کامیابی کے دس قدم


ہم سب ایک کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ دولت اور شہرت کے حصول کے خواب دیکھتے ہیں، دوسروں سے منفرد اور کامیاب نظر آنا چاہتے ہیں مگر سو میں سے نوے سے بھی زیادہ افراد کی یہ خواہش محض خواہش ہی رہ جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر کوئی بل گیٹس اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان بن سکتا ہے مگر ہم سب اپنے والدین کی دی ہوئی زندگی سے بہتر کی طرف ضرور جا سکتے ہیں۔ کامیابی ہم سے صرف دس قدم کے فاصلے پر ہوتی ہے مگر ہم یہ بینادی دس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

1۔ کام اور شوق

جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں ان کا کام اور شوق ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے۔ وہ اپنے شوق کو اپنا کام اور اپنے کام کو اپنا شوق بنا لیتے ہیں۔ یقین کیجئے کہ صرف محنت کامیابی کی کنجی نہیں ہے۔ اگر محنت کامیابی کی کنجی ہوتی تو ایک وقت میں سولہ اینٹیں اٹھا لینے والا ہر مزدور کامیاب ترین انسان ہوتا۔ جب ہم شوق کے ساتھ کام کرتے ہیں تو وہ کام ہمیں تھکا دینے والی محنت نہیں لگتا۔ کرکٹر محض شوق سے کامیاب ہوجاتے ہیں اور کسی دوست کی شادی میں ہم گھنٹوں کام کرتے ہیں مگر اسے محنت اور بوریت قرار نہیں دیتے۔

2۔ آسانی اور جوہر:

کامیاب لوگ جانتے ہیں کہ قدرت نے ہر شخس کے لئے کچھ نہ کچھ آسان بنا رکھا ہے، وہ اپنے لئے آسانی کا انتخاب کرتے اور اپنا جوہر تلاش کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس کام کو وہ آسان سمجھیں گے اسے کسی تکلیف اور اذیت کے بغیر کر لیں گے (اس فارمولے کو طالب علموں کو مضامین کے انتخاب میں استعمال کرنا چاہئے)۔ اپنے اپنے شعبے میں کامیاب ہونے والے جانتے ہیں کہ کوئی کام بھی بے کار نہیں ہوتا اور کئے گئے ہر بہترین کام کی مارکیٹ موجود ہے۔ جیسے آپ کی گاڑی کا پٹرول پمپ کام کرنا بند کر دے تو آپ کے لئے وہ مکینک ہی اہم ہے جو پٹرول پمپ کے مسئلے کا سستا اور دیرپا حل کر سکتا ہے۔

3۔ آغاز اور تبدیلی:

کامیاب لوگ ہر وقت کسی بھی کام کے آغاز کے لئے تیار رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ گھر میں بیٹھے رہے تو کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا، وہ باہر نکلتے ہیں۔ بہت سارے لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر شروع نہیں کر پاتے تو اس کا آزمودہ طریقہ کار یہ ہے کہ جوکام آپ کرنا چاہ رہے ہیں مگر شروع نہیں کر پا رہے، اس کےلئے پانچ منٹ فارمولہ استعمال کریں یعنی وہ کام آج اور ابھی پانچ منٹ کے لئے کیجئے۔ جب آپ اسے شروع کر لیں گے تو اسے وقت بھی دے سکیں گے جو شروع کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ کام کا آغاز ہی تبدیلی ہے۔

4 ٹارگٹ کی طرف سفر:

کامیاب لوگ اپنا ٹارگٹ مقرر کر کے اس کے لئے جُت جاتے ہیں، کامیاب لوگ محض آٹھ سے چار بجے تک بوریت کے عالم میں کام نہیں بھگتاتے کہ یہ کلرکوں کا طریقہ ہے۔ وہ اپنا کام پورا کرتے ہیں چاہے وہ چند گھنٹوں میں ہو جائے یا بیس، تیس گھنٹے لے جائے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کلرک بن کے سوچیں گے تو کلرک ہی رہیں گے۔ وہ اپنی لائن اسی وقت تبدیل کرتے ہیں جب وہ مکمل ناکام ہو جائیں ورنہ ہر تھوڑے عرصے بعد ایک نیا کام زیرو سے شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ وقت کی قدر کرتے ہیں کہ ڈآکٹر اور انجینئر بننے والے شوق کے ساتھ بیس بیس گھنٹوں تک پڑھتے ہیں لہذا اہم محنت نہیں بلکہ آپ کا شوق ہے جو آپ کو بیس بیس گھنٹوں کام کروا سکتا ہے۔

5۔ انفرادیت اور معیار:

کامیابی میں انفرادیت اور معیار بہت اہم ہے۔ ایک بازار میں بہت ساری ایک جیسا مال بیچنے والی دکانوں میں آپ منفرد شے فروخت کے لئے رکھ کے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شہر میں بہت ساری کتابوں کی دکانیں ہیں مگر آپ کی دکان واحد ہے جہاں سے وکالت، انجینئرنگ، ڈاکٹری یا کسی بھی شعبے کی نایاب کتابیں مل سکتی ہیں تو پورے شہر سے ضرورت مند لوگ آپ کی دکان پر آئیں گے۔

6۔ تجربہ اور جمع تفریق:

کاروبار کرنے والے اندھا دھند کچھ نہیں کرتے وہ جمع تفریق ضرور کرتے ہیں کہ یہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ منطقی اور اپنی محنت کے نتیجے کے بارے میں پر امید رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کاروبار میں کامیابی محض رسمی تعلیم کی بنیاد پر نہیں مل سکتی، اس کے لئے مارکیٹ کا تجربہ بہت ضروری ہے کہ کتابی اور عملی دنیا میں بہت فرق ہوتے ہیں۔ مارکیٹ کے کمال مارکیٹ میں رہ کر ہی سیکھے جا سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ کاروبار میں اسی لئے ناکام ہوجاتے ہیں کہ وہ محض رسمی تعلیم اور سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے سرمایہ کاری کرتے اور رقم ڈبو لیتے ہیں۔

7۔ اپنے آپ کو اہمیت دیں:

کامیاب لوگ حیرت انگیز حد تک اپنے آپ کو اہمیت دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی میں دوسرے نہیں بلکہ وہ خود اہم ہیں لہذا وہ اپنے آپ سے مخلص ہوجاتے ہیں۔ آپ کو دنیا کا صرف ایک شخص کامیاب بنا سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں۔ دوسروں پر اعتماد مت کریں، ان سے بڑی بڑی امیدیں مت رکھیں کہ دوسروں کے نزدیک وہ اہم ہے جو ان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ دوسروں کی کامیابیوں پر جیلس بھی مت ہوں۔

اپنا وقت دوسروں کو ناکام بنانے پر نہیں بلکہ خود کو کامیاب بنانے پر صرف کریں، آپ کامیاب ہوں گے تو دوسرے خود بخود آپ سے چھوٹے ہوجائیں گے۔ پرانا طریقہ ہے کہ ایک لائن کو بغیر ہاتھ لگائے چھوٹا کرنے کا کیا طریقہ ہے ۔۔ یہ کہ آپ اس کے مقابلے میں اس سے بڑی لائن لگا دیں وہ خود بخود چھوٹی ہوجائےگی۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر اتنا ہی وقت دیجئے جتنا ضروری ہو۔ حقیقی زندگی اور سوشل میڈیا کی زندگی میں بہت فرق ہے۔ اقبال نے ( اگرچہ کسی اور سیاق و سباق میں) کہا، (مگر یہ بات یہاں بھی اہم ہے کہ) اپنے من میں ڈوب کے پاجا سراغ زندگی، تو میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

8 تعاون ایک سرمایہ کاری ہے:

کامیاب لوگ دوسروں پر انحصار نہیں کرتے مگر دوسروں کو نظر انداز بھی نہیں کرتے۔ وہ دوسروں کی اپ لفٹنگ میں مدد کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کے دوست اہم جگہ پر ہیں تو وہ ان کے لئے بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ کامیاب لوگ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری خود لیتے ہیں کہ اس سے دوسرے لوگ ان سے امپریس ہوتے ہیں، وہ اسی طرح کامیابیوں کا کریڈٹ دوسروں کو دیتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کے دوسرے انسانوں سے بہترین تعلقات ہی ان کی کامیابی کے ضامن ہیں اور اس کی مثال یوں ہے کہ ایک ہسپتال میں تین سو ڈاکٹر کام کرتے ہیں مگر انتظامی عہدوں پر وہی ترقی پاتے اور کامیاب ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں کو زیادہ بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتے ہیں۔

9 کوشش اور جدت:

کامیاب لوگ پیدا ہوتے ہی کامیاب نہیں ہوجاتے بلکہ وہ بار بار کوشش کرتے اور آخر کار کامیاب ہو کے آپ کے سامنے آتے ہیں۔ آپ بھی مسلسل سیکھئے کہ دنیا تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ آج سے بیس برس پہلے موبائل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نہیں تھے مگر آج کے دور میں ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں۔ طالب علم بن کے رہئے۔ ایک مرتبہ کی ناکامی کا مطلب ہمیشہ کے لئے ناکامی نہیں ہے۔ مثالیں بھری پڑی ہیں۔ ایک برس فیل ہونے والے طالب علم دوسرے برس اے اور اے پلس گریڈ سے کامیاب ہوجاتے ہیں۔

10 ایماندار ہوجائیے:

یہ نکتہ آخری ہے مگر لانگ ٹرم کامیابی میں سب سے اہم اور بنیادی ہے۔ حقیقی معنوں میں کامیاب لوگ بے ایمان نہیں ہوتے۔ بے ایمانی عارضی اور وقتی کامیابی کا فارمولا ہے،حقیقی اور مستقل کامیابی کا نہیں۔ ایمان رکھئے کہ جو آپ کے مقدر میں ہے وہ آپ کو ضرورملے گا اس کے لئے قرآن پاک کی آیت “وان لیس للانسان الا ماسعی” کو یاد رکھئے۔ آپ کی کاروبار میں ایمانداری کی شہرت آپ کو اے گریڈ میں لے جائے گی۔ جھوٹ مت بولئے۔ ایمانداری میں کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ بڑے بڑے برینڈز کی کامیابی ہی یہی ہے کہ لوگ ان کے مال کو ایمانداری سے بنایا ہوا بہترین مال سمجھتے ہیں۔

)ننانوے فیصد سے بھی زائد افراد ملازمت کے ذریعے امیر اور مشہور نہیں ہوتے لہذا مضمون میں کاروبار کو ہی بنیاد بنایا گیا ہے)۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں