“اداس نسلیں” کی کہانی


عبداللہ حسین کے ناول ’’اداس نسلیں‘‘ کی اشاعت کو پچپن برس ہو گئے ۔اس عرصے میں یہ ناول ادبی منظرنامے کا مستقل حصہ رہا۔ تین نسلوں کے قارئین نے اس ناول کو ذوق وشوق سے پڑھا ، اس قدر پذیرائی اردو کے بہت کم ناولوں کے حصے میں آئی۔ اس ناول کی خاص بات یہ ہے کہ قارئین سے ہٹ کرادب کا گہرا فہم رکھنے والوں نے بھی اسے بیحد سراہا۔ اشاعت سے قبل جن تین اصحاب نے پڑھ کر گواہی دی کہ اردو میں بڑے فن پارے کا ظہورہوا ہے، وہ ادب کے پارکھ تھے۔ ناول چھپا تو کرشن چندر نے داد دی۔ آل احمد سرور کو یہ متاثر کر گیا۔ سکھوں کے بارے میں مصنف کی معلومات نے راجندرسنگھ بیدی کوحیران کیا۔ چند سال پہلے معروف ادبی جریدے ’’ آج ‘‘میں اجمل کمال کے قلم سے معروف مارکسٹ نقاد اعجاز احمد کے مضمون کا ترجمہ شائع ہوا تواس میں سکھوں کے بارے میں عبداللہ حسین کے بیانیے کی تعریف ان الفاظ میں موجود تھی ’’ مصنف سکھ کسانوں کی روزمرہ زندگی کے زیر و بم کا بھی خاصا عمدہ داخلی شعور رکھتا ہے جو بلونت سنگھ بلکہ راجندر سنگھ بیدی کے درجے کا ہے۔‘‘ ممتاز نقاد شمیم حنفی ناول کے مرکزی کردارنعیم کو اردو فکشن کے بہترین کرداروں میں گنتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تخلیق کار آغاز میں چھوٹی تصویر بناتا ہے لیکن عبداللہ حسین نے پہلی دفعہ ہی بڑا میورل پینٹ کیا۔

ممتاز ادیب شمس الرحمٰن فاروقی جنھوں نے تنقید میں اپنا سکہ جمانے کے بعد ’’کئی چاند تھے سر آسماں ‘‘جیسا بے مثال ناول لکھا ،فکشن کی طرف متوجہ ہونے سے قبل جن ادیبوں کا فکشن پڑھ کر رشک کرتے، ان میں عبداللہ حسین بھی شامل ہیں۔ ’’اداس نسلیں ‘‘ نامور شاعر انور شعور کا بھی فیورٹ ناول ہے۔ معروف نقاد صدیق جاوید نے مشفق خواجہ کے نام خط میں گزرے وقت کو یاد کرتے ہوئے لکھا ’’ فاروق حسن لاہور میں’’ اداس نسلیں‘‘ پڑھ کر لائل پور پہنچے تو شور مچا دیا کہ ایک زبردست ناول آیا ہے۔ ‘‘

دلی میں مقیم معروف فکشن نگارخالد جاوید جوعالمی ادب کے باذوق قاری ہیں، انھوں نے’’ایکسپریس‘‘ سے انٹرویو میں ’’اداس نسلیں‘‘ کو اپنا پسندیدہ ناول قرار دیا۔ انگریزی کے معروف ناول نگاراورصحافی محمد حنیف بھی اس ناول کے قائل ہیں۔ ان سب حوالوں کا مقصد ناول کی تحسین کرنے والوں کی فہرست سازی نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس ناول کو تخلیقی جوہر سے معمور ان حضرات نے بھی سراہا جن کے پیش نظر بڑے ناول کا معیار بھی تھا۔

کرشن چندر نے عبداللہ حسین کو خط میں لکھا :

’’ مکرمی ومحترمی عبداللہ حسین صاحب آپ کون ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ ادب کا مشغلہ کب سے اختیار کیا؟ اور کس طرح آپ ایک شعلے کی طرح بھڑک اٹھے؟ اپنا کچھ اتا پتا توبتائیے۔’’اداس نسلیں‘‘پڑھ رہا ہوں۔ لیکن اسے ختم کرنے سے پہلے یہ مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ اردوادب میں ایک اعلیٰ جوہر دریافت ہوا ہے۔ اس سے پہلے میں نے ایک کہانی پڑھی تھی، جس کا ماحول کینیڈا کا تھا۔ وہ کہانی بہت خوبصورت تھی اور عرصے کے بعد میں نے ایک ایسی کہانی پڑھی تھی، جس پر مجھے رشک آیا ہو۔ وہ کہانی پڑھ کرمیں نے اسی دن آپ کو مبارکباد دی تھی۔ خط البتہ آج لکھ رہا ہوں۔ آپ کی نثرمیں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو مجھے پسند ہیں۔ آپ کے لکھنے کا ڈھنگ، الفاظ کا انتخاب، سٹائل کی ایک سیال پگھلی ہوئی نیم گرم کیفیت جو فکراور جذبے کو ایک دوسرے میں تحلیل کردیتی ہے۔معلوم ہوتا ہے اس پیار میں آپ گہرے ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس عمل کا کرب بھی آپ کی تحریر سے نمایاں ہے۔ مگر یوں تو ہو گا ہی جو لوگ لفظوں سے پیار کرتے ہیں بہت دکھ اٹھاتے ہیں!‘‘

اس ناول کو جہاں اس قدر پذیرائی ملی وہاں چند اعتراض بھی ہوئے، سب سے بڑھ کرناول کی زبان پر سوال اٹھائے گئے۔ معروف نقاد مظفرعلی سید نے رائے دی کہ مصنف کو ناول لکھنے سے پہلے اردو سیکھ لینی چاہیے تھی۔اس طرح عبداللہ حسین ان اردو ادیبوں کی صف میں شامل ہو گئے، جن کی زبان اعتراضات کی زد میں آئی۔ فکشن میں زبان اگر کسی مقام پر بیانیہ سے ہم آہنگ نہیں یا مجموعی فضا کا ساتھ نہیں دے رہی تب تو بات ہے، مگر زبان وبیان کی غلطیاں پکڑنا اور تحریر میں پنجابی الفاظ کی موجودگی کے باعث زبان پراعتراض کی کوئی لم نہیں۔ عبداللہ حسین نے ناول لکھنے تک کا سارا عرصہ پنجاب میں گزارا،اس لیے بیانیے میں اگر کہیں پنجابی زبان کا اثر آ گیا تو اس میں پریشانی کی کون سی بات ہے، علامہ اقبال پر اس قسم کا اعتراض ہوا تو انھوں نے جواب دیا

’’ تعجب ہے میز، کمرہ، کچہری، نیلام وغیرہ اور فارسی اور انگریزی کے محاورات کے لفظی ترجمے کو بلاتکلف استعمال کرو۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی اردو تحریر میں کسی پنجابی محاورے کا لفظی ترجمہ یا کوئی پرمعنی لفظ استعمال کر دے تو اس کو کفروشرک کا مرتکب سمجھو۔۔۔یہ قید ایسی قید ہے کہ علم زبان کے اصول کی صریح مخالف ہے، اور جس کا قائم ومحفوظ رکھنا فرد و بشرکے امکان میں نہیں ہے ۔‘‘

فکشن میں اہم بات یہ ہے کہ زبان کا تخلیقی استعمال ہوا یا نہیں۔ اورسچ یہ ہے کہ ’’اداس نسلیں‘‘ کے سلسلے میں تو ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب پچپن برس سے مقبول ہے، اور جتنی پاکستان میں مقبول ہے، اتنی ہی ہندوستان میں، جہاں ہونے والے ایک سروے میں اسے اردو کا بہترین ناول قرار دیا گیا۔ ’’اداس نسلیں‘‘ پراعتراض کرنے والے شاید وہ حضرات ہوں گے، جو زبان کا سوفیسٹیکٹیڈ تصور رکھتے ہیں ۔ اس رجحان کے بارے میں مایہ ناز فکشن نگار نیر مسعود نے اپنی تشویش یوں ظاہر کی ہے ’’اردو کے ساتھ شہری تہذیب اور Sophisticationکا تصور لگ گیا کہ جتنی sophisticated اردو بولیں گے اتنا ہی اچھا ہے یعنی کسی طرح کی roughness یا دیہاتی پن نہ جھلکنے پائے۔ تو زبان کا سب سے sophisticated  روپ تو شاعری ہی میں ہے، اور شاعری میں بھی غزل میں۔ تو یہ خیال پہلے کے وقت سے لے کر آج تک عام ہے لکھنے والوں میں کہ زبان جتنی شاعری سے قریب یا شاعرانہ ہوگی، اتنی ہی اچھی ہوگی۔ اس نے نثر کو نقصان پہنچایا۔‘‘

عبداللہ حسین نے ہم سے گفتگو میں زبان کے بارے میں اپنے نقطہ نظرکی وضاحت یوں کی تھی ’’میں نے جب ناول لکھنا شروع کیا تو مجھے اردو نہیں آتی تھی، الٹی سیدھی زبان لکھی اور مجھے اعتماد بھی نہیں تھا کہ اسے پذیرائی ملے گی لیکن میری خوش قسمتی رہی کہ لوگ پرانی زبان سے، جس میں بڑا لچھے دار بیانیہ ہوتا تنگ آئے ہوئے تھے، اس لیے انھیں میری زبان Accessible  محسوس ہوئی اور انھوں نے اسے سراہا۔‘‘

اداس نسلیں‘‘پرایک اعتراض بلکہ الزام ممتاز فکشن نگار قرۃ العین حیدر کی طرف سے آیا۔ وہ اپنی خود نوشت ’’کارجہاں دراز ہے‘‘ میں لکھتی ہیں:

’’برسبیل تذکرہ ’’اداس نسلیں‘‘ کے متعلق انٹرویو میں مصنف نے ارشاد کیا کہ وہ عاجزہ کوایک قابل ذکرناولسٹ نہیں سمجھتے۔ اس بیان کی روشنی میں یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ’’اداس نسلیں‘‘کے متعدد ابواب میں ،’’میرے بھی صنم خانے‘‘،’’سفینہ غم دل‘‘، ’’آگ کا دریا‘‘اور’’ شیشے کے گھر‘‘ کے چند افسانوں کے اسٹائل کا گہرا چربہ اتارا گیا ہے۔ خفیف سے ردو بدل کے ساتھ پورے پورے جملے اور پیراگراف تک وہی ہیں لیکن آج تک سوائے پاکستانی طنزنگار محمد خالد اخترکے کسی پاکستانی یا ہندوستانی نقادکی نظراس طرف نہیں گئی۔ نہ کسی نے اشارہ کیا نہ اس کا ذکرکیا۔ کیا یہ  Male chauvinism نہیں ہے۔‘‘ ہماری دانست میں اس کوتاہی میں Male chauvinism کو دخل نہیں بلکہ اس الزام میں شاید دم ہی نہیں تھا وگرنہ ہمارے محققین اور ناقدین کو ’’موازنہ انیس ودبیر‘‘ تو بہت بھاتا ہے۔‘‘

’’ اداس نسلیں ‘‘کے بارے میں یہ جھوٹ بھی پھیلایا گیا کہ اس میں گالیوں کی بھرمار ہے۔ ایک اردو اخبار میں کالم لکھنے والی افسانہ نگار کے بقول ’’۔۔۔اداس نسلیں کی دھوم مچی تھی لیکن اسے پڑھ کر مجھے لطف نہیں آیا۔ سب سے زیادہ کوفت اس بات سے ہوئی تھی اس میں ہر صفحے پر مسجع مقفیٰ گالیوں کی بہار تھی۔ ‘‘ ان محترمہ کے پاس نہ جانے ’’اداس نسلیں‘‘ کا کون سا ایڈیشن ہے جس کے ہر صفحے پر گالیوں کی بہار ہے، ہم نے اس کتاب کا پہلا ایڈیشن بھی دیکھ رکھا ہے اور تازہ بھی، ہمیں تو اس کے ہر صفحے پر گالیاں دکھائی نہیں دیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں