انچولی میں بہاریوں کی گلی


کراچی کے علاقے انچولی میں ایک گلی بہاریوں کی مشہور ہے۔ کسی ایک بہاری نے وہاں گھر بنایا ہوگا۔ بعد میں اس کے رشتے دار اور احباب قریب پاس کے مکان خریدتے گئے ہوں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے گلبرگ بلاک تیرہ میں ایک گلی امروہے والوں کی ہے۔

انچولی میں بہاریوں کی گلی کے ایک کارنر پر ہماری امی کے ماموں یاسین صاحب کا مکان تھا۔ وہ ہمارے نانی اماں کے فرسٹ کزن تھے۔ خود کریم آباد میں رہتے تھے اور ان کے بیٹے اچھن بھائی کرایہ وصول کرنے انچولی آتے تھے۔ ہم 1985 میں کراچی آئے تو میں اماں کو ماموں یاسین سے ملوانے کریم آباد لے گیا۔ دونوں 80ء کے پیٹے میں ہوں گے۔ عشروں بعد ملاقات ہوئی تو دونوں پر رقت طاری ہوگئی۔ اماں نے روتے ہوئے کہا، سب رخصت ہوگئے، ایک تُو ہی ہمارا بھائی بچا ہے۔ ماموں یاسین رونا بھول کر ایک دم جلال میں آگئے۔ یہ کیا تم بہنیں کہتی رہتی ہو، ایک ہی بھائی رہ گیا، ایک ہی بھائی رہ گیا۔ کیا مجھے مارنا چاہتی ہو؟

انچولی میں ماموں یاسین کا 120 گز یعنی پانچ مرلے کا مکان تھا۔ فرسٹ فلور پر دو چھوٹے سے پورشن بنے ہوئے تھے۔ ایک میں ہماری سگی خالا رہتی تھیں، دوسرے میں حسن جہانگیر۔ نیچے کئی دکانیں تھیں جن میں سے ایک دادا ڈھائی کی تھی۔ اس گلی کے دوسرے سرے پر نواب بھائی کا گھر تھا جو پولیس میں ملازم تھے۔ انھوں نے سندھ پولیس اور پھر کراچی پولیس کی کرکٹ ٹیمیں بنانے میں کردار ادا کیا اور بہت سے کھلاڑیوں کو روزگار فراہم کیا۔

بہاریوں کی گلی میں کئی دلچسپ کردار رہتے تھے۔ سب سے بڑا فنکار میرا لنگوٹیا شباہت حسین تھا۔ نوے کی دہائی میں ہماری دوستی ہوئی اور اس کے بیرون ملک جانے تک برقرار رہی۔ کوئی اسے شبو بہاری کہتا اور کوئی شبو ٹوپی۔ وہ عجیب حرفوں کا بنا ہوا شخص ہے۔ سچ بولتا ہے تو انتہائی تلخ سچ اور جھوٹی کہانیاں بنانے پر آئے تو آخری حد تک چلا جاتا ہے۔ اس نے بھی کئی لوگوں کے نام رکھے اور نئے الفاظ تخلیق کیے یا انھیں نئے معنی دیے۔ مثال کے طور پر جب کوئی شخص جینز چڑھا کے اور سیاہ چشمہ پہن کر نکلتا تو شبو اسے مائیکل کہتا، یعنی جعلی مائیکل جیکسن۔ کسی بیٹسمین نے اسٹائلش چوکا لگایا ہو تو وہ کہتا، کیا پیٹر شاٹ کھیلا ہے! پیٹر کا مطلب ہوا، زبردست۔ اسی طرح جب پوچھو کہ آج میچ کتنے بجے ہے تو وہ کہتا، الائے بابا! گویا الائے بابا کا مطلب ہوا، مجھے کیا معلوم!

شبو ایک اصطلاح استعمال کرتا تھا، بلو سے بڑا۔ ب پر زبر، ل پر تشدید اور پیش۔ کبھی وہ دعویٰ کرتا کہ ہوک ہوگن بہت بڑا پہلوان ہے۔ میں پوچھتا، کتنا بڑا؟ وہ کہتا، بلو سے بھی بڑا، یعنی اخیر۔ کبھی وہ بتاتا کہ سجاد نے اپنے گھر پر بہت بڑا جھنڈا لگایا ہے۔ میں پوچھتا، کتنا بڑا؟ وہ کہتا، بلو سے بھی بڑا۔ کبھی وہ تنویر کا مذاق اڑاتا کہ وہ بہت بڑا چھوڑو ہے۔ میں پوچھتا، کتنا بڑا؟ وہ کہتا، بلو سے بھی بڑا۔

ایک دن لڑکے بالے ڈبو کھیل رہے تھے۔ ایک صاحب نے کئی اچھے شاٹ کھیلے۔ ایک بہت ہی مشکل گوٹ پھینکنے پر میں چلا اٹھا، بہت بڑا شاٹ! شبو نے فوراً پوچھا، کتنا بڑا؟ میں نے اسی کے انداز میں کہا، بلو سے بھی بڑا!

شاٹ کھیلنے والے صاحب ڈبو کی دکان سے باہر نکل آئے اور مجھے گھورتے ہوئے چلے گئے۔ شبو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا۔ میں نے پوچھا، پاگل ہوگئے ہو کیا؟ کیوں ہنسے جارہے ہو؟ شبو نے کہا، یہ صاحب جو ڈبو کھیل رہے تھے، ان ہی کا نام بلو ہے۔

بلو بھائی سے بعد میں میری بھی دوستی ہوگئی۔ وہ شبو کی گلی میں رہتے تھے۔ انچولی میں رہنے والے جانتے ہیں کہ ان کے بڑے بھائی عروج وکیل ہیں۔ عروج بھائی نے وکالت پڑھی تھی اور ان سے خاندان کی بہت امیدیں وابستہ تھیں۔ لیکن ان کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا۔ لاکھوں لوگوں کو یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ معمولی آپریشن کے بعد سب ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ لیکن عروج بھائی کی آنکھیں چلی گئیں۔ آپریشن کے فوراً بعد ڈاکٹر نہانے سے منع کرتے ہیں۔ عروج بھائی نہا لیے اور آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مجھے ان کے بارے میں سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔

شبو کی گلی میں کاظم بھائی بھی رہتے تھے۔ وہ بھاری بھرکم ہیں اور انھوں نے شاید ہی کبھی سنجیدگی سے کرکٹ کھیلی ہو۔ لیکن ایک بار ان کے ہاتھ میں بیٹ دیکھ کر شبو نے یا کسی اور نے انھیں چیپل کا نام دے دیا۔ ایان چیپل بھی بھاری بھرکم کرکٹر تھا۔ کاظم بھائی ہمارے کاظم چیپل تھے۔

اسی گلی میں ناظم رہتا تھا۔ دبلا پتلا، کمپیوٹر کا ماہر اور رسان رسان سے گفتگو کرنے والا۔ بے چارے نے کبھی کوئی ہتھیار ہاتھ میں نہیں لیا ہوگا۔ لیکن لوگ اسے ناظم ٹی ٹی کہتے ہیں۔ شبو نے کہانی سنائی یا بنائی کہ ایک بار محرم کا جلوس تھا اور حسینی بلڈ بینک والوں نے کیمپ لگایا ہوا تھا۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ خون کا ماتم نہ کریں۔ اس کے بجائے ایک بوتل خون کا عطیہ دے دیں۔ ناظم کو جوش چڑھا اور اس نے کیمپ میں جاکر خون دے دیا۔ اس کے بعد وہ اٹھا اور چکرا کر گرگیا۔ بلڈ بینک والوں کو اسے دو بوتل خون لگانا پڑگیا۔ آئندہ کبھی ناظم اس کیمپ کے قریب سے گزرتا تو وہ ہاتھ جوڑ دیتے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 142 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi