آئیے پھر سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جائیں


اپنے پیدا ہونے سے لے کر اب تک میں نے پاکستان میں کئی حکومتیں بدلتی دیکھی ہیں۔ ہر آنے والا وزیر اعظم کشکول توڑتے توڑتے دنیا سے یا وزارت اعظمی سے چلا گیا مگر کمبخت کشکول نہ ٹوٹا۔ موجودہ حکومتی جماعت بھی تقریبا بائیس سال سے کشکول توڑنے کا عندیہ دیے ہوئے ہے۔ ارمانوں سے ووٹ دینے والی عوام نے کشکول ٹوٹنے کی امید میں ہی تبدیلی والی حکومت چنی ہے۔ حالات سے البتہ محسوس ہوتا ہے کہ کشکول کے سائز کے بڑھنے کے تو امکانات ہیں ٹوٹنے کے نہیں۔ پاکستان کی انقلابی حکومتیں دو سلوگن ہمیشہ لاتی ہیں ایک تو یہ کہ کشکول توڑ دیں گی اور دوسرا یہ کہ پاکستان کے قدرتی وسائل بے بہا ہیں اور ہم ان سے ہی ملک کو امریکہ بنا دیں گے۔

یہ دونوں باتیں مختصرا سفید جھوٹ ہیں۔ میری بے شک نہ مانیں مگر اکنامک کونسل میں عاطف میاں کے بعد بچے کھچے معاشی ماہر ہی آپ کو یہ بتا دیں گے کہ قرض معیشت کا ایک لازمی جز ہے۔ امریکہ اور چین جو اس وقت دنیا کی مضبوط ترین معاشی طاقتیں ہیں دونوں پر کئی ٹریلین ڈالرز کے قرضے ہیں۔ مسائل قرض نہیں وہ طریقہ کار ہیں جن کی وجہ سے آپ قرض واپس نہیں کر پاتے۔ نالائقانہ مالی پالیسیاں اور بد انتظامی اس کی وجہ ہے اور اس کا حل پالیسی کی مستقل سمت درست کرنا ہے نہ کہ چندے مانگنا یا بوجھ اندھا دھند عوام پر منتقل کر دینا ہے۔

دوسرا دعوی جس کو سن سن کر پاکستانی عوام کے کان پک چکے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم قدرتی وسائل میں مالا مال ہیں اور بس ان کو سنبھالنے کی دیر ہے ہمارے تمام مسائل حل ہو جایئں گے۔ حقیقتا صرف پاکستان کی آبادی اس وقت ہی ایسا ”وسیلہ“ ہے جو بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش جب پاکستان سے الگ ہوا تھا تو اس وقت پاکستان کی آبادی 60 ملین اور بنگلہ دیش کی آبادی 67 ملین تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی 167 ملین اور پاکستان کی آبادی 200 ملین ہے جو کہ دو اعشاریہ 4 کی رفتار سے دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان صرف دنیا کی وہ واحد مسلمان آبادی ہے جو اس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ جس اسلام کے قلعے میں ہم براجمان ہیں وہ ایسے جلد ہی ہمارے اوپر گر جائے گا۔ آبادی بڑھا کر ہم اسے چین کی طرح استعمال بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری آدھی آبادی عورتیں تو کئی وجوھات کی بنا پر کام نہیں کر سکتیں یا نہیں کرتیں۔ ٹیکنیکل تعلیم اور ہنرمند مزدور جو معاشی نظام میں اہم ہوتے ہیں ان کو پاکستانی معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے پی ایچ ڈی کی فیکٹری بنے ہیں جبکہ نوکری کے مواقع انتہائی کم ہیں۔ پاکستانی انڈسٹری تیزی سے کمزور ہو رہی ہے اور ٹیکس ادا کرنے والے مٹھی بھر لوگ ہی ہیں۔

جہاں تک زمینی وسائل کی بات ہے، ہم کچھ عرصہ پہلے تک بھی سوئی بلوچستان سے نکلنے والی قدرتی گیس اندھا دھند پھونکتے رہے ہیں کہ یہ کبھی ختم نہ ہو گی۔ مگر گیس تو ختم ہو گئی۔ دیگر ممالک کی طرح ہم بجلی کے چولہوں پر بھی کھانا نہیں بنا سکتے کیونکہ ہمارے پاس بجلی بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ پانی بہت ہے صرف ہم اسے ذخیرہ نہیں کر پاتے اس لیے کمی کا شکار ہیں۔ یہ مکمل درست نہیں ہے۔ پھر بھی بھارت نے مناسب جگہوں پر ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کرنے کے اسباب بنا رکھے ہیں۔ کلائمٹ چینج یا موسمی تبدیلی کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان کا مون سون کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ پانی اب اس وافر مقدار میں میسر تو نہ آسکے گا جس کی ہمیں خواہش ہے لیکن چھوٹے ڈیم، بارشی ذخیرہ اندوزی اور احساس زیاں ہمیں آج بھی مدد کر سکتا ہے۔ بڑے ڈیم بہت وقت لیتے ہیں اور کژت سے اپنی ابتدائی قیمت سے کئی گنا مہنگے بنتے ہیں۔ پاکستان اسوقت دنیا کے 13 پانی کی سخت قلت کا شکار ممالک سے ہے۔ پانی کی قدر عوام کو سکھانا سخت ضروری ہے۔ یہ تبھی ہو سکتا جب ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم قدرتی وسائل سے مالامال نہیں ہیں اور ہمیں بے اتنہا عقل و شعور سے انتظامی معاملات چلانے ہیں۔

یہ سب تبھی ہو سکتا ہے جب ہمارے حکمران بلند بانگ دعووں سے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بجائے انہیں سچ میں شامل کر کے بہتری کے سفر پر اپنے ساتھ لے کر چلیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

قرۃ العین فاطمہ

قرۃ العین فاطمہ آکسفورڈ سے پبلک پالیسی میں گریجویٹ، سابق ایئر فورس افسراور سول سرونٹ ہیں۔

quratulain-fatima has 15 posts and counting.See all posts by quratulain-fatima