استحکام یا انتقام؟


شہباز شریف کی گرفتاری محض ایک واقعہ نہیں‘ مستقبل کی خبرہے‘ جو شدید اندیشوں میں گھرا ہوا ہے۔ وزرا جس واقعے کے سیا ق و سباق پر گفت گو کریں اور پیش گوئی بھی‘ اس کا انتساب حکومت ہی کی طرف ہو گا‘ چاہے سرِ محضر مہر کسی اور کی ہو۔
حکومت نے‘ معلوم یہ ہو تا ہے کہ انتقام کے راستے کا انتخاب کر لیا ہے‘ جسے احتساب کا عنوان دیا جا رہا ہے۔ انتقام کے خمیر میں خیر نہیں ہے۔ یہ فرد ہو یا جماعت‘ جو اس کے راستے پر چلے گا‘ یہ اس کو برباد کر دے گا۔ انقلابی قوتوں نے انسانیت کو فساد کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلاب انتقام کی نفسیات سے جنم لیتا اور انتقام ہی کو جنم دیتا ہے۔
معاشی اعتبار سے کم زور اور سیاسی حوالے سے منقسم ایک قوم کا اصل مسئلہ احتساب نہیں‘ استحکام ہوتا ہے۔ استحکام ہی کے لیے ریاست قائم ہوتی ہے اور حکومت بھی۔ پاکستان آج جس عدم استحکام کا شکار ہے‘ کسی صاحبِ بصیرت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسری بات کے بارے میں سوچے۔ مجھے حیرت ہو گی کہ حکمران سارا زور انتقام پر صرف کر دیں اور ملک کو نئے فساد کی راہ پر ڈال دیں۔ کاش ان لوگوں نے تاریخ کو پڑھا ہوتا۔ کاش! یہ علم سیاسیات و عمرانیات کے مبادیات ہی سے واقف ہوتے۔
ایک عالمی مسلم ریاست کو کس بات نے انتشارکے راستے پر ڈالا؟کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ اختلاف کیا تھا؟یہ اختلاف تھا؛ استحکام یا انتقام؟ اس اختلاف کے نتائج اتنے سنگین ہوئے کہ مسلمان اس کے بعد‘ آج تک ایک مصلے پر نماز نہیں پڑھ سکے۔ سیدنا عثمان ؓ کی پیش گوئی پوری ہوئی‘ جو انھوں نے اپنی شہادت سے پہلے کی تھی۔
بلوائیوں نے خلیفہ وقت کو شہید کر دیا اور مدینے میں فساد پھیل گیا۔ عملاً حکومت کا کہیں وجود نہیں تھا۔ کوئی ریاست حکومت کے بغیر تا دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اہلِ مدینہ کو فوری فیصلہ کرنا تھا۔ انھوں نے اپنے درمیان موجود سب سے بڑے اور معتبر آدمی سیدنا علیؓ کا انتخاب کر لیا۔ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی خبر سیدنا معاویہؓ تک پہنچی‘ تو وہ انتقامِ عثمانؓ کا عَلم لے کر کھڑے ہو گئے۔ ان کا موقف تھا کہ پہلے حضرت عثمانؓ کا انتقام لیا جائے اور پھر کوئی نظمِ حکومت قائم ہو۔ اس کے بر خلاف سیدنا علیؓ کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی استحکام اور معاشرے کو مزید فساد سے بچانا ہے۔ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دی جا ئے گی‘ مگر اس سے پہلے استحکام ضروری ہے۔ ان کی بات نہیں مانی گئی۔ انتقام پر اصرار کیا گیا۔ استحکام یا انتقام‘ اس اختلاف کا نتیجہ دو جنگوں کی صورت میں نکلا۔ہزاروں افراد مارے گئے۔ ایک الم ناک تاریخ رقم ہوئی۔ مسلمان اس کے نتیجے میں آج تک فرقہ واریت کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ سیاسی استحکام ایسا رخصت ہوا کہ آج تک واپس نہ آیا۔ انتقام کی اسی تاریخ کو سانحہ کربلا کے بعد دُہرایا گیا۔ اہلِ بیت کے انتقام کے نام پر مختار ثقفی کی قیادت میں تحریک اٹھی اور بنو امیہ کو نشانہ بنا یا گیا۔ یہی انتقام تھا‘ جس نے بنو امیہ اور بنو عباس کے مابین خون ریز واقعات کو جنم دیا۔
سیدنا عثمانؓ کی شہادت معمولی واقعہ نہیں تھی۔ وہ خلیفہ وقت ہی نہیں‘ اللہ کے آخری رسولﷺکے داماد بھی تھے۔ ذو النورین تھے۔ ان کے قاتل مدینہ میں مو جود تھے۔ سیدنا علیؓ نے انھیں گوارا کیا کہ اس موقع پر انتقام اور سزا کی بات کا مطلب مسلمانوں کو پھر ایک خلفشار میں مبتلا کرنا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ قاتل سیاسی عصبیت رکھتے تھے۔ ان کا ایک گروہ تھا؛ اگر ان کے خلاف اقدام کیا جا تا تو مدینہ ایک نئے انتشار میں مبتلا ہو جاتا۔ سیاسی بصیرت کا تقاضا یہی تھا کہ سیاسی استحکام کو اولیت دی جا ئے۔ سیدنا علیؓ کی بات مان لی جاتی تو مسلمانوں کی تاریخ یقیناً مختلف ہوتی۔
تاریخ عبرت کے لیے ہوتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے لیے ایک ہی بہ تر راستہ تھا۔ قوم کے سامنے ایک میثاقِ معیشت رکھتی اور ایک میثاقِ سیاست بھی۔ پارلیمان کی معرفت ان پرقومی اتفاقِ رائے پیدا کرتی۔ سب کے تعاون سے اس پر عمل در آمد کا آغاز کرتی۔ میثاقِ معیشت کا ایک نکتہ احتساب بھی ہوتا۔ پارلیمان میں طے کیا جاتا کہ احتساب کا ایک شفاف نظام کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پہلے نظام بنتا اور پھر تحقیق کے بعد مجرموں کو سزا ملتی۔ اس میں کسی عجلت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے جہاں ملک سیاسی طور پر مستحکم ہوتا‘ وہاں ایک بھروسے کے قابل احتساب کا نظام بھی قائم ہو جاتا۔
عمران خان اپنی افتادِ طبع کے اسیر ہیں۔ وہ اس کی گرفت سے نکل نہیں سکے۔وہ ملک کو بدلنے کی بات کرتے ہیں‘ مگر خود کو بدل نہیں سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بطور اپوزیشن لیڈر اور بحیثیت وزیرِ اعظم‘ ان کے رویے میں کوئی فرق دکھائی نہیں دِیا۔ وزیرِ اطلاعات کا لب و لہجے کو ان کی مکمل تائید حاصل ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ استحکام پر انتقام کو ترجیح دے رہے ہیں۔اس انتقام کو احتساب کا نام دیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف در اصل وہ پل تھے جو مسلم لیگ اور حقیقی اقتدار کے مابین فاصلوں کو کم کر سکتے تھے۔ اس پل کو بھی اب توڑ دیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں تلخی مزید بڑھے گی۔ یہ عجیب واقعہ ہو گا کہ تلخی میں اضافے کے اسباب حکومت فراہم کر رہی ہے۔ اگر یہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے تو اس مقدمے کو مانے بغیر چارہ نہیں کہ وہ خودایک احتجاجی تحریک کو دعوت دے رہی ہے تا کہ اپنی نا کامیوں کا کوئی جواز تلاش کر سکے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ماننا ہو گا کہ سیاسی بصیرت کا اقتدار کے ایوانوں میں کوئی گزر نہیں۔
میرا خیال ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری مسلم لیگ میں نواز شریف صاحب کے بیانیے کی تقویت کا باعث بنے گی۔ اب مسلم لیگ نون میں مصالحت کے حامیوں کے پاس کوئی دلیل نہیں رہی۔ اب ان کے لیے صرف ایک راستہ کھلا ہے: مزاحمت۔ یہ مزاحمت در اصل کس کے خلاف ہو گی‘ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اب کسی کے لیے مشکل نہیں۔ اگرحکومت یہ دعویٰ کرے کہ فوج اور عدلیہ اس کی پشت پر کھڑے ہیں تو پھر حکومتی اقدامات کا انتساب صرف حکومت کے نام نہیں رہتا۔
پاکستان ایک نئے اور گھبیر بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مسلم لیگ نون اب تک اپنا مقدمہ عدالتوں میں لڑتی آئی ہے۔ حکومت اور نیب کے اقدامات نظامِ عدل اور مسلم لیگ کے رشتے کو کم زور کر رہے ہیں۔ اس روش کا نا گزیر نتیجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نون عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے‘ سڑکوں کا رُخ کرے۔ اس کو پھر روکا نہیں جا سکتا۔ جب ریاست کے اداروں پر‘ کسی ایسے گروہ کا اعتماد باقی نہ رہے جسے سیاسی عصبیت بھی حاصل ہو تو پھر ملک انارکی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ عمران خان کو یاد ہو گا کہ وہ دھرنے کے دنوں میں مایوسی کے ایسے ہی ایک لمحے میں سول نافرمانی کاا علان کر چکے ہیں۔یہ الگ بات کہ عوام نے اسے قبول نہیں کیا۔
ریاست آج دوراہے پر کھڑی ہے: استحکام یا انتقام؟ ہر انتخاب کا ایک نتیجہ ہے جو معلوم ہے۔ استحکام کا ایک نتیجہ ہے‘ جس کے ثمرات عقلِ عام سے پوشیدہ نہیں۔ انتقام کے نتائج پر بھی تاریخ کی گواہی ثبت ہے۔ یہ انتخاب صاحبانِ اقتدار کو کرنا ہے۔ اس میں سب شامل ہیں۔ وہ جو سامنے ہیں اور وہ بھی جو پشت پر کھڑے ہیں۔ شہباز شریف صاحب کے مقدمے کی حقیقت عام آدمی پر بھی واضح ہے۔ جن لوگوں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے‘ وہ ان کی دیانت کی گواہی دیتے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف نیب عدالت کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی توضیحات بھی۔ کرپشن ثابت کرنے کے لیے ہر پتھر الٹایا جا رہا‘ مگر گوہرِ مراد ہاتھ نہیں آ رہا۔
اس وقت سے پناہ مانگنی چاہیے جب کوئی سیاسی گروہ ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کا اعلان کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے‘ جن کے پاس اقتدار ہے‘ انھیں اس تاریخ کو ضرور پڑھ لینا چاہیے‘ جسے انتقام کی سیاہی سے لکھا گیا۔
(بشکریہ روزنامہ دُنیا)
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں