ناقابلِ اشاعت کالم: بابا راولپنڈی سرکار بتائیں کہ یہ کرامت ہے یا حماقت


بدنام زمانہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ایک معزز جج نے تشویشناک انداز میں کہا :”ہمارے لئے نیب وفات پاگیا‘‘سب کو فکرلاحق ہو گئی کہ اب کیا ہوگا؟ نیب کے جسد خاکی کی تجہیزو تکفین کیسے ہوگی؟ سیاسی جماعتوں کا خیال تھا شاید وہ اپنے اس ازلی دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو ہر دور میں بھوت پریت کی طرح ان کا پیچھا کرتا رہا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ مارنے والوں سے بچانے والے کہیں زیادہ طاقتور اور با اثر ہیں۔ ”بابا راولپنڈی سرکار‘‘کی حیرت انگیز کرامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نئی زندگی عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ نگوڑے سیاستدان تو ضیاء دور کی کوکھ سے جنم لینے والے محتسب اعلیٰ نامی بچے کو آج تک گود لئے پھرتے ہیں اور لاتعلقی کا اعلان نہیں کرپائے تو نیب سے چھٹکارا کیسے حاصل ہو۔

بہرکیف، جب نیب کی آخری رسومات اداکرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں تو نیا جنم دینے والوں نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو چیئرمین نیب بنوا کر اس مُردے میں نئی روح پھونک دی۔ اس کے بعد یہ مُردہ ایسا زندہ ہوا کہ پی آئی اے کے طیارے پر کیکی چیلنج کے نام پر رقص کرنے والی غیر ملکی لڑکی کی چھچھوری حرکت کا بھی نوٹس لے لیا گیا تو شہبازشریف کو کیسے بخش دیا جاتا؟ ِ فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان کی طرح مجھے بھی یقین ہے کہ نیب کا ادارہ سیاسی و غیر سیاسی مداخلت اور دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے اور شہبازشریف کی گرفتاری کا ضمنی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن قانونی معاملات میں کم علمی کے باعث چند سوالات فاسدانہ خیالات کا سبب بن رہے ہیں، ازراہ تلطف، ان کا شافی جواب آجائے تو سب ابہام دور ہو جائیں۔

نیب قوانین کی رو سے جب کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو ابتدائی طور پر الزامات کا سرسری جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا بیان کیے گئے حقائق درست ہیں؟ تحقیق اورتصدیق کے بعد تفتیش کا عمل شروع ہوتا ہے اور جب کسی کے خلاف ثبوت جمع ہو جاتے ہیں تو پھر ریفرنس فائل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرچند ہفتے قبل وزیراعظم کے مشیر بابراعوان کے خلاف ریفرنس دائر ہوا تو انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ اگر کوئی شخص تحقیق، تصدیق یا تفتیش کے دوران تعاون کر رہا ہو تو اسے گرفتار نہیں کیا جاتا۔

مثال کے طور پر راجہ پرویز اشرف، عبدالعلیم خان سمیت کئی اہم شخصیات کو حراست میں نہیں لیا گیا۔ بابراعوان کے خلاف تو ریفرنس بھی دائر ہوگیا مگر انہیں تحویل میں نہیں لیا گیا تو پھر اچانک شہبازشریف کو حراست میں لینے کی کیا ضرورت آن پڑی؟ جن الزامات پر شہبازشریف کو گرفتار کیا گیا اسی سلسلے میں دو سرکاری افسرکئی ماہ سے نیب کی تحویل میں ہیں۔ احد چیمہ 24 فروری کو گرفتار ہوئے جبکہ فواد حسن فواد کو 25 جولائی کو تحویل میں لیا گیا۔ آٹھ ماہ کے دوران تمام تر ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود شہبازشریف کی کرپشن کے ثبوت اکھٹے کرکے اس معاملے کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچایا جا سکا؟

اگر مناسب سمجھیں تو یہ بھی بتا دیں کہ آشیانہ محض گرفتاری کا بہانہ نہیں تو اس سیکنڈل میں قومی خزانے کو کتنے ارب کا نقصان پہنچایا گیا؟ کہانی کچھ یوں ہے کہ آشیانہ قائد کی کامیابی کے بعد پنجاب حکومت نے آشیانہ اقبال کے نام سے کم لاگت کے اپارٹمنٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی بنائی گئی اور 2012ء میں تقریباً 3100 کنال اراضی اس کے حوالے کی گئی۔

پی ایل ڈی سی نے لینڈ ڈویلپمنٹ کی غرض سے ایم ایس کالسن (چوہدری عامر لطیف اینڈ سنز) کو 1.5 ارب روپے میں ٹھیکہ دیا۔ اپارٹمنٹ بنانے کا ٹھیکہ لینے کے لئے بھی یہی کمپنی کوشاں تھی کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کو بے ضابطگیوں کی اطلاع موصول ہوئی جس پر یہ منصوبہ پی ایل ڈی سی سے لے کر ایل ڈی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ اس وقت احد چیمہ ڈی جی ایل ڈی اے تھے جبکہ فواد حسن فواد سیکریڑی ٹو سی ایم تھے۔

منصوبے پر سرکاری خزانے سے پیسہ خرچ کرنے کے بجائے اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ تین کمپنیوں نے جوائنٹ وینچر کے طور پر یہ ٹھیکہ لے لیا۔ ان کمپنیوں میں سپارکو کنسٹرکشن، چینی فرم انوہی اور بسم اللہ انجینئرنگ شامل تھیں۔ بسم اللہ انجینئرنگ کے مالکان ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ڈائریکٹرز ہیں جو سابق وزیر خواجہ سعد رفیق کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس ٹھیکے کی شفافیت پر سوالات اٹھے اور یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ معاہدے کے مطابق 1000 کنال اراضی پر ان کمپنیوں نے 6700اپارٹمنٹ تعمیر کرنے تھے اور اس کے عوض انہیں 2000 کنال زمین بطور معاوضہ دی جاتی۔ اس وقت 2000 کنال زمین کی مالیت کا تخمینہ 2.5 ارب روپے لگایا گیا جبکہ جو اپارٹمنٹ تعمیر کیے جانے تھے ان پر کم وبیش 15ارب روپے خرچ ہونا تھے۔

شور مچ گیا کہ سعد رفیق کے فرنٹ مین نے سرکاری زمین کے پلاٹ بنا کر بیچ دیے مگر اپارٹمنٹ نہیں بنائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تادم تحریر یہ ساری زمین پنجاب حکومت کی تحویل میں ہے اور ایک مرلہ بھی کسی کو نہیں دی گئی۔ یہاں ملین ڈالر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سرکاری خزانے سے ایک دھیلہ خرچ نہیں ہوا، زمین کسی کو دی ہی نہیں گئی، منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا تو پھر 15ارب کی کرپشن کیسے ہوگئی؟ بظاہر یوں لگتا ہے نیب کے ”ہیروں ‘‘ نے اس منصوبے کی لاگت کو ہی کرپشن کا رنگ دے کر ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔ اگر یہ سب غلط تھا تو ان منصوبوں کے روح رواں اور شہبازشریف کے کارِ خاص جہانزیب خان کو چیئرمین ایف بی آرکیوں لگایا گیا؟ جبکہ آشیانہ اور پھر اورنج لائن منصوبے میں بلیک لسٹ ہونے والی کمپنی کو پشاور ریپڈ بس منصوبے کا ٹھیکہ کیوں دیا گیا؟

حکومتی ترجمان ان سوالات کے جوابات بیشک نہ دیں مگر اپنے پہنچے ہوئے بابا جی ”راولپنڈی سرکار‘‘ سے پوچھ کر یہ تو بتائیں کہ نیب تحریک انصاف کا دوست ہے یا دشمن؟ سیانے کہتے ہیں بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن بھلا۔ کل تک مسلم لیگ (ن) شہبازاور نواز کیمپ میں تقسیم تھی مگر اب نواز اور شہبازکو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا گیا ہے۔ نوازشریف اور مریم نواز تمام تر کوشش کے باوجودجو مزاحمتی بیانیہ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو نہ سمجھا پائے وہ نیب نے ایک ہی واردات میں سمجھا دیا۔ اسے ”بابا راولپنڈی سرکار‘‘ کی کرامت سمجھا جائے یا حماقت؟
نوٹ: یہ غیر مطبوعہ کالم ہے جو سنسرشپ کے باعث شائع نہیں ہوسکا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں