کیا پولیو ویکسین سے بچے پیدا ہونے بند ہو جاتے ہیں؟


کالج کے دن تھے۔ میں ‌ اور کچھ اور لڑکیاں کہیں جارہے تھے جب ہماری ایک کلاس فیلو دھڑام سے منہ کے بل گر پڑی۔ ہم لوگ شاید اس کا خیال کرتے ہوئے آہستہ نہیں چل رہے تھے۔ اس دوست کو بچپن میں ‌ پولیو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتی تھی۔ زیادہ چل پھر نہ سکنے سے وزن بھی بڑھ گیا تھا۔ ان دنوں ‌ میں ‌ وزن زیادہ تھا تو عمر کے ساتھ اب اور بھی مسائل کھڑے ہوئے ہوں گے۔ جن لوگوں ‌کا وزن نارمل سے زیادہ ہو، ان میں ‌ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور کولیسٹرول کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ جو پولیو کے شکار بچے شروع میں ‌ موت سے بچ جاتے ہیں وہ بقایا زندگی معذوری کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

انگریزی زبان میں ‌ کہاوت ہے کہ اس وقت اصطبل بند کرنے سے کیا فائدہ ہے جب گھوڑے بھاگ چکے ہوں؟ اس سے پچھلا مضمون ویکسین سے متعلق تھا جس کے بعد کچھ لوگوں ‌ نے کچھ سوال بھیجے اور پولیو کے بارے میں لکھنے کے لیے کہا۔ پولیو ایک سنجیدہ بیماری ہے جو پولیو کے وائرس سے پھیلتی ہے۔ پولیو بچوں ‌ کو بھی ہوسکتا ہے اور بالغوں ‌ کو بھی۔ سدھارتا مکھرجی کی کتاب ایمپیرر آف آل میلاڈیز میں ‌ بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ 1920 کی دہائی میں ‌ امریکہ میں ‌ پولیو کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ جب سڈنی فاربر اور دیگر ڈاکٹرز وارڈ میں ‌ سے گزرتے تھے تو قطار سے بچوں کے بستر لگے ہوتے تھے جن کو فولادی پھیپھڑوں سے سانس دینے والی مشینوں سے زندہ رکھا جاتا تھا اور ان پھیپھڑوں کی ٹھک ٹھک فضا میں ‌ مسلسل گونجتی رہتی تھی۔

بیسویں ‌صدی کی شروعات میں ‌ پولیو کے بارے میں ‌ زیادہ معلومات میسر نہیں تھیں اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے میدان میں ‌ کوئی کام ہورہا تھا۔ زیادہ تر افراد نے اس کو زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کرلیا تھا۔ امریکہ میں ‌ پولیو کی بیماری کے میدان میں ‌ ریسرچ شروع کروانے کا سہرا پریذیڈنٹ فرینکلن روزویلٹ کے سرجاتا ہے جنہوں ‌ نے 1927 میں جارجیا میں ‌ پولیو کے لیے ہسپتال اور ریسرچ سینٹر قائم کیا۔ پریذیڈنٹ روزاویلٹ کو 39 سال کی عمر میں ‌ پولیو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم کا نیچے کاحصہ مفلوج ہو گیا تھا اور وہ وہیل چئر استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ سیاسی مشیران کے مطابق جب بھی ان کی تصویریں کھینچی جاتی تھیں ‌ یا پھر ان کا ٹی وی پر انٹرویو ہوتا تو جسم کے اوپرکا حصہ دکھایا جاتا تھا۔ ان کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ خود کو پولیو کے نام سے دور رکھیں۔ وہ لوگ نہیں ‌ چاہتے تھے کہ عوام یہ سوچیں کہ یہ معذور آدمی ملک کو ڈپریشن کے دور میں ‌ سے باہر کیسے نکالے گا؟

جب پریذیڈنٹ روزویلٹ دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو ان میں ‌ مزید ہمت پیدا ہوئی اور انہوں ‌ نے ہالی وڈ کے اداکاروں اور دیگر مشہور افراد کے ساتھ مل کر پولیو کے میدان میں ‌ کام شروع کیا۔ ان کے دور میں ‌ مارچ آف ڈائمز موومنٹ بھی شروع ہوئی جس میں ‌ عوام سے درخواست کی گئی کہ وہ پولیو کے خلاف مہم کے لیے ڈائمز یعنی کہ دس سینٹ بھیجیں۔ تمام ملک سے بچوں، خواتین اور مردوں اور بوڑھے افراد نے پیسے بھیجنا شروع کیے جس کی بدولت پولیو کی فیلڈ میں ‌ ریسرچ ممکن ہوئی اور 1940 میں پولیو کی ویکسین تیار کرلی گئی۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، پولیو کا وائرس نروس سسٹم پر اثرانداز ہوتا ہے، سائنسدان بندروں کو پولیو کا وائرس دیتے تھے جو ان کے جسم میں ‌ مزید وائرس پیدا کرتے تھے۔ ان بندروں کو مار کران کے جسم میں ‌ سے یہ وائرس نکال کر اس کو فارملن سے بے حرکت کرکے انسانوں ‌ کے لیے ویکسین تیار کی جاتی تھی۔ ایک ملین ڈوزیں ‌ بنانے کے لیے پندرہ سو بندر قربان کرنے پڑتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سائنس کے میدان میں ‌ ترقی ہوتی گئی اور ویکسینیں بہتر طریقے سے بننےلگیں ‌ اور مزید محفوظ ہوتی چلی گئیں۔

کیا پولیو ویکسین سے بچے پیدا ہونے بند ہو جاتے ہیں؟

جواب: اس سوال کے جواب کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ پودے اور جانور دو طریقوں ‌ سے اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔ جنسی طریقے سے اور غیرجنسی طریقے سے۔ انسانوں ‌ میں ‌ بچے نارملی جنسی طریقے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اووری سے انڈے اور ٹیسٹیس سے سپرم بنتے ہیں۔ جنسی ملاپ سے خواتین کی بچہ دانی میں ‌ حمل ٹھہرتاہے۔ جن لوگوں ‌ میں نارمل طریقے سے بچے پیدا نہ ہوسکیں ان میں ‌ آرٹیفشل انسیمینیشن اور ٹیس ٹیوب بے بی کے ذریعے بچے پیدا کیے جاتے ہیں۔

پولیو کا وائرس نروس سسٹم پر اثرانداز ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے شکار بچوں اور بالغوں ‌ میں ‌موت اور معذوری پیدا ہوتی ہیں۔ پولیو کا وائرس اووری، ٹیسٹیس وغیرہ پر اثرانداز تو نہیں ‌ ہوتا لیکن اس سے مرنے والے افراد بالغ ہونے یا کوئی رشتہ بنانے سے پہلے ہی چل بستے ہیں۔ اس طرح‌پولیو کی بیماری کے سبب یہ لوگ بچے پیدا کرنے کے لیے زندہ نہیں ‌ رہتے۔ جو لوگ پولیو سے مرنے سے بچ جاتے ہیں، وہ بلوغت سے گزرتے ہیں اور ان کے یہاں ‌ اولاد بھی ہوتی ہے۔ کچھ کہا نہیں ‌ جا سکتا کہ پولیو کی ویکسین سے انفرٹیلیٹی کا خیالی تعلق کس نے شروع کیا ہوگا؟

جو لوگ یہ یقین کرتے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ اس کا کیا طریقہ کار ہے؟ یعنی کس طرح‌ پولیو کی ویکسین بچے بنانے کے نظام کی خرابی کا سبب بنتی ہے؟ کیا یہ خواتین پر اثرانداز ہوتی ہے یا مردوں ‌ پر؟ خواتین یا مردوں کے ری پروڈکشن کے پیچیدہ نظام میں ‌ کون سا جسم کا وہ حصہ یا ہارمون یا غدود ہیں جن پر منفی اثرات تصور کیے جارہے ہیں؟ کیا کوئی ایسی ایپیڈمیالوجکل اسٹڈی کی گئی ہے جس میں ‌ نمبروں سے یہ ثابت کیا گیا ہو کہ جن لوگوں ‌ کو پولیو کی ویکسین دی گئی ان میں ‌ انفرٹیلیٹی کی شرح ان لوگوں ‌ سے زیادہ پائی گئی جن کو پولیو ویکسین نہیں ‌لگائی گئی تھی۔ ایسی کوئی اسٹڈی موجود نہیں ‌ ہے۔ ایک کمزور کیا ہوا وائرس یا مرا ہوا وائرس جسم کے مدافعتی نظام کو اصلی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ خواتین یا مردوں ‌ کے بچے پیدا کرنے کے نظام پر اثر انداز نہیں ‌ہوتا۔ وہ کوشش کرے تو بھی نہیں کرسکتا۔

اگر ویکسیینیں ‌ محفوظ ہیں تو ان سے نقصان کے شکار افراد کے لیے امریکہ یا یورپ میں ‌ فنڈز کیوں موجود ہیں؟

جواب: امریکہ کی ایک فیصد آبادی قانون دان ہے جو کہ دنیا میں ‌ سب سے زیادہ ہے۔ اس ملک میں ‌ہر شہری یا تو خود کسی پر کیس کرچکا ہے یا اس پر کیس ہوچکا ہے۔ امریکہ میں ‌ ہر ادارہ قانون کے دائرے میں ‌ کام کرتا ہے اور ہر ڈاکٹر اور ہسپتال اور دوا بنانے والی کمپنی اس لیے مالی انشورنس رکھتی ہے تاکہ اگر کوئی بھی مسئلہ کھڑا ہو اور ان پر کوئی کیس دائر کردے تو ان کو معاوضہ ادا کیا جاسکے۔ جب شروع میں ‌ پولیو کی ویکسین ایجاد ہوئی تھی تو وہ اتنی محفوظ نہیں ‌ تھی جیسی آج کل ہے۔ اکیسویں صدی میں ‌ استعمال کی جانے والی پولیو کی ویکسین سے پولیو ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا کئی ملین افراد میں ‌ سے ایک سے بھی کم چانس ہے۔

کیا پولیو ویکسین یہودی اور عیسائی سازش ہے؟

جواب: نہیں۔ لیکن یہ سوچ کر آج کی تاریخ میں ‌ پولیو کی ویکیسن کی سہولت استعمال نہ کرنا انتہائی غلط ہے۔ ایسا جو لوگ بھی سوچتے ہوں ان کے لیے کسی اور کو کسی سازش کی ضرورت نہیں۔ جب ڈاکٹر جوناز سالک نے پولیو کی ویکسین ایجاد کی تو اس کو ذاتی دولت کمانے کا ذریعہ بنانے سے اور اس پر پیٹنٹ لینے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں ‌ نے کہا کہ کیا سورج پر کوئی پیٹنٹ ہے؟ تعلیم اور سائنس انسانی ورثہ ہے اور اس میں سب اپنا حصہ بٹانے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر اس بات پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ایک بیوقوفانہ خیال ہے کہ ویکسین کسی بھی گروہ کے لیے کوئی عیسائی سازش ہے۔ اگر یہ کوئی عیسائی سازش ہے تو تمام عیسائی بچوں ‌ کو کیوں ‌ دی جارہی ہے؟ عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تر ویکسینیں ‌ عیسائی بچوں ‌ کو ہی مل رہی ہیں۔ امید ہے کہ قارئین یہ نقطہ سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں