انسانیت۔۔۔ او ظالمو، انسانیت


farnoodامجد عباس شیعہ اسکالر ہیں۔ مقتدر تعلیمی ادارے جامعۃ الکوثر سے وابستہ ہیں۔ خوبیوں سے بھرپور۔ صفات سے متصف۔ کوئی دوبرس ہوتے ہیں کہ مجھے اور سبوخ سید کو عشایئے پہ مدعو کیا ۔ ہمارے علاوہ ’’ہم سب‘‘ کے معروف قلم کار جمشید اقبال، کلیسا سے آگے اور کعبہ سے پیچھے رہنے والے مجاہد علوی اور سوال میں سے جواب پھر جواب میں سے سوال دریافت کرنے میں ماہر ڈاکٹر ندیم عباس بھی مدعو تھے۔ سبوخ سید نے مجھے دفتر سے لیا، چل دیئے، چوتھے گئیر کی مسافت بھی نہ ہوئی تھی کہ اژدہام نے پہیئے پکڑ لئے۔ نامعلوم سمت سے حلق پھاڑ تقریروں کی گونج تھی اور سامنے کچھ دستار پوش۔ معلوم پڑا کہ کالعدم سپاہ صحابہ اور کاالوجود اہلسنت والجماعت کا جلسہ ہو رہا ہے۔ بمشکل تمام آجوباجو کی مرکیاں لیں، جیسے تیسے فلیٹ پر پہنچ گئے۔ پہنچے تو خبر ہوئی کہ ہم ہی پہنچے ہیں۔ میزبان سست مہمان چست۔ رفتہ رفتہ احباب آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔ جو ہستی اب تک نہیں پہنچ پائی تھی وہ امجد عباس ہی تھے۔

ایران طوران کی بے پرکیاں زوروں پہ تھیں کہ دروازے پہ کچھ نازیبا سی دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا تو ہاپنتے کانپتے گرتے پڑتے امجد عباس داخل ہوئے جیسے سگانِ محلہ نے ان کے خلاف یکبارگی لشکر کشی کررکھی ہو۔ پانی پیا، سانسیں سدھاریںِ، حال احوال سے احتراز برتتے ہوئے کہا یار سب چھوڑو کہانی سنو۔ جی ارشاد ارشاد

’’یار میں کوثر سے نکلا، گاڑی نہیں مل رہی تھی، دیر الگ ہورہی تھی، موٹر سائیکل سوار آیا جس کا چہرہ لال رومال سے ڈھکا ہوا تھا، میں نے لفٹ مانگی، بٹھا لیا، رستے میں حال احوال کا مختصر دور ہوا، یہاں فلیٹ کے نیچے جب اتارا تو میں نے چائے کی صلح ماری، اس نے منع کیا تو ازراہ مروت میں نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو، کہا کہ یہیں بس فیض آباد تک، پھر پوچھا کہ کہاں سے آ رہے تھے، پتہ ہے کیا بتلایا؟ کہنے لگا میں سپاہ صحابہ کے جلسے میں گیا ہوا تھا وہیں سے آرہا تھا، دھت تیری کی۔۔۔۔ یہ سن کر میں نے جلدی سے ہاتھ ملایا اور پیچھے دیکھے بغیر سیڑھیوں پہ چڑھ آیا‘‘

امجد عباس کی کہانی ختم ہوگئی۔ اب میری اور آپ کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ سماج کی کہانی۔ انسانیت کی کہانی۔ سوچیے اور خوب سوچیے کہ امجد عباس اور موٹر سائیکل سوار کے بیچ کوئی کشیدگی کیوں نہ ہوئی؟ مو ٹر سائیکل سوار نے امجد کو موٹر سائیکل پر بٹھانے سے احتراز کیوں نہیں برتا؟ اس سفر کے بعد بھی کیا موٹر سائیکل سوار کو اپنی اس نیکی پہ پشیمانی ہوئی ہوگی؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ مگر کیوں؟ کیونکہ موٹر سائیکل سوار نے کسی شیعہ اسکالر کو نہیں، انسان کو سوار کیا تھا۔ امجد عباس نے سپاہ صحابہ کے کارکن سے نہیں، انسان سے مدد طلب کی تھی۔ سفر بخیر وخوبی اس لیئے ہوا کہ دو انسان سفر کر رہے تھے۔ سفر کے اختتام پہ امجد عباس کو جونہی علم ہوا کہ وہ سپاہ صحابہ کا کارکن ہے تو اندازہ کیجیئے کہ یکطرفہ ہی سہی، صورت حال نے کیسا پلٹا کھایا۔ اب اگر موٹر سائیکل بھی دو سوال کے بعد جان لیا ہوتا کہ میں نے ایک شیعہ اسکالر کو لفٹ دی ہے تو کیا وہ اپنے ان سات گھنٹوں کے مجاہدے پہ پشیمان نہ ہوتا جو اس نے جلسے میں کیا۔؟ بعد میں بھی اگر انکشاف ہوجاتا تو کیا وہ اپنے موٹر سائیکل کو تیزاب سے دھو کر لوبان کی دھونی نہ دیتا؟ ایسا کیوں ہوتا؟ کیونکہ علم ہو جانے کے بعد موٹر سائیکل سوار پہ دو انکشافات ہوتے۔ ایک یہ کہ میں مسلمان ہوں دوسرا یہ کہ امجد عباس شیعہ ہیں۔ وہ جو دو انسان تھے وہ کہاں رہ گئے؟ انہیں تعصب آمیز علم کا اژدھا نگل گیا۔

کان رکھتے ہیں تو ایک کہانی اور سناوں؟ یہی رمضان کا مہینہ تھا، سبوخ سید جیو تیز پر رمضان ٹرانسمیشن میں میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ سبوخ سید کو یاد ہوگا کہ راولپنڈی سے انہوں نے سحری ٹرانسمیشن کے لیے ایک بریلوی عالم دین کو مدعو کیا تھا۔ انتظامیہ نے اس عالمِ دین متین سے کہا کہ رات گاڑی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی جائے گی، حافظ عبدالرحمن کو لے گی، آپ کے پاس آئے گی، سحری آپ ہمارے ساتھ کریں گے۔ اگلے روز سبوخ سید نے اس عالم دین کا جواب مجھے بتایا جو یوں تھا

’’کون حافظ عبدالرحمن؟ وہ جو پروگرام میں جس نے تلاوت کی تھی؟ نہیں میں اس کے ساتھ نہیں آسکتا، میں وہابیوں کے ساتھ گاڑی میں نہیں بیٹھتا، میرے لیے الگ گاڑی بھجوائیں‘‘

معلوم ہوا کہ اس عالمِ باعمل نے اپنی ضد پوری کی اور فرنگیوں کی بنائی ہوئی مقدس ومطہر گاڑی میں بیٹھ کر دفتر پہنچا۔ بات تو ہوتی رہے گی مگر دلچسپی کی بات سن لیجیئے۔ دو دن انہوں نے حافظ عبدالرحمن کے ساتھ سحری کی تھی، افطار کیا تھا، پروگرام کئے تھے مگر کسی بھی لمحے قیامت نہیں ٹوٹی تھی۔ ایک شام پروگرام سے دونوں ایک ہی گاڑی میں واپس ہوئے توگفت وشنید میں پتہ چلا عبدالرحمن وہابی ہیں، چنانچہ ایمانی غیرت نے ہچکولے کھانا شروع کر دیئے۔ سوال یہ ہے کہ تین دن عبدالرحمن کے ساتھ جو گزرے، کیسے گزر گئے؟ اب جو قیامت ٹوٹی ہے تو کیوں ٹوٹی ہے؟ اس کیوں کا جواب تو بہرِ خدا آپ خود ہی دے لیجیئے۔

پتہ ہے کیا۔؟

ہم نفرتوں کے بیوپاری بن چکے۔ تعصب کے ہم سوداگر ہیں۔ ہم اذیت پسند ہوگئے ہیں۔ خوشی ہمیں راس نہیں ہے۔ فرد کی سطح پہ ہو کہ اجتماعی سطح پہ، دشمن ہمیں درکار ہے۔ ہم لا علم رہیں تو انسان رہتے ہیں۔ آگہی ہوجائے تو پارسا بن کر اپنے برتن الگ کر لیتے ہیں۔ ہم کسی بھی سپر مارکیٹ سے جاکر سودا لے لیتے ہیں۔ کسی بھی دکان سے دودھ دہی ٹماٹر پیاز اور دال دلیہ لے لیتے ہیں۔ دودھ جس بھینس نے دیا اس کا مالک کون تھا؟ سپر مارکیٹ کس کی ہے؟ دودھ ٹماٹڑ پیاز مسالے کس ہاتھ سے گزر کے پہنچے؟ کیا کبھی ہم نے یہ سب پوچھا؟ جاننے کی ضرورت بھی محسوس کی؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ کے ٹماٹر پیاز دودھ دہی مال مصالحے ضرور کسی مشرک گستاخ مرتد ملحد کافر زندیق لعین بدعتی کے ہاں سے ہی آئے ہوتے ہیں۔ نہیں؟ ان ساری نعمتوں کو پھر ہم کیسے باسانی ڈکار جاتے ہیں؟ کبھی سوچا؟ کیونکہ ہمیں یہاں کسی نے ورغلایا نہیں۔ کسی نے پٹی نہیں پڑھائی۔ مگر جب کبھی علم ہوجائے کہ یہ دکان دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث، اسماعیلی، فاطمی، زیدی، اثنا عشری، مودودی، احمدی اور پرویزی کی ہے تو فورا ہمارے ٹما ٹر پیاز آلو بینگن سب حرام ہوجاتے ہیں۔ آخر کیوں؟

ایک بات تو بتائیں۔!!

کیا دنیا کا کوئی بھی عقیدہ انسان کی حرمت پر فوقیت رکھتا ہے؟ اگر یہ عقیدوں کی دنیا ہے تو انسان آخر یہاں لینےکیا آیا ہے؟

میں دامن بچانا چاہتا ہوں مگر ڈاکٹر وسیم جعفری سامنے کھڑے ہیں۔ دل کیا کہ یہ کالم ادھورا چھوڑ دوں کہ ایسی اذیت ناک حقیقت سامنے آگئی کہ لکھوں تو دل میں زہریلا ایک نشتر گڑ جاتا ہے، نہ لکھوں تو ڈاکٹر وسیم جعفری کیا سوچیں گے۔ ایسا چہرہ جسے دیکھ کر زندگی جی اٹھے۔ ایسا دل جس میں محبت ہی محبت دھڑکتی تھی۔ ڈاکٹر نہیں تھے، مسیحا تھے مسیحا۔ ڈاکٹر تو ایک ڈھونڈو ہزاروں مل جاتے ہیں، مسیحا مگر کوئی کوئی ہوتا ہے۔ عمر بھر حضرت انسان کی خدمت میں جتے رہے۔ رات گئے تک کی سنگتوں میں اس شخص سے کیا کیا نہ سیکھا اور کیا کیا نہ سمجھا۔ گلستان جوہر میں کلینک کرتے تھے جہاں ضرورت مندوں کا ایک ہجوم رہتا تھا۔ یہ ایسا ہجوم نہیں تھا جس میں ضرورت مند اپنی عزت نفس سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ڈاکٹر وسیم جعفری ہائپا ٹائٹس کے ایک مستحق مریض کے لیے پرچی پہ نسخہ لکھ رہے تھے، تین نوجوان کلینک میں گھسے اور ڈاکٹر وسیم جعفری کے سر و سینے میں گیارہ گولیاں اتاردیں۔ بندش کی یہ گیاہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی اور ضرورت مند تسبیح کے دانوں کی طرح دور دور بکھر گئے۔ وہ لہو رنگ پرچی جو ڈاکٹر وسیم کی خدمت انسانی کی گواہ ہے، معظم غوری کے پاس اب بھی رکھی ہے، بس مشکل یہ ہے کہ اس میں سے خوشبو نہیں آتی۔ قلم اب وسیم جعفری سے ہٹنے پہ قطعا آمادہ نہیں، مگر آگے چلنا ہے۔ قاتلوں میں ایک گرفتار ہوا جس نے اقرار کیا کہ ڈاکٹر وسیم ایک شیعہ ڈاکٹر تھے اس لئے قتل کا حکم ملا۔

ستم تو دیکھیئے۔!

ڈاکٹر وسیم جعفری شیعہ نہیں تھے، سنی تھے۔ نام کے ساتھ جعفری کا لاحقہ دیکھ اور پڑھ کر انہیں موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔ کچھ سمجھے؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

یاد آیا۔!!

نصیر الدین شاہ کی پٹ جانے والی ایک مووی ’’وڈنزڈے‘‘ کا ایک ڈائیلاگ یاد آگیا۔ پولیس کو ایک معزز شہری کی تلاش ہے، جو نامعلوم عمارت کی چھت سے نیک مقصد کے تحت بذریعہ فون تخریب کاریاں کررہا ہے۔ شہری کا مقصد حاصل ہوا تو پولیس افسر کو شہری سے ملنے کا اشتیاق ہوا۔ اسی عمارت کے نیچے شہری سے ہاتھ ملاتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کے کردار کی داد دی۔ اور کہا

’’میں تمہارا نام نہیں پوچھوں گا، کیونکہ لوگ ناموں میں مذہب ڈھونڈ لیتے ہیں‘‘

مسئلہ کیا ہے؟

انسان بننے سے پہلے مسلمان بننے کا جرم ہم سے سرزد ہوا ہے۔ اس ماہ مقدس میں توبہ ہی کرنی ہے تو جرائم کی توبہ کیجئے، خطاؤں کی توبہ بھی کیا توبہ۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “انسانیت۔۔۔ او ظالمو، انسانیت

  • 08-06-2016 at 11:16 am
    Permalink

    such a beautiful article. sometimes i think there really is no hope left for this country but after reading articles like these, i do think that at least someone is saying something.

Comments are closed.