تماشا میرے آگے


آج سہ پہر 5:00 بجے میں ہسپتال کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے چار دن سے بخار تھا اس لئے سوچا کہ چیک اَپ کروا لوں۔ ہسپتال کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ عین ہسپتال کے مین دروازے کے سامنے بھیڑ جمع ہے اورگاڑیاں ہارن پہ ہارن بجائے جا رہی ہیں۔ انہی گاڑیوں کے درمیان ایک غریب بوڑھا رکشے والابھی اپنے رکشہ کے ساتھ کھڑا تھا۔ اور کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا معلو م ہوتا تھا۔ بیچارہ شاید یہ سوچ رہا ہوگا کہ اگر کوئی سواری نہ ملی تو میں اپنے بچوں کے لئے رات کے کھانے کا بندوبست کیسے کرونگا۔ اس کے کندھے پہ ایک سبز رنگ کی چھوٹی سی چادر رکھی ہوئی تھی جس پر وہ بار بار بے خیالی میں ہاتھ پھیرتا جاتا تھا۔

میں اُس وقت اس سے تقریباً بیس فٹ کے فاصلے پر کھڑا تھا اور بھیڑ کے منتشر ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی دوران ایک پولیس وین آئی جس پر دو پولیس والے سوار تھے۔ ایک ڈرائیو کر رہا تھا اوردوسرا اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا اور بظاہر کوئی افسر معلوم ہوتا تھا۔ بھیڑ دیکھ کر ڈرائیو کرنے والا پولیس باہر آیا اور سیدھا جا کر اس رکشہ والے کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا اور دھکے دے کر بولا کہ رکشہ آگے لے جاؤ۔ وہ بیچارہ غریب اس اچانک حملے سے اس قدر بوکھلا گیا کہ آگے سے کوئی بات بھی نہ کر سکا اور اپنے رکشہ کو دھکیلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور جا کر رکشہ کھڑا کیا اور اپنی سبز چادر اپنے گال پر رکھ کے اس پولیس والے کی طرف مظلومیت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ بیچارہ شاید یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ آخر مجھے ہی کیوں تھپڑ ماراگیا؟ پھر اس کے دل نے جواب دیا ہو گا کہ اس لئے کہ تُو غریب ہے اور پاکستان میں رہتا ہے۔

اُف خدایا! کتنا بھیانک وہ منظر تھا۔ اس غریب کی مظلومی و بے بسی دیکھ کر میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔

اگر اس رکشہ والے کی جگہ کوئی امیر زادہ اپنی مرسیڈیز میں بیٹھا فون سُن رہا ہوتا تو اسی پولیس والے نے جاکراسے کہنا تھا کہ ’سر جی! پلیز گاڑی ذرا آگے لے جائیں‘۔
اے کم ظرف پولیس والے! کیوں نہ تُو نے ایک دفعہ اس غریب کو بھی زبان سے کہاکہ چاچا جی رکشہ آگے لے جاؤ۔

آخر یہ فرق کیوں؟ کیا غریبوں کی کوئی عزت نہیں ہے؟ کیا ان کو دکھ درد محسوس نہیں ہوتا؟ کیا ان کو عزت سے جینے کا حق نہیں ہے؟ گورنمنٹ آخر یہ اعلان ہی کیوں نہیں کر دیتی کہ سارے غریب خود کشی کر لیں۔ ان کو پاکستان میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر اس غریب شخص کے بچے اپنے باپ کو خود سے کم عمر اہلکار سے یوں تھپڑ کھاتے دیکھ لیتے تو ان پر کیا گزرتی؟ کیا ان کے کلیجے نہ پھٹ جاتے؟ میرا بس چلتا تو اس اہلکار کو ما ر مار کے اس غریب کے قدموں میں لا پھینکتا اور اس سے معافی منگواتا! لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اور یہ سوچ کر ہسپتال میں داخل ہو گیا کہ یہ تو پاکستان ہےاس لئے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں، ایسے حادثے تو یہاں پہ روز ہوتے ہیں، لیکن صرف غریبوں کے ساتھ۔ ہاں صرف غریبوں کے ساتھ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ذیشان لاشاری کی دیگر تحریریں
ذیشان لاشاری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں