شہباز شریف نیلسن منڈیلا کیسے بنے؟


شہباز شریف اندر ہو گئے۔ اندر ہونے سے پہلے انہوں نے ایسی کارکردگی دکھائی کہ وزیراعظم عمران خان بھی متاثر ہو گئے اور لاہور آ کر ایک اہم پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں انہوں نے وضاحت بھی کر دی کہ وہ اس لیے پریس کانفرنس کررہے ہیں کیوں کہ انہوں نے گزشتہ روز شہباز شریف کو منڈیلا بنتے دیکھا۔

نیلسن منڈیلا کون تھے؟ وہ ایک ہیوی ویٹ باکسر تھے جو ہوا میں مکے لہرا لہرا کر مخالف کو منہ توڑ جواب دیا کرتے تھے۔ وہ جنوبی افریقہ کے کھوسہ (xhosa) قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ادھر ہمارے ہاں بھی ایک دو کھوسہ قبیلے کے سردار مشہور ہوئے ہیں لیکن نیلسن منڈیلا والی شہرت نہیں پا پائے۔ منڈیلا صاحب وکیل تھے۔ انقلابی بھی ہو گئے اور ان کو شہباز شریف کی طرح سرخ خیالات بھی متاثر کرتے تھے۔

منڈیلا کے ابا گدلا ایک قبائلی سردار تھے جو ایک مقامی کونسلر بنا دیے گئے۔ ان کو ایک انگریز مجسٹریٹ نے کرپشن کے الزام میں معزول کر دیا لیکن منڈیلا کے ذہن کو برے اثرات سے بچانے کے لیے بتایا گیا کہ گدلا کو مجسٹریٹ کی الٹی سیدھی ڈیمانڈز پوری نہ کرنے کی وجہ سے کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر ہٹایا گیا ہے۔

اپنے لڑکپن میں منڈیلا یہ سمجھتے تھے کہ ان کے یورپی آقا ظالم نہیں بلکہ نجات دہندہ ہیں جو ان کے وطن کو تہذیب اور تعلیم سے روشناس کرنے کے مشن پر آئے ہیں۔ سولہ برس کی عمر میں قبائلی رسم کے مطابق منڈیلا کی ختنہ کر دی گئی اور انہیں بالغ تسلیم کرتے ہوئے باقی ماندہ نیلسن منڈیلا کو ڈالی بونگا کا نام دے دیا گیا۔

ابتدائی طور پر وہ بھی شہباز شریف کی طرح عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند تھے۔ کہتے تھے کہ گاندھی گیری کرنی ہے۔ پھر ایک سٹیج پر مایوس ہو کر وہ تخریب کاری پر اتر آئے۔ نتیجہ یہ کہ ان کو سرکاری مہمان کا درجہ دے دیا گیا اور وہ 27 سال مہمان خانے میں مقیم رہے۔ دیوار برلن کے منہدم ہو جانے کے بعد جنوبی افریقی صدر ڈی کلارک نے ان کو رہا کر دیا اور ان کی جماعت پر سے پابندیاں ہٹا لیں۔ اس کے تین برس بعد 1994 میں منڈیلا کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ یوں 32 برس کی جدوجہد کے بعد نیلسن منڈیلا انقلاب لانے میں کامیاب ہو گئے۔ 1999 میں نیلسن منڈیلا نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

نیلسن منڈیلا کچھ ملامتی سے تھے۔ وہ خود کو ایک آمر کے طور پر پیش کرتے تھے مگر اندر دل میں وہ سچے جمہوریت پسند تھے۔ ذاتی زندگی میں انہوں نے تین شادیاں کیں اور ان کے چھے بچے تھے۔ انہوں نے آخری شادی 80 سال کی عمر میں عشق ہونے کے بعد کی تھی۔ نیلسن منڈیلا اکتوبر 1992 میں پاکستان آئے تو وزیراعظم نواز شریف نے انہیں نشانِ پاکستان سے نوازا۔ غالباً یہ شہباز شریف کی سفارش پر ہی ہوا ہو گا۔

اب سوال یہ ہے کہ عمران خان کو کیوں لگا کہ شہباز شریف گزشتہ روز نیلسن منڈیلا بن گئے ہیں۔ شہباز شریف مکے تو نہیں لہراتے مگر انگلی لہرا لہرا کر دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں اور بڑے بڑے مائیک زمین بوس کر دیتے ہیں۔ ان کی 1988 سے شروع ہونے والی سیاسی جدوجہد کو تیس برس گزر گئے ہیں۔ شاید 32 برس کی جہدوجہد کے بعد وہ بھی منڈیلا کی طرح سربراہ ریاست بن جائیں۔

شادیاں کرنے میں بھی شہباز شریف، نیلسن منڈیلا سے برتر نکلے۔ انقلابی بھی وہ ٹھیک ٹھاک ہیں اور اکثر فیض کی شاعری پڑھ کر انقلابی تقریریں کرتے ہیں۔ بس ایک ہی کمی تھی۔ وہ تھی جیل جانے کی۔ غالباً شہباز شریف کو غیر متوقع طور پر جیل جاتے دیکھ کر عمران خان کو یقین ہو گیا ہو گا کہ یہ لڑکا بس اب منڈیلا بن گیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1026 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar