خاتونِ اول اور وزیراعظم کے تین پھٹے پرانے سوٹ


چند روز پہلے بشریٰ بی بی کا پہلا انٹرویو منظر عام پر آیا جس میں عوام کو پہلی بار موقع ملا کہ اخبارات ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا کی بجائے وہ خود خاتونِ اوّل کی زبانی ان کے بارے میں جانیں۔ ان سے ان تمام باتوں کی تصدیق یا تردید سنیں جو ان کے عمران خان کی زوجیت میں آنے سے اب تک ہر طرح کے میڈیا سے منظرِ عام پر آتی رہی ہیں اور یہ بھی کہ اپنی زندگی کی اتنی بڑی تبدیلی کو وہ کیسے دیکھتی ہیں اور اس حوالے سے ان کے کیا خیالات ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہ اب جبکہ وہ ایک مشہور و معروف کرکٹر اور سیاستدان کی زوجہ ہونے کے ساتھ ساتھ خاتونِ اوّل کے منصب پر بھی فائز ہو چکی ہیں تو اب آئندہ کے لیے ان کی کیا پلاننگز ہیں کیا سوچ ہے کہ انہوں نے کیسے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کام کرنا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی عقائد و عبادات اور ان کی گھریلو زندگی کے کیا معمولات ہیں۔

لیکن ان کا پورے انٹرویو میں ان چند باتوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا کہ میری پہچان، پردہ مذہب کا حکم، سوکھتے پودوں کو دیکھ کر خان صاحب کا دکھی ہو جا اور دیر تک بارش کی دعا، موٹو اور اس آنسو، خان صاحب کے نوافل کا ذکر اور میزبان کے دوبارہ نماز کا سوال کرنے پہ ایک دم ان کا کنفیوز ہو جانا۔

رات بھر کتابیں اور پڑھنا اور دیگر مصروفیات اور پھر صبح چھ بجے سونا اور بارہ بجے جاگنا۔ اس کا مطلب ہوا کہ ان کے فلاحی کاموں کا دورانیہ نماز ظہر کے بعد سے وقتِ عصر تک ہو گا جس میں یہ کسی یتیم خانے یا جیل خانے کی یاترا کر آتی ہیں اور کسی نہ کسی کے آنسو دیکھ آتی اور وہ چہرے ان کو مصلے پہ بیٹھ کے یاد آتے ہیں۔

ہمارے ہاں تو سوشل میڈیا پہ پہلے سے ہی یہ حالات ہیں کہ کسی بھی بات کو کچّی لسّی کی طرح بڑھایا جاتا ہے جبکہ خاتونِ اوّل نے خود اپنے اندازِ گفتگو سے سب کو مذاق اڑانے کا موقع دیا۔ ان کے انٹرویو میں ان سے جو بات چیت ہوئی وہ بالکل ایسی ہی تھی جیسے کسی بھی کم پڑھی لکھی نوبیاہتا ناری کی بات چیت جس میں شوہر کی لایعنی قصیدہ خوانی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ہم اگر تحریکِ پاکستان میں شریک محترمہ فاطمہ جناح کے کردار اور دیگر خواتین کے فہم و فراست کا جائزہ لیتے ہوئے بینظیر، ناصرہ جاوید اقبال، عاصمہ جہانگیر سے ہوتے ہوئے حالیہ الیکشن میں آصفہ بھٹو کے کردار کو جانچ لیں تو ان میں شاید ہی ایک بھی مثال ایسی ملے کہ جسے بشریٰ بی بی سے مماثل کہا جا سکے۔

پاکستان بننے سے اب تک سیاسی حوالے سے نمایاں مقام پر فائز خواتین کے بات چیت کے انداز اور انٹرویوز کا جائزہ لیا جائے اور ان کا موازنہ بشریٰ بی بی کے انٹرویو سے کیا جائے تو فرق ظاہر ہوتا ہے۔ اس پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دیگر مذکورہ خواتین کا تعلق سیاسی گھرانوں سے تھا اور ان کی تربیت شروع سے اسی نہج پر ہوتی آئی جو اس فرق کی وجہ ہے۔ اس صورت میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ انہیں آخر انٹرویو دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اول تو انہیں انٹرویو دینا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی اور اگر انہوں نے خود سامنے آ کر اپنا موقف بیان کرنے اور لوگوں کی باتوں کی تصدیق و تردید کا فیصلہ کیا ہی تھا تو انہیں باقاعدہ تیاری کے ساتھ انٹرویو دینا چاہیے تھا۔ کیونکہ ان کے انٹرویو کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے انہیں انداز نشست سے لے کر الفاظ کے چناؤ تک ہر ہر پہلو سے تربیت کی ضرورت ہے۔

خان صاحب کا شکن آلود لباس پہننا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پہ فخر کیا جائے نہ ہی ان کی الماری میں تین پھٹے پرانے سوٹوں کا ہونا کوئی ایسی بات ہے جس سے ان کے بارے میں کوئی شاندار خیال ذہن میں آئے۔

صاف ستھرا بے شکن لباس تو ایک عام انسان کو بھی پہننا چاہیے اور وہ تو خوش قسمتی سے ملک کے حکمران بن چکے ہیں۔ ایسے رویے میرے خیال میں ان کے بارے میں منفی تاثر ہی قائم کر سکتے ہیں لیکن ان کی شہرت میں کوئی مثبت اضافہ نہیں کرنے والے۔ جبکہ خاتونِ اوّل کے انٹرویو میں سب سے زیادہ تفصیلی بات اسی موضوع پر ہوئی۔ ہمارے نظریات و افکار ہمارے الفاظ کا چناؤ، اہم اور غیر اہم موضوعات کی ترتیب و تمیز، ہماری زبان ہمارے لہجے ہمارے الفاظ ہماری نشست و برخاست تک ہمارے منصب کی گواہی دیتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس کے اہل ہیں یا نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں