اور ناصرہ جاوید اقبال کے آنسو


تب کیس پانامہ کا تھا‘ سزا اقامہ میں سنادی گئی ( خود عمران خان کو بھی اعتراف کرنا پڑاکہ اس پر مقبولیت کی لہر تو اٹھنا ہی تھی) اب بلایا صاف پانی کیس میں تھا‘ گرفتاری ‘آشیانہ‘ میں ڈال دی گئی‘ اگلے روز نیب کورٹ میں پیش کرکے 10روز کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا(نیب پراسیکیوٹر نے 15روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی).

لاہور میں اخبار نویسوںسے گفتگو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا : میں نے شہبازشریف کو نیلسن منڈیلا بنتے دیکھا۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود کارکنوں کی کثیر تعداد اپنے لیڈر سے اظہارِیک جہتی کیلئے پہنچ گئی تھی۔ ملزم کو عام گاڑی کی بجائے بکتر بند گاڑی میں لایا گیا تھا(یہ اہتمام عموماً خطرناک ملزموں /مجرموں کے لیے کیا جاتا ہے۔

یاد آیانوازشریف کو بھی اڈیالہ جیل سے نیب کورٹ میں پہلی پیشی پر بکتر بند گاڑی میں ہی لایا گیا تھا۔ سیاسی حلقوں کے شدید احتجاج پر یہ سلسلہ آگے نہ بڑھا )۔

یہ تاثر عام ہے کہ مسلم لیگ پرُ امن لوگوں کی جماعت ہے جو احتجاج میں بھی ایک حد سے آگے نہیں جاتے ۔’مزاحمت ‘ ان کے خمیر میں نہیں لیکن ہم نے ہفتے کی صبح مسلم لیگی کارکنوں‘ اس کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی مزاحمت کرتے پایا۔

عمران نذیر جیسے متوالے بکتر بند گاڑی پر جاچڑھے ۔ انہیں پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی سے بھی گریز نہ تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ایک اور ادارے کے اہل کاروں کو بھی اسی صورتحال کا سامنا تھا۔ 13جولائی کو میاں صاحب اور مریم بی بی کی لندن سے لاہور آمد پربھی کارکن اسی موڈ میں تھے۔

شہر میں امن وامان کے لیے غیر معمولی اقدامات کئے گئے تھے۔ موبائل فون سروس بھی معطل تھی۔ شہر کے انٹری پوائنٹس پر بھی روکاوٹیں تھیں‘ اس کے باوجود صرف لوہاری اور بھاٹی کے علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں لوگ پہنچ گئے تھے۔

ایک ذمہ دار اور بااعتماد اینکر نہایت احتیاط کے ساتھ بھی ان کی تعداد50ہزار کے قریب بتا رہاتھا۔ نگران وزیر داخلہ نے وارننگ دے دی تھی‘ کوئی شخص ایئر پورٹ کی حدود کے قریب بھی نہ پھٹکے کہ وہاں خاردار تاروں میں بجلی چھوڑ دی گئی ہے۔

شہبازشریف کو بہت طعنے سننے پڑے‘ لیکن ہمارے خیال میں تو انہوں نے اچھا کیا کہ جذبوں سے معمور اور مزاحمت پر آمادہ نوجوانوں کو ایئر پورٹ سے دور ہی رکھا کہ ایک جینوئن لیڈ ر کے لیے اپنے کارکنوں کی جانیں‘ اپنی اولاد کی جانوں سے کم قیمتی نہیں ہوتیں۔

سوموار کی صبح غداری کیس میںجناب نوا زشریف اور شاہد خاقان عباسی کی لاہور ہائیکورٹ میںپیشی پر بھی جذبوں کا طوفان تھا۔ کیا مسلم لیگ کا ‘خمیر ‘بدل رہاہے؟

شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے ان چار دنوں میں بہت کچھ کہا جاچکا۔ احد چیمہ اسی کیس میں آٹھ ماہ سے اور فواد حسن فواد تین ماہ سے زیر حراست ہیں۔ طویل تفتیش کے بعد بھی ان کے خلاف ریفرنس پیش نہیں کیا جاسکا۔ شہبازشریف کو بھی انکوائری کے لیے جب بھی طلب کیا گیا‘ انہوں نے حاضر ی میں کوتاہی نہ کی۔ ان کے بیرون ملک فرار کا بھی کوئی خدشہ نہ تھا‘ تو پھر ان کی گرفتاری(اور ریمانڈ) کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟جتنے منہ اتنی باتیں۔

وہ جو شاعر نے کہاتھا کہ کس کس کی زباں روکنے جائوں تیری خاطر۔

قومی وصوبائی اسمبلی کی تین درجن سے زائد نشستوں کے ضمنی انتخابات سر پر ہیں۔ان میں زیادہ تر پنجاب میں ہیں‘ جہاں دو‘ تین کے سوا باقی نشستوں پر مسلم لیگ(ن) کی کامیابی ‘نوشتہ دیوار‘ ہے (ظاہر ہے اس کے لیے پولنگ سے کائونٹنگ اور پھر نتائج کے اعلان تک‘ سارے عمل کا صاف شفاف ہونا بنیادی شرط ہے).

ایوان کے اندر (اور باہر بھی) پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں میں قربت اور اتحاد واشتراک کے امکانات کو بھی مانگے تانگے کی بیساکھیوں پر استوار حکومت اپنے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھ رہی ہے۔ پنجاب میں گورنر چودھری محمد سرور کی سینیٹ کی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امید وار کی صرف بارہ ووٹوں سے کامیابی‘ برسراقتدار پارٹی کے لیے تشویش کا ایک اور سبب ہے‘(صرف سات ووٹ دوسری طرف چلے جاتے تو پانسہ پلٹ جاتا)۔

وفاق میں حکومت کے مسائل الگ ہیں‘ اس پر صدقے واری جانے والے تجزیہ کار اور تبصرہ نگار بھی اسے ایک ڈائریکشن لیس گورنمنٹ قرار دے رہے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ ابھی تک خود اپنے آپ کوبھی یقین نہیں دلاسکے کہ وہ اس منصب پر فائز ہوچکے ہیں ‘ ایسے میں ان کے رفقا انہیں سنجیدگی سے کیوں لیں؟

خود حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی انہیں ایک ‘پر اکسی‘ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی؛ چنانچہ جناب وزیر اعظم (اور حکمران جماعت کے سربراہ) کو بار بار کہنا پڑتا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہے‘ بزدار صاحب ہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔

قومی معیشت کا معاملہ یہ ہے کہ جناب اسد عمر کی تمام تر مہارتیں اور صلاحیتیں اس بے لگام گھوڑے پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہیں اور ووٹر کی امیدیں ہیں کہ مایوسی میںبدلتی جارہی ہیں۔ ایسے میں ملک کی (دوسرے نمبر پر ہی سہی)مقبول ترین جماعت کی قیادت کے ساتھ یہ سلوک حکومت کے علاوہ خود جمہوری نظام کے لیے بھی نیک فال نہیں۔

14اکتوبر کو لاہور میں قومی اسمبلی کی جن دونشستوں پر ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے‘ ان میں شاہد خاقان عباسی والی نشست کا نتیجہ تو اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے۔ اب دلچسپی کا حامل حلقہ131ہے جہاں 25 جولائی کو عمران خان سے صرف680ووٹوں سے ہارنے والے خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ اب جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادے ہمایوں اختر سے ہے۔

اعجاز الحق کی طرح ہمایوں نے بھی نوازشریف کی رفاقت سے اپنی سیاست کا آغاز کیاتھا اور اسی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے اور جیتتے رہے۔ 12اکتوبر 1999ء کے بعد جنرل مشرف کی اطاعت قبول کرلی۔ اکتوبر 2002ء کا الیکشن قاف لیگ کے ٹکٹ پر لڑا۔ ن لیگ کی طرف سے سابق سیکرٹری خارجہ اکرم ذکی امید وار تھے‘ جو رات کو جیت چکے تھے۔ اگلی صبح ان کی ناکامی کا اعلان لائی۔

2008ء کے الیکشن میں ہمایوں قاف لیگ کے ٹکٹ پر اپنی ضمانت بھی نہ بچا سکے۔2013ء میں وہ مسلم لیگ (ن) کا انتخابی منشور تیار کرنے والی کمیٹی کے رکن تھے‘ لیکن ٹکٹ سے محروم رہے ‘البتہ ان کے چھوٹے بھائی ہارون اختر سینیٹر بن کر نوازشریف حکومت کے اقتصادی امور کے مشیر ہوگئے۔

ہمایوں نے نون لیگ کے ٹکٹ سے مایوس ہو کر الیکشن سے تین ہفتے قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان نے ان سے حلقہ 131کے ضمنی انتخاب میں ٹکٹ کا وعدہ کرلیا تھا(جہا ں وہ خواجہ سعد رفیق کے مدمقابل تھے) ۔دلچسپ بات یہ کہ خان صاحب یہی وعدہ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے صاحبزادے ولید اقبال سے بھی کرچکے تھے۔

اس حلقے میں خان صاحب کی انتخابی مہم بھی ولید نے ہی چلائی اور اس کے لیے شب وروز ایک کردیئے‘ لیکن ضمنی الیکشن کے لیے ٹکٹ ہمایوں اختر لے اڑے۔ اس کی تلافی ولید کو گورنر چودھری محمد سرور کی خالی کردہ سینیٹ کی نشست پر ٹکٹ دے کر لی جاسکتی تھی۔ولید اس سے بھی محروم رہے۔

ولید کی پی ٹی آئی سے وابستگی برسوں پر محیط ہے۔ وہ 2013ء کے الیکشن میں حلقہ 124میں شیخ روحیل اصغر کے مقابلے میں قربانی کا بکرا بنے تھے۔ (ایک ایسی سیٹ جس پر ولید اقبال کے جیتنے کا کوئی امکان ہی نہ تھا).

گزشتہ دنوں ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر جاوید اقبال کی برسی پر چائے کی میز پر محترمہ ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ سے یہ بات چھڑی تو ان کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا ممکن نہ رہا۔ اپنے جیون ساتھی کی موت کا صدمہ بڑے حوصلے کے ساتھ برداشت کرجانے والی خاتون کے لیے اپنے صاحبزادے کے ساتھ یہ ناانصافی ناقابل برداشت تھی۔

انہیں دکھ تھا کہ ”بے قدرے لوگوں‘‘ نے ولید کی قدر کی‘ نہ اس کی صلاحیتوں اور پارٹی سے اس کی طویل وابستگی اور اس کی شبانہ روز محنت کا خیال کیا۔ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ان کا کہنا تھا‘ ولید علامہ کے پوتے اور جاوید اقبال کے صاحبزادے کے طور پر ٹکٹ کا امید وار نہ تھا‘ وہ تو اپنے میرٹ پر اس کا خواہش مند تھا۔

انصاف کے دعویداروں کی طرف سے ولید کے ساتھ ناانصافی بیگم صاحبہ کے لیے گہرے صدمے کا باعث تھی‘انہیں یاد تھا کہ نون لیگ نے ڈاکٹر جاوید اقبال کو سینیٹر بنوایا تھا اور دوسری بار خود ڈاکٹر صاحب نے اپنی عمراور صحت کے مسائل کے باعث معذرت کرلی تھی۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں