خواتین کی ذمہ داریاں


ایک وقت تھا جب خواتین کا علی الصبح مولوی کی اذانِ فجر سے پہلے جاگنا معمول تھا۔ لسی رڑکنا۔ بھینسوں کا دودھ نکالنا۔ کھیتوں میں کام کرتے گھر کے مردوں کے لیے بھتہ یعنی دوپہر کا کھانا لے کر جانا۔ کھیتی باڑی میں مردوں کا ہاتھ بٹانا۔ کھیتوں سے گھر واپس آکر جھاڑو لگانا برتن مانجھنا کسی نہر کھال یا چھپڑ پہ جا کر کپڑے دھونا پالتو جانوروں کو چارا ڈالنا انھیں دھوپ چھاؤں میں کرناپانی پلانا ان تمام ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر پھر گاؤں کی تمام بوڑھی جوان عورتیں ہر گاؤں کے چوک میں ایک پرانا نیم برگت یا پیپل کا درخت ہوتا اس درخت کے نیچے جمع ہوجایا کرتیں اور تمام دوپہر ہاتھ سے اون کے سویٹر بننا۔ ناڑے پراندے بنانا۔ تکیوں پہ پھول کناریاں بنانا اپنے جہیز کے لیے بستر چادریں اور دیگر سامان بنانا جوان لڑکیوں کی مصروفیت ہوا کرتی تھی۔ جبکہ بوڑھی عورتیں جوان لڑکیوں کو اپنی جوانی کے قصے سناتیں۔

دادیاں نانیاں پوروں کی سویاں بناتی آم لسہوڑوں کا اچار ڈالنے کے ساگ پکانے کے طریقے بتاتیں یا ایک دوسری کی جوئیں نکالا کرتی تھیں۔ گارے مٹی کے بنے مکانات کی لپائی کرنا بھی انتہائی اہم فریضہ تھا جو عورتوں کے ذمے ہوتا۔ پھر جرائم پیشہ مرد نے عورت کو بطور ہتھیار استمعال کرنا شروع کیا۔ منشیات فروشی سے لے کر بچوں کی اغواہ کاری تک ہر غیر اخلاقی اور مجرمانہ سرگرمی میں عورت کو ملوث کر دیا گیا۔ مرد اس معاملے میں بہت مکار ہے ایک انتہائی نازک جنس کو معاشرے کی خوبصورت ترین معصوم اور بھولی بھالی مخلوق کو گناہ کے راستے پہ ڈال دینا مرد کا ہی کام ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاشرہ بہت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ہر چڑھتا سورج مرد و زن کو جدید سے جدید ٹیکنالو جیز سے روشناس کروا رہا ہے۔ خاص کر الیکٹرونکس کی دنیا میں سائنس نے انسان کو حیران کن ایجادات کی مقابلے کی دوڑ میں ایسی ڈگر پہ ڈال دیا ہے کہ ہر انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے بہت آگے نکل جانا چاہتا ہے۔ ہر میدان میں مردوں کا تن دہی سے مقابلہ کرتی خواتین اس دوڑ میں بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ اب خواتین صرف مسافر بردار جہازوں میں کھانے چائے مشروبات پیش کرنے تک محدود نہیں رہیں یا سویٹر ناڑے پراندے بنانے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اب تو خواتین فضاؤں کے دوش پر لڑاکا طیارے اڑانے میں پیش پیش ہیں۔

مرد کے عشق میں کچے گھڑے پہ سواری کر جانے والی مخلوق آج نہ صرف پائلٹ ڈاکٹر انجینئر فوج پولیس ہے بلکہ اغواہ کار۔ ڈاکو منشیات فروش۔ اور بلیک میلر بھی ہے۔ پاکستان کےمتعدد اضلاع اور یونٹس میں خواتین برابری کی بنیاد پر انتہائی اہم اور حساس معاملات سے نبرد آزما ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان کے شہداء کی فہرست میں عورت کا نام شامل ہونا اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ ہماری خواتین کسی بھی شعبے میں مردوں سے کم یا پیچھے نہیں کھیل کا میدان ہو یا تعلیمی میدان پولیس ہو یا فوج میڈیکل کی دنیا ہو یا انجینرنگ کی ہر میدان میں خواتین نے اپنا لوہا نہ صرف منوایا ہے بلکہ بہت سارے میدان ایسے ہیں جہاں عورت مرد کو بہت پیچھے چھوڑ گئی ہے۔

آج کے دور کی دادیاں نانیاں بھی مختلف ٹی وی پروگرامز میں نا صرف عقل و دانش کی باتیں سکھا رہی ہوتی ہیں بلکہ گھریلو زندگی گزارنے اور کھانے پکانے کے طریقے بتا نے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ بہت سی خواتین نے گھریلوٹوٹکوں کی کتابیں تک چھپوا رکھی ہیں۔ بے شک ان کتابوں کے متعدد سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں بہرحال یہ کتابیں مارکیٹس میں دکانوں کی زینت ضرور ہیں۔ بہت ساری سگھڑ کہلوانے والی خواتین نے فیس بک اور وٹس ایپ پہ گروپس بنا رکھے ہیں جن میں ہر وقت مختلف گھریلو اور خواتین کے مسائل زیر بحث رہتے ہیں۔ بلا شعبہ خواتین کی ہر شعبہ زندگی میں ترقی خوش آئین ہے۔

ایک وقت تھا جب کسی عورت کو کوئی مرد یہ جتانے کے لیے کہ آپ بہت خوبصورت ہو کسی ایسے انداز سے دیکھتا یا کوئی غیر مہذب جملہ کہہ دیتا تو وہ عورت شرم سے نظریں جھکا لیتی آنچل میں چہرہ چھپا لیتی مگر بدقسمتی سے آج کچھ آزاد خیال خواتین اس حد تک ترقی کر گئی ہیں کہ وہ ہاتھ میں بینرز اورکتبے اٹھائے احتجاج کرتی نظر آتی ہیں جن پہ صاف لکھا تھا میرا جسم میری مرضی۔ اب ان خدا کی بندیوں کو کون بتائے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قران پاک میں صاف صاف فرما دیا۔ اللہ مردوں سے مخاطب ہے کہ تمھاری بیویاں تمھاری کھیتی ہیں۔ بہر حال یہ الگ موضوع ہے اس پہ پھر کبھی بات ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں