دی ڈونکی کنگ


 بچوں کیلئے بننے والی فلم دی ڈانکی کنگ کا ٹریلر کیا جاری ہوا پاکستان کے ایوان اقتدار اور موجودہ حکومت کے ہمدرد ٹی وی چینلوں پر ایک قیامت بپا ہو گئ۔ دی ڈونکی کنگ کے کرداروں سے خود ہی اپنی اپنی مماثلت ڈھونڈنے والے حکمران، صحافی اور مقتدر قوتوں کو چائیے کہ وہ آئینے میں کھڑے ہو کر اپنا عکس دیکھنا بند کر دیں انہیں یقینا پھر بچوں کے لیئے بنائی جانے والی اس فلم میں اپنے اپنے کردار اور شخصیت کی جھلک نظر نہیں آئے گی۔ اسے نرگسیت پسندی کی انتہا ہی قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، ان کے حمایتی صحافی اور مقتدر قوریں دن رات مخالفین پر طنز کے نشتر برسانے اور ان پر ٹھٹھے لگانے کے بعد یہ خیال کرتے ہیں کہ جوابا ان پر کوئ تنقید نہیں کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مزاح کا نشانہ بنایا جائے گا۔

حد تو یہ ہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل نے پورے ایک گھنٹے کا پروگرام کر کے بچوں کی اس فلم دی ڈونکی کنگ کو ملک کے خلاف سازش قرار دے ڈالا۔ معروف قصیدہ خواں سمیع ابراہیم نے اپنے ٹی وی پروگرام میں دی ڈونکی کنگ کے کرداروں کی مشابہت سیاسی رہنماوں اور مقتدر قوتوں کے ساتھ قرار دے ڈالی۔ موصوف کے مطابق فلم میں دی ڈانکی کنگ کا کردار عمران خان کا مذاق اڑانے کیلئے ہے ہے جبکہ شیر کا کردار نواز شریف کو دکھایا گیا ہے اور لومڑی کے کردار کے ذریعے دراصل ایسٹیبلیشمنٹ کی تصویر کشی کی گئ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے بھی ایک اجلاس کے دوران اس فلم کو موضوع بحث بناتے ہوئے اس پر پابندی لگانے پر سوچ و بچار کی ہے۔ یعنی کہ دل ہی دل میں سب جانتے ہیں کہ ان کی حرکات و سکنات دراصل اور حقیقتا فلم ڈونکی کنگ کے کرداروں سے مشابہت رکھتی ہے۔ اگر حقیقتا ایسا ہی ہے تو پھر اس فلم پر پابندی لگانے کے بجائے ایسی حرکات بند کرنی چاہیئں جو ایسے کرداروں سے کسی کی ہو بہو مشابہت کروانے کا سبب بنتی ہیں۔ ویسے مرحوم رنگیلا نے بھی کسی زمانے میں ایک فلم انسان اور گدھا کے نام سے بنائ تھی۔ جس میں ایک گدھا خدا سے دعا مانگ کر انسان بن جاتا ہے ۔ انسان بننے کے باوجود وہ گدھا دولتی مارنے کی اپنی فطری عادت سے باہر نہیں آ پاتا۔ مختصرا یہ کہ انسانوں کی دنیا کے عجیب و غریب مسائل اور منافقت کو دیکھ کر انسان بننے والا گدھا خدا سے پھر اسے واپس گدھا بنانے کی دعا کرتا پے۔ دعا میں چونکہ بے حد طاقت ہوتی ہے اس لئیے وہ دوبارہ گدھا بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر سچے دل سے دعا کی جائے تو بہت سے گدھے بھی دوبارہ انسان بننے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

رنگیلا کی فلم کے برعکس دی ڈونکی کنگ میں گدھا لومڑی جیسے مکار جانور کی عیاری کے باعث جنگل کا راجہ بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ چونکہ عمران خان صاحب نہ صرف اپنے دم پر اور عوامی مینڈیٹ کی بدولت اقتدار کی بادشاہت تک پہنچے ہیں اس لئیے انہیں قطعا بھی اپنے مشیروں اور قصیدہ خواں صحافیوں کی یہ بات نہیں تسلیم کرنی چائیے کہ انہیں دی ڈونکی کنگ کے کردار سے فلم میں مشابہت دی گئ ہے۔ اسی طرح جب عوامی مینڈیٹ کو قطعا ہائی جیک نہیں کیا گیا اور نہ ہی عمران خان کو انتخابات جتونے کیلئے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہوئے انہیں حسب منشا مرتب کرنے میں کسی قوت کا ہاتھ ہے اس لئیے اس فلم میں لومڑی کے کردار سے اپنے آپ کو تشبیہ دینے کی غلط سوچ مقتدر قوتوں کی ہے ۔ عام انتخابات سے پہلے محض عمران خان کو سلطنت کا بادشاہ بنانے کیلئے شیر کے نشان پر انتخابات لڑنے والی جماعت کے قائد نواز شریف کو پابند سلاسل بھی محض قانون کی عملداری یقینی بنوانے کیلئے کیا گیا تھا اس لئیے شیر کے کردار سے نواز شریف کو تشبیہ دینے والے بھی خوامخواہ مغالطے کا شکار ہیں۔

دی ڈانکی کنگ میں گدھے کو کنگ بنانے والی لومڑی کا ڈائیلاگ کہ ضرورت کے وقت تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے ہم نے تو صرف بادشاہ بنایا ہے اور گدھے کا یہ بیان کہ میں سلطنت کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار ہوں لیکن اس کا وزن ہرگز بھی تیس کلو سے زیادہ نہیں ہونا چائیے قطعا بھی مقتدر قوتوں یا عزت ماآب عمران خان کی فلاسفی اور بیانات سے ملتے جلتے نہیں ہیں۔ دی ڈونکی کنگ کی کہانی آزاد نگر کی ہے جبکہ ہم لوگ تو ابھی آزاد نگری سے کوسوں دور غلام نگر میں محض آزادی سے رہنے کے خوابوں پر ہی زندہ ہیں۔ اس لئیے فلم کو ہمارے معاشرے کے سیاسی و سماجی حالات سے تشبیہ دینا بھی از سر غلط ہے۔ گدھا ویسے بھی ایک محنتی اور مستقل مزاج جانور ہے جو محنت اور مستقل مزاجی اور سر جھکا کر اطاعت کر کے اپنے کام سرانجام دیتا ہے۔ ایسے شریف النفس جانور کو ہمارے کسی سیاسی کردار سے تشبیہ دینا گدھے کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ کیونکہ نہ تو ہمارے سیاسی کردار محنت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی مستقل مزاجی ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ البتہ اطاعت اور فرمانبرداری میں انہیں گدھے جیسے شریف النفس جانور کا ہم پلہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی ڈنڈے والے مالک کے احکام سر جھکا کر بلا چوں چراں مان لیتے ہیں۔

اس فلم دی ڈونکی کنگ کو ناپسندیدگی سے دیکھنے والی حکومتی جماعت تحریک انصاف اور مقتدر قوتوں کو چائیے کہ وہ بچوں کے پرزور اصرار اور ان کی اس فلم میں دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہرگز بھی اس پر پابندی لگانے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ذہنی طور پر بچوں جتنی معلومات رکھنے والی سیاسی حقائق و تاریخ سے نابلد ایک نسل کی شدید خواہش پر محض سٹارڈم کے بل پر کسی شخص کو زبردستی اقتدار کی مسند پر بٹھایا جا سکتا ہے تو یہ تو صرف ایک فلم کی نمائش کا معاملہ ہے اور وہ بھی اصل بچوں کی خواہش اور پسند کا۔ اگر ذہنی بلوغت کی کمی کا شکار بڑے بڑے بچوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اقتدار ان کی خواہش پر کسی کو سونپا جا سکتا ہے تو پھر محض ایک فلم دی ڈونکی کنگ جسے دیکھنے کی خواہش سچ مچ کم عمر بچوں کی ہے اسے پورا کرنے سے ملک و قوم یا معیشت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اگر ملک میں کٹھ پتلیاں لا کر کنٹرولڈ جمہوریت نافذ کرنے سے دنیا میں ہماری جگ ہنسائ نہیں ہو سکتی تو محض بچوں کی ایک فلم دی ڈونکی کنگ سے بھلا ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ ویسے کبھی کبھار خود اپنے اوپر بھی ہنس لینا چائیے۔ کہتے ہیں کہ جو اپنے اوپر خود ہنسنے کی صلاحیت رکھتا ہے دنیا اس کا مذاق نہیں اڑا سکتی۔ اس لئیے عمران خان اور مقتدر قوتوں سے درخواست ہے کہ اس فلم دی ڈونکی کنگ کی نہ صرف نمائش میں کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہ کی جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں