آسیہ بی بی کیس: کیا سپریم کورٹ تاریخ رقم کرسکتی ہے؟


سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج آسیہ بی بی کیس میں تین گھنٹے تک سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور میڈیا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملہ میں عدالت عظمی کا فیصلہ سامنے آنے تک تبصرے یا مباحث کرنے سے گریز کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی معزز ججوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلہ کا کب تک اعلان کریں گے۔ عیسائی عقیدہ رکھنے والی آسیہ بی بی کے خلاف جون 2009 میں پنجاب کے شہر ننکانہ کے ایک گاؤں کتن والا میں رونما ہونے والے ایک واقعہ کے بعد توہین رسالت کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ ایک برس بعد ابتدائی عدالت نے پاکستان پینل کوڈ کی شق 295 سی کے تحت ملزمہ کو سزائے موت دی تھی جس کی اکتوبر 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے توثیق کردی تھی۔ جولائی 2015 میں سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی ۔ سپریم کورٹ نے اپیل سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے آسیہ بی بی کے خلاف سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا لیکن نہ تو آسیہ بی بی کو جیل سے رہائی ملی اور نہ ہی سپریم کورٹ توہین مذہب کے مشکوک قانون کے تحت دی گئی اس سزا کے اہم مقدمہ کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اکتوبر 2016 مقدمہ کی سماعت کرنے والے بنچ کے ایک رکن نے سلمان تاثیر کیس کی سماعت میں شامل ہونے کی بنا پر بنچ میں شامل ہونے سے معذرت کرلی تھی۔ تاہم اس سال کے شروع میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے اعلان کیا تھا کہ اس مقدمہ کی جلد سماعت کی جائے گی۔ وہ سماعت آج مکمل کی گئی ہے۔ وکلائے استغاثہ و صفائی نے عدالت کے سامنے دلائل دئیے اور سہ رکنی بنچ میں شامل فاضل ججوں نے دونوں وکیلوں سے کیس کی نوعیت، شواہد کی اہمیت اور حقائق و واقعات کی تفصیل جاننے کے لئے متعدد سوال کئے جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے۔

 اس مقدمہ میں سامنے آنے والا فیصلہ ہر لحاظ سے تاریخ ساز ہو گا۔ یہ معاملہ صرف ایک قانون کی خلاف ورزی یا ایک فرد کے جرم سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس مقدمہ میں یہ اصول زیر بحث ہے کہ کیا ملک میں مروج توہین مذہب کے قوانین کو سماجی دباؤ اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔ اس فیصلہ سے یہ بھی واضح ہو گا کہ پاکستان میں مذہب کے احترام کے حوالے سے عدالتی معاملات سماجی تعصب، امتیاز، مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی حلقوں کے دباؤ میں طے کئے جائیں گے یا ملک کی عدالتیں ایسے حساس اور سنگین معاملات میں مقدمات کا سامنا کرنے والے مظلوم لوگوں کو انصاف دینے اور سماج میں توازن پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ یہ مقدمہ صرف پاکستان میں توہین مذہب کی تشریح اور خاص طور سے شق 295 سی کی تفہیم کے حوالے سے ہی اہم نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی روشنی میں دیکھا جارہا ہے۔ آسیہ بی بی کی اخلاقی حمایت کرنے پر پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کی وجہ سے بھی اس مقدمہ کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ہے۔

سلمان تاثیر نے شیخوپورہ جیل میں قید آسیہ بی بی سے ملاقات کرنے کے بعد اس کے خلاف سزا کو غلط قرار دیاتھا اور توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کی وجہ سے ان میں ترمیم کی بات کی تھی۔ سلمان تاثیر کے اس بیان کی وجہ سے ان کے سرکاری گارڈ ممتاز قادری نے انہیں اسلام آباد میں دن دہاڑے قتل کردیا تھا۔ ممتاز قادری کو بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر فروری 2016 سزائے موت دے دی گئی تھی۔ ممتاز قادری کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران ان کے وکلا نے سپریم کورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کرنے والی ایک خاتون کی حمایت میں بیان دے کر اور توہین مذہب کے قوانین کو مسترد کرکے خود بھی توہین مذہب کا ارتکاب کیا تھا۔ اسی لئے ممتاز قادری نے مذہبی ’ذمہ داری‘ کی وجہ سے انہیں قتل کیا تھا جس پر پاکستان کے قانون کے تحت سزا نہیں دی جاسکتی۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس مقدمہ میں ان دونوں دعوؤں کو مسترد کردیا تھا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ سلمان تاثیر کے خلاف توہین مذہب کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔ انہوں نے کسی بیان میں مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں کی تھی ۔اسی طرح ملک کے قوانین کے بارے میں جن میں توہین مذہب کے قوانین بھی شامل ہیں، مخالفانہ رائے رکھنے کی وجہ کسی شخص کو اسلام دشمن یا مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سلمان تاثیر کیس میں سپریم کورٹ کے مدلل فیصلہ کے بعد اگرچہ حکومت وقت نے اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تھا لیکن ملک کے مذہبی رہنماؤں نے مسلسل اسے مسترد کیا ہے۔ ممتاز قادری کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی تھی اور انہیں مذہبی اعزاز اور جوش و ولولہ کے ساتھ دفن کیا گیا اور اسلام آباد کے نواح میں بارہ کھوہ کے علاقے میں ان کا شاندار مقبرہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں روزانہ سینکڑوں افراد دعائیں مانگنے کے لئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں سنی بریلوی مسلک کی ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے جس کا نام ’ممتاز قادری مسجد‘ رکھا گیا ہے۔ اس مسجد کی مقبولیت کا یہ عالم رہا ہے کہ تعمیر کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اسے وسعت دے کر دوگنا کیا گیا تھا۔ ملک کی کئی مذہبی جماعتیں ممتاز قادری کی سزا کو گناہ قرار دیتے ہوئے اللہ کے عذاب کی پیش گوئی کرتی رہتی ہیں۔ ممتاز قادری کے اقدام قتل کو اسلام کی تعلیمات کے خلاف سمجھنے والے مذہبی رہنما اور جماعتیں کھل کر اس مسئلہ پر بات کر نے کے لئے تیار نہیں ہوتیں کیوں کہ اس سوال پر عوام کو اس قدر گمراہ کیا گیا ہے اور مذہبی جذبات کو اس قدر انگیخت کردیا گیا ہے کہ دلیل یا حجت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بعض لوگوں کے نزدیک ممتاز قادری کو مجرم سمجھنے والا خدا کے رسول ﷺ کی توہین کا شریک قرار پاتا ہے۔

اس پس منظر میں آسیہ بی بی کے لئے اپنے خلاف ایک ناقص مقدمہ میں دی گئی سزا کے خلاف انصاف حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ توہین مذہب کے معاملات میں عام طور سے ملزمان کو طویل عرصہ جیل میں قید رہنا پڑتا ہے۔ ان کے مقدمات کی سماعت نہیں ہو پاتی اور اگر وہ مقدمہ کسی عدالت میں پیش ہو جائے تو انہیں وکیل میسر نہیں آتا۔ ملتان یونیورسٹی کے استاد جنید حفیظ کو اسی تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے۔ وہ آٹھ برس سے جیل میں قید ہیں کیوں کہ انہیں کسی عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ملتان کے ایک انسان دوست وکیل اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن راشد رحمان نے ان کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پہلی سماعت کے موقع پر ہی انہیں دھکمیاں دی گئیں اور اس کے بعد مئی 2014 میں انہیں ان کے دفترمیں ہی قتل کردیا گیا۔ پولیس ایسے جرائم میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے اور انہیں سزا دلوانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ راشد رحمان کی شہادت کے بعد سے جنید حفیظ بدستور قیدمیں ہیں ۔ نہ ان کی ضمانت ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھائی جاتی ہے۔

اس حوالے سے آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ توہین مذہب کے قانون اور شق 295 سی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے اس کے دائرہ کار اور استعمال کی حدود کا تعین کرسکتا ہے۔ اس فیصلہ سے یہ بات بھی طے ہو سکتی ہے کہ توہین مذہب کے تحت گرفتار کئے جانے والے لوگوں کے خلاف شواہد اور ثبوت اکٹھے کرنے کا کام متوازن اور غیر جانبدارانہ بنیادوں پر ہونا چاہئے۔ عام طور سے ناقص شواہد کی بنیاد پر زیریں عدالتوں کو غلط فیصلے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور عوامی جذبات کی وجہ سے اعلیٰ عدالتیں بھی ان فیصلوں کو تبدیل کرنے کا حوصلہ نہیں کرتیں۔ آسیہ بی بی کے مقدمہ میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے۔ اس مقدمہ کا مدعی ایک مسجد کا امام ہے لیکن وہ واقعہ کا عینی شاہد نہیں ہے۔ لیکن استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ آسیہ بی بی نے ہزاروں لوگوں کی پنچایت میں اپنے گناہ کی معافی مانگی تھی اس لئے وہ قصور وار ثابت ہو چکی ہے۔ حالانکہ معافی مانگنے کا مقصد ایک مشکل سے نجات حاصل کرنے کی خواہش و کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ آسیہ بی بی نے شروع سے توہین رسالت سے انکار کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ پانی پینے پلانے کا جھگڑا تھا۔ اس کے ساتھ کام کرنے والی دو مسلمان عورتوں نے اس کے برتن میں پانی پینے سے انکار کرتے ہوئے عیسایت کے بارے میں سخت باتیں کیں جس پر جھگڑا ہؤا لیکن اس نے رسول پاک ﷺ کے بارے میں کوئی توہین آمیز کلمہ ادا نہیں کیا۔ آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس مکان میں ہزاروں لوگوں کی پنچایت منعقد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہ بمشکل پانچ مرلے کا مکان ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ سما ہی نہیں سکتے۔

پاکستان سپریم کورٹ اگر جلد اس مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے آسیہ بی بی کی اپیل منظور کرلے اور توہین مذہب قوانین کے غلط استعمال کی سرزنش کرنے کے علاوہ ان کی غلط تفہیم اور استعمال کو روکنے کا اہتمام کرسکے تو یہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لئے ایک اہم پیغام ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور ملک میں مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والوں اور اقلیتوں کا جینا حرام کرنے والے مذہبی عناصر کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔ تاہم اگر سپریم کورٹ بھی مصلحتوں کا شکار ہو کر اس فیصلہ کو غیر معینہ مدت کے لئے مؤخر کرتی ہے یا اس اپیل کو مسترد کردیتی ہے تو ملک میں انصاف کے حصول کی جد و جہد کو شدید دھچکہ لگے گا۔ مذہبی انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی ہوگی اور سماجی انتشار میں اضافہ کے علاوہ اقلیتوں کے لئے زندگی مزید مشکل ہوجائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1003 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali