جو گھر سے دور ہوتے ہیں، بہت مجبور ہوتے ہیں


مجھے یاد ہے میرے بچپن میں جب کبھی امی جی (دادی) کہتی تھیں کہ ”دیکھو اس کا رنگ تھوڑا کالا ہو رہا ہے نا۔ آج کل یہ کہنا نہیں مان رہی زیادہ“ تو میری جان عذاب میں آئی ہوتی تھی کہ کہیں امی جی مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گئی ہیں۔ اس کے بعد وہ ماما سے کہا کرتی تھیں کہ ابھی میرا جملہ مکمل نہیں ہوتا اور اسے کام کرنے کی جلدی پڑ جاتی ہے۔ شاید یہ لوگ ہنستے ہوں گے یہ بات کر کے۔ مجھے یاد نہیں کیونکہ شاید میں تب چھوٹی تھی یا شاید مجھے باتیں بھولنے کی بیماری ہو چکی ہے۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ میں اسکول کے کسی کام کے لئے کوئی شیٹ لینے گئی ہوئی تھی پھپھو کے ساتھ، ان کے موبائل پر ماما کی کال آئی تھی، جب تک گھر پہنچے سب ختم ہو چکا تھا۔ امی جی جب اس دنیا سے گئیں تو میں گھر پر نہیں تھی۔ انہیں سارا دن آٹھ بجے کا انتظار تھا اور کم بخت ہم میں کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔ سمجھے ہوتے تو اس وقت بھلا میں گھر سے دور کیوں ہوتی۔

ابو جی (دادا) اس وقت لاہور کے ہسپتال میں ایڈمٹ تھے۔ وہ ملتان واپس آ گئے۔ طبعیت نہیں سنبھلی تو انہیں واپس جانا پڑا کچھ دن بعد اسی ہسپتال میں داخل ہونے کے لئے۔ جتنا عرصہ وہ وہاں رہے مجھے ایک دفعہ یاد ہے انہیں وہاں لیٹے دیکھنا۔ میں ایک سے زائد مرتبہ وہاں گئی تھی یا نہیں مجھے صحیح سے یاد نہیں۔ بتایا نا شاید بھولنے کی بیماری ہو گئی ہے مجھے۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ میں اسکول سے واپس آئی تھی اور سب رو رہے تھے، بس یہی بتایا کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ گٹھلیوں پر کچھ پڑھ بھی رہے تھے سب۔ تھوڑی دیر بعد ان کے ہمیشہ کے لئے اس دنیا کو چھوڑ جانے کی خبر آگئی۔ جب ابو جی اس دنیا سے گئے تو میں ان کے پاس نہیں تھی۔ ویسے بھی وہ امی جی سے پیار ہی اتنا کرتے تھے کہ صرف دو ماہ ان سے دور رہ سکے اور پھر ان کے پہلو میں جا کر سکون سے سو گئے۔ بھلا چھٹی ساتویں جماعت میں مجھے اس محبت کی کیا سمجھ آنی تھی۔ بس یہی یاد ہے کہ میں ان کے پاس نہیں تھی۔

دو سال قبل خالہ کی طبیت بہت خراب تھی جب انہیں نشتر ہسپتال میں داخل کروانے کے لئے لائے تھے۔ میرا زیادہ تر وقت ہسپتال کے چکر کاٹنے میں گزرا تھا تب۔ مجھے یہ یاد ہے کہ جب وہ کسی کو بھی نہیں پہچانتی تھیں تب وہ میرے خالہ جی کہنے پر جی بیٹا جی کہتی تھیں۔ مجھے لگتا تھا میں بہت خاص ہوں ان کے لئے تبھی تو میں یاد ہوں انہیں۔ خالہ کی طبیعت کچھ دنوں بعد سنبھل گئی۔

ہسپتال سے چھٹی بھی مل گئی تھی۔ خالہ ابھی ملتان ہی تھیں واپس گاؤں نہیں گئی تھیں۔ انہیں بہت امید تھی کہ وہ جلدی واپس جائیں گی پہلے کی طرح ایک دم ٹھیک ہو کر۔ اچانک کیا ہوا انہیں یہ یاد نہیں، یاد ہے تو بس اتنا کہ خالہ جب چھوڑ کر گئیں تو میں اس شہر میں نہیں تھی۔ بہت دور تھی ان سے۔ مجھے لگتا ہے مجھے کسی نہ کسی بہانے سے ہمیشہ دور ہی بھیجا گیا۔ جب کوئی اپنا گیا میں اس کے پاس نہیں تھی۔

24 جولائی کو میں ابھی سو کر اٹھی تھی۔ ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی۔ کال اٹھائی تو پھپھو رو رہی تھیں اور بس اتنا بتا سکیں کہ چاچو ہسپتال میں ہیں۔ جانتے ہیں گھر سے دور رہنے والوں کو گھر والے زیادہ تر باتیں نہیں بتاتے ہیں تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔ مجھے تو تب بتایا جب میرے پاس ان سے ملنے کی بھی مہلت نہیں تھیں۔ خیر ان کا قصور بھی نہیں کہ چاچو نے مہلت دی ہی نہیں کسی کو۔ بھلا 24 سال کا رشتہ ایسے ہی لمحوں میں ختم ہو جاتا ہے کیا۔

لاہور ایئرپورٹ پر جب فلائٹ میں تاخیر کا علم ہوا تو اتنا یاد ہے کہ مجھے چپ کروانے والا کوئی نہیں تھا۔ ایک منٹ بھی پورا نہیں ملا چاچو کے آخری دیدار کے لئے۔ بھلا اتنے سے وقت میں کیا شکوہ کرتی میں ان سے۔ میں تو یہ بھی نہ کہہ سکی کہ آپ کو بھی بس میرے دور جانے کا انتظار تھا۔

پچھلے کچھ دنوں سے ماموں کی طبیعت ناساز تھی۔ وہ نشتر ہسپتال میں تھے۔ میرا بہت دل کر رہا تھا اس ویک اینڈ پر کہ گھر جاؤں اور ایک دفعہ مل لوں ان سے۔ پھر معلوم ہوا کہ طبیعت کچھ سنبھلی ہے۔ دل کو سمجھایا کہ چھٹیوں میں جا کر ضرور مل آؤں گی جو مرضی ہو۔ مگر آج ماموں نے بھی سوچا کہ بیٹا میں تو چلا تم بس انتظار کرتی رہ جاؤ۔ اپنے شہر سے میلوں دور اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے مجھے نہیں معلوم کہ گھر سے دور لوگوں پر کیا گزرتی ہے، میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میرے پیارے مجھ سے دور جاتے ہوئے یہ خیال رکھتے ہیں کہ میں ان کے پاس نہ ہوں اس وقت۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں