ڈھائی ہزار روپے میں ہوا کیسے بیچی گئی؟


ڈھائی ہزار روپے میں بیچے جانے والی اس بوتل کے اندر کیا ہے؟ جان کر آپ شرطیہ طور پر ہنستے ہنستے اپنی کرسی سے گر جائیں گے

 

قدرت کی نعمتیں کبھی ہر انسان کو مفت دستیاب تھیں مگر اب تو ہر چیز بکنے لگی ہے۔ کھانے کی اشیاءڈبوں میں بند کر کے مہنگے داموں بیچنے کا رواج تو نجانے کب سے چل رہا ہے، مگر پھر پینے کا پانی بھی بوتلوں میں بند کر کے بیچا جانے لگا۔ اور اب تو یہ بات اتنی آگے بڑھ گئی ہے کہ آپ کے لئے یقین کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ جی ہاں، اب سانس لینے کے لئے ہوا بھی بیچی جا رہی ہے، اور وہ بھی اتنی مہنگی کے سُن کر کسی کی سانس رُک بھی سکتی ہے۔

نیوزی لینڈ کے دارالحکومت آکلینڈ کے ایئرپورٹ کی ڈیوٹی فری شاپ پر تازہ ہوا بوتلوں میں بند کرکے فروخت کی جارہی ہے، جس کی قیمت 21 ڈالر یعنی اڑھائی ہزار پاکستانی روپے رکھی گئی ہے۔نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق اس کین میں موجود تازہ ہوا نیوزی لینڈ کی اونچی اور سرسبز پہاڑیوں سے محفوظ کی گئی ہے، جس کا اہم مقصد صحت کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنا ہے۔

تازہ ہوا کی بوتل کیویانا کمپنی ’پیور فریش نیوزی لینڈ ایئر‘ کے نام سے فروخت کر رہی ہے، جس کا بچت پیک بھی دستیاب ہے، جس میں چار بوتلیں شامل ہیں۔ تازہ ہوا کی بوتل کے ساتھ منہ پر چڑھانے والا ڈھکن بھی فراہم کیا گیا ہے جس کی مدد سے بوتل میں موجود ہوا سانس کے ذریعے جسم میں کھینچی جا سکے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آپ تازہ ہوا کی بوتل کو اپنے ساتھ کہیں بھی لے جا سکتے ہیں، یعنی دفتر میں، بس میں سفر کے دوران، یا ہوائی سفر میں، جہاں ضرورت محسوس کریں بوتل منہ سے لگائیں اور خالص ہوا کا کش لگا کر تازہ دم ہو جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں