ایڈورڈ سعید: دانش ور کے اظہارات (2)


nasir abbas nayyarژولیاں بِندا (Julian Benda) نے اپنی کتاب دانش وروں کی غداری ( 1927) میں ان دانش وروں پر سخت تنقید کی تھی جنھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک نہیں کہا اوراصولوں پر سمجھوتے کیے۔ بِندا کے پیشِ نظر دانش ور کا جو پروٹوٹائپ تھا، قدیم تاریخ میں اس کی مثال سقراط اور حضرت عیسیٰ ؑتھے، اور تمام اہل ِ کلیسا جو حضرت عیسیٰؑ کی وراثت کے محافظ تھے، نیز بِندا کی نظر میں اہلِ کلیسا سچائی اور انصاف کے ابدی معیارات کے علم بردار ہیں۔ بِندا، دانش ور کے مذہبی پروٹو ٹائپ میں سقراط کے علاوہ کچھ فلسفیوں کوبھی شامل کر لیتے ہیں، جیسے سپائی نوزا، وولتئیر، ارنسٹ ریناں اور نطشے۔ ریناں نے نپولین کے تشدد کی مذمت کی اور نطشے نے فرانس پر جرمنوں کی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی۔ بِندا مزید کہتے ہیں کہ ”اصل دانش ور وہ ہے جس کی سرگرمی بنیادی طور پر عملی مقاصد کے تابع نہیں ہوتی۔ وہ اپنی مسرت آرٹ، سائنس یا مابعد الطبیعیاتی غورو فکر میں تلاش کرتاہے“ اور یہ اعلان کرتاہے کہ ” یہ دنیا میری مملکت نہیں “۔ بِندا کے مطابق حقیقی دانش ورجلا وطنی یا صلیب پر چڑھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ بِندا افسوس سے کہتے ہیں کہ آج کے دانش ور کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ اس نے فرقہ واریت، عوامی احساسات، قومی جنگوں، طبقاتی مفادات کے آگے اپنی اخلاقی طاقت کو ہار دیا ہے۔ اسے بِندا دانش ور کی غداری سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ سعید کا خیال ہے کہ بِندا پہلی عالمی جنگ اور ڈریفس افیئر (جس کا آغاز 1896 میں فرانسیسی فوجی، مذہباً یہودی الفریڈ ڈریفس پر جرمنوں کو فرانس کے عسکری راز فراہم کرنے سے متعلق غداری کے الزامات سے ہوا، جس میں اسے سزا ملی ) کی روحانی تشکیل تھا۔ ان دونوں واقعات نے فرانسیسی دانش وروں کو کٹھن آزمائش سے دوچار کیا؛ ان کے پاس ایک راستہ یہ تھا کہ وہ سامی مخالف رویوں، عسکری ناانصافی اور قومی جوش کے خلاف جرات سے بولیں ؛ دوسرا راستہ یہ تھا کہ بزدلانہ طور پر ہجوم کا ساتھ دیں، یہودی الفریڈ ڈریفس کے دفاع سے انکار کرتے ہوئے، جرمنوں کے خلاف جنگجویانہ ترانے گائیں۔

 سعید یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ بِندا کا دانش ور کا تصور قدامت پسندانہ ہے، مگر یہ طاقت کے خلاف سخت گونج دار لے میں اپنا اظہار کرتا ہے، اور اس کی نظر میں کوئی دنیوی طاقت ایسی نہیں، جس پر تنقید نہ کی جاسکتی ہو اور جس کا محاسبہ نہ کیا جا سکتا ہو۔ ’روایتی دانش ور‘ بڑی سے بڑی دنیوی طاقت کے آگے بے باکانہ کلمہ ءحق کہنے کی جرات کہاں سے کشید کرتا ہے؟ بِندا کے یہاں اس سوال کا بالواسطہ جواب موجود ہے۔ ’روایتی دانش ور‘اپنی سرگرمی کو غیر مادی، مابعد الطبیعیاتی Edward_Said_in_1935اغراض سے وابستہ کرتا ہے؛ اس کی نظر اِ س دنیا کے بجائے اُس دنیا پر ہوتی ہے، اس لیے اِ س دنیا کی ترغیب اورخوف اُس پر غالب نہیں آتے۔ سعید، بِندا کے دانش ور کی بے خوفی کی تعریف کرنے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے۔ ان کا پہلا اعتراض فلسفیانہ نوعیت کا ہے۔ بہ قول سعید، بِندا سچائی اور انصاف کے جن ابدی معیارات کو دانش ور کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، وہ اِس، ہماری دنیا کے نہیں ہیں، نیز یہ واضح نہیں ہوتا کہ ابدی اصولوں کی بصیرت کیوں کر حاصل ہوتی ہے۔ سعید کودوسرا اعتراض یہ ہے کہ بِندا کے زمانے میں عوامی ذرائع ابلاغ (ماس میڈیا) موجود نہیں تھے، ا س لیے وہ براڈ کاسٹر، کمپیو ٹر تجزیہ کار، کھیلوں اور میڈیا کے آئینی ماہرین، پالیسی ماہرین، حکومتی مشیروں، خصوصی مارکیٹ رپورٹ کے متخصصین جیسے دانش وروں کے سماج میں کردار کا اندازہ نہیں کر سکے۔ گرامشی نے جنھیں تنظیمی دانش ور کہا ہے، مذکورہ ماہرین انھی کی قسمیں ہیں۔ لہٰذا سعید کی نظر میں گرامشی کا دانش ور کا تصور حقیقت پسندانہ ہے۔

گرامشی کے تصور کو حقیقت پسندانہ قرار دینے کے پس منظر میں، سعید کا اپنا ترجیحاتی تصورِ کائنات بھی کارفرما ہے۔ سعید مذہبی تصورِ کائنات پر سیکولر تصورِ کائنات کو ترجیح دیتے ہیں۔ سعید کا سیکولر تصورِ کائنات بڑی حد تک اطالوی مفکر گیامب تستاوکو ((1668 –1744) کے اس نظریے پر مبنی ہے کہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہ انسانی دنیا ہے، اسے انسانوں نے اپنے ارادوں سے تشکیل دیا ہے، اور سماجی دنیا کا ہر رویہ، ادارہ، رواج، نظریہ تاریخ کے محور پر تشکیل پایا اور اس سارے عمل میں فطرت یا الوہی قوتوں کا ہاتھ نہیں۔ انسانی سماج میں الوہی قوتیں مداخلت نہیں کرتیں۔ جو لوگ تاریخ کے عمل میں الوہی کردار کا نظریہ پیش کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی حکم رانی کا جواز گھڑتے ہیں۔ چناں چہ اس دنیا کو ہم الوہی قوانین کی مدد سے نہیں، فہم کے سیکولر انسانی طریقوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس تصورِ کائنات میں بِندا کے روایتی دانش ور کی جگہ نہیں۔

سعید، گرامشی کے دانش ور کے تصور کو حقیقت پسندانہ سمجھنے کے باوجود، اسے کافی نہیں سمجھتے۔ وہ امریکی ماہرِ عمرانیات الوِن گولڈنرکے حوالے سے کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں دانش ور نے امرا کے طبقے کی جگہ لے لی ہے (کیوں کہ صنعتی معاشرے میں علم کی صنعت کو حقیقی پیداوار کی صنعت پر برتری حاصل ہوگئی ہے، اور اوّل الذکر صنعت سے وابستہ افراد کافی مالدار ہوگئے ہیں)، مگر وہ وسیع عوام کو مخاطب نہیں کرتے۔ وہ مخصوص زبان میں محدود لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں، اور وہی ان کی زبان سمجھتے ہیں۔ وہ فوکو کی یہ رائے بھی درج کرتے ہیں کہ ’آفاقی دانش ور‘ (جیسے سارتر) کی جگہ’ خصوصی دانش ور‘نے لے لی ہے۔ سعید ان خطبات میں ان خصوصی یا تنظیمی دانش وروں کو جگہ جگہ سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

edward238دانش ور سے متعلق خود سعید اپنا نقطہ نظر بھی واضح کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں دانش ور ایک ایسا فرد ہے جسے عوام کے لیے کسی پیغام، نقطہ نظر، رویے، فلسفے، رائے کی نمائندگی، تجسیم اور تشکیل کی صلاحیت ودیعت ہوئی ہے۔ وہ مشکل سوالات اٹھاتا ہے۔ راسخ العقیدگی اورعقیدے (ڈاگما) کا مقابلہ کرتا ہے، نہ کہ انھیں پیدا کرتا ہے۔ دانش ور کی وجہ جواز تمام لوگوں کے ان تمام مسائل کی نمائندگی ہے، جنھیں فراموش کردیا گیا یا چھپا دیا گیا ہے۔ سعید دانش ور کے لیے خیال کی تشکیل اور ترسیل کو بہ یک وقت اہمیت دیتے ہیں۔ ’خیال کی تشکیل‘ کا یہ مفہوم لیا جا سکتا ہے کہ دانش ور کسی راسخ العقیدہ نظریے یا آئیڈیالوجی کا حامل نہیں ہوتا، بلکہ وہ معاصر دنیا کی مختلف روشوں پر سوال اٹھاتا، یا فراموش شدہ مسائل و معاملات کی چھان پھٹک کرتا ہے، اور پھر اسی عمل کے دوران میں ’خیال کی تشکیل‘ کرتا ہے۔ سعید دانش ور کے لیے آفاقی (اخلاقی) اصولوں کی پابندی تو ضرروی قرار دیتے ہیں، مگر کسی راسخ العقیدہ نظریے کی نہیں۔ خیال کی تشکیل ہی سے اس کی ترسیل کا سوال جڑاہے۔ سعید کے مطابق دانش ور کو ایک ایسا اسلوب اختیار کرنا چاہیے، جو نہ صرف خود دانش ور کی مخصوص آواز کا نمائندہ ہو (جیسے برٹرینڈرسل یا سارتر)، بلکہ عوام کے لیے قابل ِ فہم بھی ہو۔ سعید یہاں اس بحث میں نہیں پڑتے کہ کیاخیال کی تشکیل کا عمل خود ہی اپنے اسلوب کا تعین نہیں کرتا؟ سعید دانش ور کے اسلوب کے لیے ترغیب (Persuasion) کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے دانش ور کے تصور میں ایک گڑ بڑ پیدا ہوتی ہے۔ اگر دانش ور کا کام سوال اٹھانا ہے تو وہ اس کام سے ذہن کو جھنجھوڑتا ہے، نہ کہ کسی خاص جواب کو قبول کرنے کے لیے ذہن کو آمادہ کرتا ہے۔ ترغیب، حکومتوں، سیاسی جماعتوں، تجارتی تنظیموں، مذہبی مبلغین کا طریق کار ہے، جنھیں سعید حقیقی دانش ور تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم آگے چل کر سعید یہ کہتے ہیں کہ دانش ور نہ تو مصالحت کرانے والا ہے، نہ رائے ساز، بلکہ تنقید ی شعور کا حامل ہے۔ وہ سرکاری بیانیوں، میڈیا انڈسٹری کی تمثالوں، آسان فارمولوں، بنے بنائے کلیشوں، نیز سٹیٹس کو کی حامل سب قوتوں کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ سعید یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ دانش ور کا کام ہر وقت حکومت پر نکتہ چینی نہیں، تاہم مستقل ذہنی تحرک اس کی بنیادی خصوصیت ضرور ہے۔ سعید دانش ور کو چست و توانا (اتھلیٹک) عقلی توانائی کا حامل سمجھتے ہیں۔

edward4160875 سعید کے مطابق دانش ور کی سرگرمی کا بنیادی مقصد انسانی آزادی اور علم کی ترقی ہے۔ یہ مقصد، تنظیمی دانش وروں کے مقصد سے متصادم ہے۔ تنظیمی یا جماعتی دانش وراپنی اعلیٰ ترین ذہنی صلاحیتوں کو متعلقہ ادارے (جہاں سے وہ تنخواہ لیتا ہے) کی ترقی کے لیے کام میں لاتا ہے۔ وہ آفاقی اخلاقی اصولوں کی جگہ اپنے ادارے کے قواعد کی پابندی کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دانش ور کسی تنظیم یاادارے سے وابستہ نہیں ہوسکتا۔ دانش ور کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہے۔ اصل سوال یہ ہے ایک حقیقی دانش ور کسی ادارے سے وابستگی کا کیا مطلب لیتا ہے؟ کیا وہ تنخواہ لینے کے عوض میں اپنے ضمیر کی آوازفروخت کرتا ہے، یا محض مہارت؟ ایک بات بالکل واضح ہے کہ دانش ور کی ذہنی دنیا اتنی محدود نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی بھی ادارے یا تنظیم کے مقاصد کے دائرے میں سماجائے۔ چوں کہ وہ بہت کچھ ایسا لکھتا ہے، جو اس کے تنظیمی فرائض سے مختلف اورالگ ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنی ہی تنظیم کے حاشیے پر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں سعید امریکی ماہر عمرانیات سی رائٹ ملس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آزاد دانش ور یا تو اپنی حاشیائی حیثیت کی وجہ سے بے بسی کا مایوس کن احساس رکھتے ہیں یا اداروں، کارپوریشنوں، یا حکو متوں میں نسبتاًچھوٹے عہدے سنبھالنے کا امکان رکھتے ہیں جو اہم فیصلے غیر ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس کی مثال میں ہم پاکستان و ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے متعد د اساتذہ کی مثال پیش کر سکتے ہیں، جنھیں اپنی دانش وری کی خاطر اپنی پیشہ ورانہ ترقیوں کی بھینٹ دینا پڑتی ہے، اور بعض اوقات ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔

سعید دانش ور کے لیے آفاقی اصولوں، اقدار کا ذکر دہراتے ہیں۔ آفاقیت سعید سمیت متعدد مفکروں کے لیے سانپ کے منھ میں چھچھوندر کی مانند ہے، جسے نہ نگلا جا سکتا ہے نہ اگلا۔ اپنے پہلے خطبے کے خاتمے پر وہ لیوتارکے اس نظریے سے برملا اختلاف کرتے ہیں کہ ”عہدِ جدید کے آزادی اور روشن خیالی کے کبیری بیانیے مابعد جدید عہد میں باقی نہیں رہے“۔ سعید مابعد جدید مفکروں پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ مقامی صورتِ حال، لسانی کھیل اور اظہارات ونمائندگیوں (competence) کو اہمیت دیتے ہیں، اور یوں آفاقیت کو نظر انداز کرتے ہیں، مگر اگلے خطبے ” قوموں اور روایتوں کو فاصلے پر رکھتے ہوئے“میں جن مباحث کو چھیڑتے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ آفاقیت ایک تجریدہے، اور دوسری عمومی تجریدوں کی مانند اس کابھی سیاسی استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً اس خطبے کے آغاز ہی میں کہتے ہیں کہ بِندا کا دانش ور کو آفاقی دنیا کا باشندہ کہنادرست نہیں۔ بِندا دانش ور کو قومی یا نسلی شناخت سے ماورااور ان ”ماورائی اقدار “کا حامل سمجھتے ہیں جن کا اطلاق تمام قوموں پر ہوتا ہے۔ سعید کی رائے ہے کہ بِندا جسے آفاقی دنیا کَہ رہے ہیں وہ حقیقتاً یورپی دنیا ہے (سوائے حضرت عیسیٰؑ کے) ؛ انیسویں صدی میں یورپ کی ’مقامی اقدار‘ کو آفاقی بنا کرپیش کیے جانے کا آغاز ہو اتھا۔ سعید واضح کرتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد نو آبادیوں کے ختم ہونے، سرد جنگ کے شروع ہونے، اور تیسری دنیا کے وجود میں آنے کے بعد، نیز سفر اور ابلاغ کے وسائل میں اضافے کے بعد”یورپ اور مغرب پوری دنیا کے لیے معیار ساز نہیں رہے“۔ یہاں سعید مابعد جدید مفکروں ہی کی اصطلاحات فرق (Difference)، دوسراپن (Otherness) اور مقامیت کاری (Localisation) استعمال کرتے ہیں۔ فرق، دوسرے پن اور مقامیت کاری کی آگاہی بڑھی ہے۔ اب یہ تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ فرانسیسی دانش ور، چینی دانش ور کی طرح نہیں۔ ہم کَہ سکتے ہیں کہ پاکستانی دانش ور چینی دانش ور کی مانند نہیں۔ سعید واضح لفظوں میں قبول کرتے ہیں کہ ”دانش ور کے آفاقی ہونے کا تصور لازماً تحلیل ہوا ہے“۔

دانش ور کے آفاقی تصور کو جو باتیں محال بناتی ہیں، ان میں سب سے اہم قومیت ہے۔ قومیت سے جڑا اہم لفظ قوم پرستی ہے۔ سعید یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ قوم پرستی کی تشکیل میں زبان کا کردار بنیادی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسل سے لے کر چومسکی تک کوئی اسپرانتو (مصنوعی عالمی زبان) میں نہیں لکھتا۔ ”ہر دانش ور ایک زبان میں پیدا ہوتا ہے اور زیادہ تر اسی زبان میں اظہار کرتے اپنی عمر بسر کردیتاہے، جو دانش ورانہ سرگرمی کے اظہار کا ذریعہ ہے“، یہیں دانش ور ایک خاص مسئلے سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ جس زبان میں اظہار کرتا ہے، وہ پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ گویا دانش ور، زبان ایجاد نہیں، اختیار کرتا ہے۔ دانش ور کا مسئلہ یہ ہے کہ زبان میں اظہار کے بعض ایسے رویے غالب ہوتے ہیں، جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ’ سٹیٹس کو‘ کوقائم، اور کچھ چیزوں کی پہلے سے موجود آگاہی کو جوں کا توں برقرار رکھیں۔ سعید یہاں جارج آرول کے مشہورمضمون ‘Politics and the English Language’ (مطبوعہ 1946) کا حوالہ دیتے ہیں۔ آرول کے مطابق edwarefaultکلیشے، مردہ استعارے، بے حس تحریریں زبان کے انحطاط کی علامتیں ہیں۔ انھیں پڑھ اور سن کو ذہن سُن ہوجاتاہے۔ ان کا اثر ذہن پر اس پس منظری موسیقی کا سا ہوتا ہے جو کسی سپر مارکیٹ میں مدھم سروں میں بج رہی ہوتی ہے، جو شعور پر حاوی ہوجاتی اور خیالات و جذبات کو (اشیا کی) منفعل قبولیت کے لیے بہکاتی ہے۔ کلیشے صرف زبان کا انحطاط نہیں، خیالات اور قوت ایجاد کا اانحطاط بھی ہے، مگر اس انحطاط کا فائدہ سیاست دان اٹھاتے ہیں۔ وہ کلیشوں کے ذریعے کئی قسم کی جھوٹی باتوں کو سچ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ سعید اس ضمن میں ان قومی کارپوریٹ شناختوں کا ذکر کرتے ہیں جنھیں ”ہم“ (we) اور ”ہمیں “ (us) جیسے الفاظ سے مستحکم کیا جاتا ہے۔ قومی زبانوں میں جاری ہونے والے اخبارات میں ”ہم امریکی“، ”ہم برطانوی “ اور اردو میں ”ہم پاکستانی“ جیسے الفاظ اس قومی شناخت کا تصور راسخ کرتے ہیں، جو اصل میں تجرید ہے۔ سعید کے مطابق ”صحافت اس شے کو واضح اور ٹھوس بناتی ہے جو قومی زبان میں مضمر ہوتی ہے“۔ قومی زبان میں ”ہم“ کے علاوہ ”انھیں “ (them) کا تصور بھی ہوتاہے۔ سعید کا تجزیہ ہے کہ ”ہم “ کے ذریعے اگر ایک طرف قومی شناخت پیدا ہوتی ہے، تو دوسری طرف اس شناخت کو ”انھیں “ کی وجہ سے خطرے میں ہونے کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ”اس [تفریقی شناخت]کے زیراثرعلم اور کمیونٹی[آفاقی نوعیت کی] نہیں، عدم رواداری اور خوف پیدا ہوتاہے“۔ عدم رواداری اور خوف حقیقی اور لفظی جنگوں کا باعث بنتے ہیں۔

اس بحث کے ذریعے سعید یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دانش ور کو کس قسم کی بندشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آخر ایک دانش ور ان فصیلوں سے باہر کیسے نکلے جو قوم یا کسی دوسری قسم کی کمیونٹی (جیسے یورپ، مغرب، ایشیا، افریقا) نے تعمیر کر رکھی ہیں ؟ بہ قول سعید عوامی گفتگو میں ”انگریز“، ”عرب“، ”امریکی“ یا ” افریقی“ سے بڑھ کر کوئی دوسرے الفاظ عام نہیں۔ ان میں سے ہر لفظ نہ صرف پورے کلچر بلکہ ایک خاص ذہنی رویے (مائنڈ سیٹ) کا حامل بھی ہے۔ قومی کارپویٹ شناختوں سے عبارت ان الفاظ کے ذریعے کسی کمیونٹی میں حقیقی طور پر موجود مختلف و غیر متجانس عناصر کا انکار کیا جاتا ہے۔ یہاں سعید مغرب کے اسلام کی طرف ’کارپویٹ رویے‘ کا ذکرکرتے ہیں۔ امریکی اور برطانوی اکیڈمک دانش ور، ایک ارب مسلمانوں کے بارے میں، جو نصف درجن (حقیقتاً کہیں زیادہ) زبانیں بولتے ہیں، غیر ذمہ دارانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اسلام کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے بارے میں کبیری تعمیمات سے کام لیتے ہیں، اور اسلام اور جمہوریت، اسلام اور انسانی حقوق، اسلام اور ترقی میں عدم مطابقت سے متعلق ڈھٹائی سے آرا قائم کرتے ہیں۔ سعید اسلام کو ایک مذہب اور کلچر سمجھتے ہیں ؛ یہ دونوں کسی واحد کلیے کے اسیر نہیں ہیں؛ ان کی متعدد تعبیریں ہیں۔ وہ شامی مسلم دانش ور ادونس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ کیا اسلام حکمرانوں کا ہے، یا انحراف پسند شعرا اور مسالک کا؟ مغرب اسلام کے غیر متجانس کردار پر زور دیتا ہے، اور اس کی تاریخ میں عقلیت و سائنس اور اجتہادی فکرکے حامل عناصر کی نفی کرتا ہے۔ یہاں سعید کا اشارہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اسلام سے متعلق اس امریکی ڈسکورس کی طرف ہے، جس میں اشتراکیت کی جگہ اسلام کو ملی ہے۔ سعید کے یہ خطبات گیارہ ستمبر (نائن الیون) کے واقعے سے پہلے دیے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اسلام کی بابت امریکی ڈسکورس میں شدت پیدا ہوئی ہے۔

edward_said_in_memories_by_hamzazسعید کے نزدیک قوم پرستی سے متعلق کارپوریٹ فکر سے آزاد ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دانش ور ’ متجسس، تشکیک پسند فرد‘کا کردار اختیار کرے۔ وہ ایک بارپھر یہ واضح کرتے ہیں کہ قوم اور گروہ فطری یا خدائی عطیہ نہیں، بلکہ تشکیل اور بعض صورتوں میں ایجاد ہیں، جن کے پیچھے جدوجہد اور فتح کی تاریخ ہے۔ قوم کے تاریخی طور پر تشکیل پانے کا یہ علم، دانش ور کو ذہنی آزادی دیتا ہے؛ وہ کسی عقیدے، اسطور، آئیڈیالوجی کے زیر اثر نہیں آتا؛ وہ انسانی معاملات کا تجزیہ اس انسانی علم کی مدد سے کرتاہے، جسے ماوارے خطا ہونے کا گھمنڈ نہیں ہوتا۔ دانش ور کی نظر میں کوئی روایت اتنی مقدس نہیں ہوتی کہ اس کی تاریخ اور انسانوں پر اس کے اثرات کے ضمن میں سوالات قائم نہ کیے جاسکیں۔ چوں کہ قوم کی تاریخ جدوجہد اور تسخیر سے عبارت ہے، اس لیے دو طبقے وجود میں آتے ہیں : فاتح اور مغلوب ؛ غالب اور نمائندگی سے محروم۔ دانش ور اگر کسی آفاقی اخلاقیات کا حامل ہو سکتا ہے تو وہ ہے، مغلوب، غیر نمائندگی پذیر، فراموش کردہ، نظرا نداز کردہ طبقے کی خاموشی کوآواز دینا۔ سعید ماہر عمرانیات ایڈورڈ شلس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ دانش ور دو انتہاﺅں پر کھڑے ہیں : وہ یا تو غالب اقدار، اصولوں کے خلاف ہیں یا مصلحت آمیز انداز میں وہ عوامی زندگی میں تنظیم اور تسلسل مہیا کرتے ہیں۔ سعید کی رائے ہے کہ جدید دانش ور کے لیے اوّل الذکر کردار ہی حقیقی ہے، یعنی غالب رجحانات کو چیلنج کرنا، کیوں کہ غالب اقدار و اصول قوم سے جڑے ہیں جو ہمیشہ تسخیر پسند ہے، اسے اختیارو مرتبہ حاصل ہے؛ قوم، دانش ور سے تحقیق اور تجزیے کی بجائے وفاداری اور متابعت کا تقاضا کرتی ہے۔ دانش ور کو اس تقاضے کے آگے جھکنے سے انکار کردینا چاہیے۔ اسے اپنی دانش ورانہ فکر کے سوا کسی سے وفادار نہیں ہونا چاہیے۔

اس خطبے کے آخری حصے میں دو اہم سوال سعید نے اٹھائے ہیں۔ ایک یہ کہ دانش ور ان لسانی بندشوں سے کیسے آزاد ہو، جن سے قومی شناخت مستحکم (اور ساتھ ہی خطرے سے دوچار) ہوتی ہے؟ سعید کا خیال ہے کہ قومی زبانیں ہمارے ارد گرد برائے استعمال موجود نہیں ہوتیں، بلکہ انھیں ’اپنانا‘ (appropriate) پڑتا ہے۔ ’اپنانا‘ در اصل دانش ور کا مﺅقف ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ وہ قومی زبانوں کی تمام عمومی علامتوں کو بے چون و چرا قبول کر لیتے اور ان کی مدد سے اپنے تخیل میں قومی شناخت کا ایک پر شکوہ قلعہ تعمیر کر لیتے ہیں۔ وہ زبان کو ’اپناتے‘ نہیں، زبان کو موقع دیتے ہیں کہ وہ انھیں اپنالے۔ جب کہ دانش ور سوال اٹھا کر، انحراف کی روش اپنا کر زبان کو اپناتاہے۔ وہ عمومی علامتوں، کلیشوں وغیرہ میں اظہار کرنے کے بجائے، ان پر سوال قائم کرتا ہے؛ جن عمومی علامتوں سے ذہن سُن ہوجاتے ہیں، انھیں نہ صرف تحلیل وتجزیہ کا موضوع بناتا ہے، بلکہ ایک غیر عمومی اسلوب بھی اختیار کرتا ہے۔ یہیں ہمیں اس سوال کا جواب بھی ملتا ہے کہ کیوں دانش ور اپنا اظہار نئی اصطلاحات میں کرتے ہیں، اور کیوں خطیبانہ اورشاعرانہ اسلوب سے بےزار ہوتے ہیں۔ نسبتاً نامانوس زبان، ایک حقیقی تخلیق کار ہی کی نہیں، دانش ور کی بھی ضرورت ہے۔ محاورات، کہاوتوں، معروف شعری استعاروں سے لبریز زبان ذہن کو لوری دیتی ہے، (جسے بعض لوگ لطف ِ زبان یا لطف ِ سخن کہتے ہیں ) جگاتی نہیں۔

Poster_of_Edward_Saidدانش ور کی قومی وفاداری کی کیا حقیقت ہے؟ اس دوسرے سوال کے ضمن میں سعید یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سب بغیر کسی استثنیٰ کے قومی، مذہبی یا نسلی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم خواہ کس قدر مزاحمت واحتجاج کر لیں، اپنے خاندان اور قومیت سے جدا نہیں ہو سکتے۔ سعید قوم و مذہب سے جڑے رہنے اور وفاداری کو مترادف نہیں سمجھتے۔ یوں بھی قوم سے علیٰحد گی کے بعد دانش ور مخاطب کس کو کرے گا؟ سعید کی رائے میں جب کوئی قوم سیاسی یا حقیقی طور پر کسی خطرے سے دوچارہو (جیسے فلسطین و بوسنیا، یا طالبان کے ہاتھوں پاکستان) تو قومی دشمنوں کے خلاف دفاع لازم ہے۔ اسے وہ ’دفاعی قوم پرستی‘ کہتے ہیں۔ یعنی ایمر جنسی کی حالت میں قوم کی بقا باقی لوگوں کے ساتھ دانش ور کے لیے بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ تاہم وہ فرانز فینن کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ ”استعمار مخالف قوم پرستی کے مقبول گیت (جیسے پارٹی اور لیڈر شپ کی تائید) کا ساتھ کافی نہیں “۔ نیز” کیا ہم نو آبادیات سے خود کو نجات دلانے کے لیے لڑ رہے ہیں یا ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ جب آخری سفید پولیس والا چلا جائے گا تو ہم کیا کریں گے؟ مقامی دانش ور کا مقصد محض سفید پو لیس والے کو اس کے مقامی ہم منصب سے بدلنا نہیں، بلکہ نئی’ روحوں ‘ کی ایجادہے“۔ سعید واضح لفظوں میں لکھتے ہیں کہ بقا کے لیے اجتماعی جنگ سے وفاداری، دانش ور کی تنقیدی حس کو سُن نہیں کر سکتی۔ اس دوران میں بھی اسے اپنی لیڈرشپ کی ان روشوں پر تنقید کرنی چاہیے، جن کی وجہ سے کچھ خیالات، معاملات حاشیے پر چلے جاتے ہیں دانش ور کو دفاعی قوم پرستی اور لیڈر شپ پر تنقید کے علاوہ ایک تیسرا کام بھی کرنا چاہیے۔ مقامی بحران کو آفاقی بنانا؛ اپنی قوم کی تکالیف کو وسیع انسانی مفہوم دینا، اپنے تجربے کو دوسروں کے مصائب سے وابستہ کرنا۔

حاشیے کا تصور سعید کی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دانش ور طاقت کے ان تمام مظاہر اورعلامتوں کا پردہ چاک کرتا ہے، جواخلاقی و علمی اہمیت کے حامل معاملات کو حاشیائی حیثیت سے ہم کنار کرتی ہیں۔ اس موضوع کی مزید وضاحت، سعید اپنے تیسرے خطبے بہ عنوان ”دانش ورانہ جلاوطنی : وطن بدر اور حاشیائی دانش ور“، میں کرتے ہیں۔ خطبے کے آغاز میں سعید قبل جدید عہد اور جدید عہد کی جلاوطنی میں فرق کرتے ہیں۔ قبل جدید عہد میں مخصوص افراد کو جلاوطنی پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ان کے لیے وطن بدری ایک جذامی تجربہ تھا؛ جلاوطن کو اچھوت سمجھا جاتا تھا۔ جدید عہد میں جلاوطنی پورے سماج کی ظالمانہ سزا میں بدل گئی ہے۔ (سعید یہاں آرمینیائی لوگوں کی مثال دیتے ہیں۔ مشرقی بحیرہ روم کے یہ باشندے ترکوں کے ہاتھوں نسل کشی کی وجہ سے الیبو، یروشلم اور قاہرہ میں آباد ہوئے۔ edwasultدوسری عالمی جنگ کے بعد پھر دردبدر ہوئے۔ سعید پاکستان کی طرف مسلمان مہاجرین اور اسرائیل کی طرف یورپی و ایشیائی یہودیوں کی ہجرت کی مثال بھی دیتے ہیں )۔ سعیداس مقبول عام مگر مکمل طور پر غلط مفروضے کی نفی کرتے ہیں کہ جلاطن لوگ اپنی جنم بھومی سے یکسر کٹ جاتے، بیگانہ ہوجاتے، یا مایوسانہ طور پر الگ ہوجاتے ہیں۔ قبل جدید عہد میں جلاوطن شخص کو کوئی شے اپنے وطن کی یاد دلانے کو موجود نہیں ہوتی تھی ؛ وہ ماضی کے سلسلے میں حدردجہ دل شکستہ اور حال و مستقبل کے ضمن میں تلخی کے احساسات رکھتا تھا، جب کہ جدید زمانے میں متعدد چیزیں ایک جلاوطن شخص کو اپنے وطن و ماضی کی یاددلاتی ہیں (جیسے وہاں کے لوگوں، اشیا، مصنوعات کی مسلسل آمدورفت سے، اور ذرائع ابلاغ کی خبریں، رپورٹیں وغیرہ)۔ چناں چہ بہ قول سعیدآج کا جلاوطن ایک وسطی حالت میں رہتا ہے؛ وہ نہ تو پورے طور پر نئے ماحول سے ہم آہنگ ہوتا، نہ قدیم ماحول سے مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے؛ وہ نیم شرکت اور نیم علیحدٰگی سے مغلوب رہتا ہے؛ ایک سطح پر ناستلجیائی اور جذباتی ہوتا ہے، اور دوسری سطح پر (نئے ماحول کی) ماہرانہ انداز میں نقل کرنے والا، ایک خاموش آوارہ ءوطن ہوتا ہے۔ سعید اس ضمن میں وی ایس نائپال کے ناول Bend in the Riverکے مرکزی کردار سلیم کی مثال دیتے ہیں جو ہندوستانی نژاد مشرقی افریقی مسلمان ہے۔

سعید جلاوطن کمیونٹی کی صورت حال کا خیال انگیز تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ پاکستان اور اسرائیل کے مہاجرین پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی ہجرت، تقسیم اور علیحٰدگی کی آئیڈیالوجی کے تحت ہوئی تھی۔ اس آئیڈیالوجی نے فرقہ وارانہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے انھیں زندہ رکھا ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (جلاوطن گروہوں کے) دانش ور جب تک خود کو بے خانماں کمیونٹی کو متاثر کرنے والی صورتِ حال کا حصہ سمجھتے ہیں، وہ ثقافتی آمیزش (acculturation) سے زیادہ، ثقافتی عدم توازن کا سرچشمہ بننے کا امکان رکھتے ہیں۔ حقیقتاً یہ دانش ور اپنی قدیمی شناخت اور نئی، نسبتاً مختلف ثقافتی صورت حال میں موجود خلا کو پر کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، اسے ابھارنے اور اس کی بنیاد پر مراعات حاصل کرنے کی سیاست کرتے ہیں۔

اس خطبے کا انتہائی فکر انگیز نکتہ جلاوطنی کو ایک استعاراتی حالت کہنا ہے۔ سعید کے مطابق اگرچہ جلاوطنی ایک حقیقی حالت ہے، ساتھ ہی یہ ایک استعاراتی حالت بھی ہے۔ نیز جلاوطنی محض ہجرت اور بے دخلی کی سیاسی تاریخ تک محدود نہیں۔ سعید اس بات کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ کسی معاشرے کے تاحیات شہری بھی درونیمانوس (insiders) اور بیرونیاجنبی (outsiders) افراد میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ درونی افراد کسی بغاوت و انحراف کی واضح آواز کے بغیر جی حضوریے (yea-sayers) ہوتے ہیں ؛ وہ سماج کا ساتھ دینے کے بدلے ترقی پاتے ہیں۔ دوسرے انکار پسند (nay-sayers) ہوتے ہیں ؛ ان کے سماج سے تعلقات ناہموار ہوتے ہیں ؛ بغاوت و انحراف کی اونچی لے کی وجہ سے وہ مراعات، طاقت، اختیارات اور اعزازات نہیں پاتے۔

جلا وطنی کی حقیقی صورت حال عبارت ہے، مقامی لوگوں کی مانوس فضا میں خود کو اجنبی محسوس کرنے سے۔ تمام ’بیرونی دانش ور‘خود کو اپنے ہی سماج میں edward337164gاجنبی پاتے ہیں۔ سعید کی رائے میں، اس مابعد الطبیعیاتی مفہوم میں جلاوطنی کا مطلب ہے، بے چینی، بے قراری، مستقل طور پر مضطرب ہونااور مضطرب رکھنا۔ گھر واپسی کا ناممکن ہونا اور نئی جگہ میں بے خانماں ہونے کا احساس ہی، تمام اضطراب کا باعث ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جلاوطن دانش ور اس اضطراب کو دبانے کی بجائے، اسے اپنی فکر کی غذا بناتا ہے۔ جلاوطنی اپنے بھر پور استعاراتی دلالتوں کے ساتھ، اس کا طرز ِ فکر بن جاتی ہے۔ یہاں سعید تھیوڈورڈبلیواڈورنو (1903۔ 1969) کی مثال پیش کرتے ہیں۔ 1930 کی دہائی میں نازی جرمنی سے ہجرت کر کے، پہلے لندن اور پھر امریکا جانے والے، اور 1949 میں واپس جرمنی آنے والے اڈورنوایسے مفکر ہیں جنھیں سعید ’بیسویں صدی کا ممتاز دانش ورانہ ضمیر‘ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اڈورنو کا نیویارک میں پانچ سال (1934 تا 1941) قیام رہا، مگر انھوں نے جلاوطنی کو اس کے حقیقی و استعاراتی معنوں میں ایک گہرا تجربہ بنایا۔ بہ قول سعید وہ اپنے جوہر میں دانش ور تھا، یعنی تمام نظاموں سے نفرت کرنے والا، خواہ وہ ’ہمارے ‘ ہوں یا، ’ان کے‘۔ اڈورنو ایک مستقل جلا وطن دانش ورتھا۔ اڈورونو کہتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں قیام اب ناممکن ہے۔ وہ روایتی قیام گاہیں، جہاں ہم پلے بڑھے، اب ناقابل برداشت ہوگئی ہیں ؛ ان کی آسائش کی قیمت علم کے ظہور (اور نئے انکشافات ) سے ادا کی جاچکی ہے۔ اڈورنو مزید کہتے ہیں کہ گھر اب قصہ ماضی ہے۔ نئی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ ’گھر میں بے گھر رہا جائے ‘۔ نیز غلط زندگی صحیح طور پر نہیں گزاری جا سکتی۔ سعید، اڈورنو کے مﺅقف کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ جلاوطنی جس وسطی حالت کی علم بردار ہے، وہ حالت بھی ایک جامد آئیڈیالوجی میں بدل سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی شخص، گھر اور بے گھری کی حالت سے وابستہ اضطراب کا عادی ہو سکتا ہے، جس کا مطلب دانش ورانہ جوہر (بے چینی) کی موت کے سوا کچھ نہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ کلاسیکی اردو شاعری میں گھر اور بے گھری کے تجربے سے وابستہ اضطراب کا اظہار عام ملتا ہے۔ جسے سعید نے مابعد الطبیعیاتی جلا وطنی کا نام دیا ہے، اس کی اتنی کیفیتیں اردو شاعری میں ملتی ہیں کہ ان پر الگ ایک مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔ جلاوطنی کے مضمون کی تہ میں کہیں تووحدت الوجود ی فکر کام کررہی ہے، کہیں عشق کی غارت گری، کہیں ناقدری ِ زمانہ، کہیں روح و بدن کی کش مکش اور کہیں اپنے عہد سے اجنبیت کا احساس۔ یہ چند اشعار دیکھیے:

مسافر ہو کے آئے ہیں جہاں میں تس پہ وحشت ہے

قیامت تھی اگر ہم اس خرابہ میں وطن کرتے  (انعام اللہ یقیں)

رہے پھرتے دریا میں گرداب سے

وطن میں بھی ہیں ہم سفر میں بھی ہیں  (میر تقی میر)

کون ومکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر

اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں  (الطاف حسین حالی)

تھی وطن میں شان کیا غالب کہ ہو غربت میں قدر

بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں  (مرزا غالب)

نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی

نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں  (علامہ اقبال)

(جاری ہے)

[دانش ور کے اظہارات (Representations of the Intellectual) ونٹاژ بکس، نیو یارک سے 1994 میں پہلی مرتبہ شایع ہوئی۔ اس تحریر میں کتاب کا پہلا ایڈیشن ہی سامنے رکھا گیا ہے۔ ن ع ن]

 


Comments

FB Login Required - comments