیکھ کر کچھ ڈر شر گیا ہے شاید۔ ’ یہ کہتے ہوئے ادریس گھر سے باہر نکل گیا اور پھر مولوی سلیم اللہ سے ملنے مسجد کی طرف تیز تیز قدموں جانے لگا مگر ابھی اُس نے اپنے گھر والی گلی کو پار ہی کیا تھا کہ نکڑ پر کھڑے ہوئے رب نواز نے اُسے زور سے آواز دی، ’ابے ادریس۔ ’ ادریس نے پلٹ کر دیکھا تو رب نواز دوڑتا ہوا اُس کے قریب آگیا اور پھر اُس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگا، ’ ابے کل والا سین آگے بڑھ گیا ہے استاد۔ کل ہی رات کو پولیس کلو کو اُٹھا کر لے گئی ہے۔ ‘اُس نے ادھر اُدھر دیکھا، ’ دس بارہ نام لیے ہیں کلو نے، تیرا نام تو ٹاپ پر ہے۔ باس تو نکل لے ادھر سے۔ سالا ابھی معاملہ بڑا گرم چل رہا ہے۔ ‘
جواب میں ادریس نے آنکھیں بھینچ کر کہا، ’ ’ ابے ان کی ماں کی۔ سالے ہاتھ تو لگا کر دیکھے، میرے پیچھے پوری مسجد ہے، مدرسے کا لشکر ہے لشکر سمجھا۔ ابے کلو سمجھ لیا ہے کیا میرے کو؟ تھانے کی اینٹ سے اینٹ بجادینگے۔ ‘ پھر اُس نے کچھ گردن اونچی کی اور رب نواز کی آنکھوں میں آنکھیں، التے ہوئے کہنے لگا، ’سالے دین کا معاملہ تھا کوئی میری جاتی دشمنی نہیں تھی اُس حرام کے تخم سے۔ ’ اور پھر غصے میں ادریس نے زمین پر تھوک دیا، ’دیکھ بھائی ایک بات سن لے، حرمت رسول پر ہماری جان بھی قربان ہے۔ یہ پولیس کے ڈھکن، انہیں کیا پتہ ایمان کیا ہے؟ نبی کی عزت کسے کہتے ہیں؟ سالے سور کا گوشت کھانے والے حرامی رشوت خور۔ ’
ابھی ادریس کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک پجیرو جیپ اور ایک سفید ٹیوٹا کار اُس کے قریب ہی دھول اُڑاتی ہوئی رک گئی۔ ٹیوٹا میں سے تین چار مولوی شکلوں کے لوگ گاڑی سے باہر آئے اور بہت ہی احترام سے ادریس کے ساتھ مصافحہ کیا اور پھر گاڑی میں اُسے ساتھ ہی بٹھا لیا۔
ابھی ان کی گاڑی دو قدم ہی چلی تھی کہ ادریس نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور کھڑکی سے منہ نکال کر چیخ کر کہا، ’ اوئے رب نواز، یار ایک کام تو کر دے بھائی، ذرا ڈاکٹر منظور کو کلینک سے لے کر میرے گھر چلے جا، یارعثمان کی طبیعت خراب ہے۔ ’
‘ ’تو فکر نہ کر بھائی میں دیکھ لونگا۔ ’ رب نواز نے ہاتھ ہلا کر ادریس کو جواب دیا۔ اوردونوں گاڑیاں دھول اُڑاتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ تو رب نواز نے سگریٹ سلگائی اور ایک لمبا کش لے کر ہوا میں دھواں چھوڑا اور پھر ڈاکٹر منظور احمد کی کلینک والی گلی کی جانب قدم اُٹھانے لگا۔
ڈاکٹر منظور نے گھر پہنچ کر عثمان کو پہلے تفصیل سے دیکھا اور پھر بختاور کو کمرے کے ایک کونے میں لے جاکر کہا، ’ کیا بچپن ہی سے آگ سے ڈرتا ہے؟ ’
‘ ’ نہیں ڈاکٹر صاحب۔ ’ وہ بتانے لگی، ’ ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا بلکہ پچھلی شب برات میں تو خوب ہی پٹاخے پھوڑے تھے اِس نے، اور پھول جھڑی بھی بہت ساری جلا ئیں تھیں۔ گھر میں روٹی پکتی ہے تو باورچی خانے میں آتا جاتا رہتا ہے کبھی بھی کچھ نہیں ہوا۔ مگر کل شام سے اس کا بُرا حال ہے۔ بات یہ ہے کہ کل شام چوک پر جو بندہ مر ا تھا نا چورنگی کے پاس، وہی جس نے نبی کی شان میں بے ادبی کی تھی، بس یہ وہی کھڑا ہوا تھا اور سب کچھ دیکھ رہا تھا، بس پھر کل شام کے بعد سے یہی حال ہے۔ اور۔ ’ بختاور نے جب نان اسٹاپ بولنا شروع کیا تو ڈاکٹر نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے روکا اور کہا، ’ہاں میں نے سنا توتھا کل کوئی واقعہ ہوا تھا چوک پر۔ کسی کو پکڑ کر لوگوں نے زندہ جلا دیا تھا۔ ۔ خیر میرا خیال ہے بچے کو ہسٹریائی دورے آ رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کل کے واقعہ کی وجہ سے ہی ہو۔ جو کچھ اُس نے دیکھا ہے، یہ اُس کا صدمہ ہو یا پھر ڈر گیا ہو، فکر نہ کرو ٹھیک ہوجائے گا، تھوڑا وقت لگے گا سب بھول جائے گا۔ بس یہ دوائیں دیتی رہو۔ اگر فرق نہ پڑے تو کلینک لے آنا یا مجھے بلا لینا، میں آکر پھر دیکھ لونگا۔ ابھی میں اسے ایک انجکشن لگا دیتا ہوں یہ کہہ کر انہوں نے جونہی عثمان کو دوبارہ دیکھا تو عثمان پھر سے ہسٹریائی انداز میں چیخنے اور رونے لگا اور پھر یکا یک اُس نے بستر سے چھلانگ لگائی اور بختاور کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگا۔
بختاور نے اُس کو پچکارا، ’نہ میرے لال ضد نہیں کرتے شاباش انجکشن لگوالے۔ ‘ ’
مگر عثمان اور بھی زور زور سے چیخنے لگا۔ آگ آگ اماں آگ، دیکھ نہ اماں دیکھ نا ’ یہ کہہ کر اُس نے بے تحاشہ اچھلنا اور کپڑوں کو ہاتھوں سے ملنا شروع کردیا جیسے واقعی کسی نے اُس کے کپڑوں میں آگ لگا دی ہو۔

‘ رب نواز اس کو پکڑنا۔ ‘ جونہی ڈاکٹر نے یہ کہہ کر رب نواز کو اشارہ کیا تو عثمان نے ایک جھٹکے سے بختاور کا ہاتھ چھڑایا اور ڈاکٹر کو دھکا دے کر کمرے سے نکلا اور گلی کے دروازے سے سے باہر نکل گیا۔ رب نواز اور بختاور بھی اُس کے پیچھے فوراٌ دوڑے

مگر وہ پلک جھپک کر نکڑ تک پہنچ گیا اور پھر بھاگتا ہوا گلی کے کونے کی آدھی ٹوٹی دیوار کے پیچھے جاکر چھپ گیا اور گھٹنوں کے درمیان اپنا سر چھپا کر زور زور سے کانپنے لگا۔

ٹوٹی ہوی دیوار پانچویں قسط اگلے ہفتے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں