جیو کے ایناکونڈا پروڈیوسر اور دیگر ساتھی


انچولی کے بارے میں سنانے کو بہت کچھ ہے لیکن یہاں ذرا ٹھہر کے جیونیوز کے کچھ دوستوں کے نام یاد کرلیں۔ اتفاق سے جیو میں انچولی کے کئی نوجوان کام کرتے ہیں۔ انھوں نے نام رکھنے کا سلسلہ وہاں جاری رکھا اور دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی کی۔

مثلاً نسیم حیدر جیونیوز کے پروڈیوسر ہیں۔ ساری زندگی انچولی میں گزری لیکن کسی نے ان کی اس عادت پر دھیان نہیں دیا کہ وہ گوشت نہیں کھاتے۔ جیو والوں نے انھیں شاکاہاری قرار دے دیا۔ وہ نسیم شاکا کہلاتے ہیں۔ ان کے بھائی عاصم اعجاز بھی صحافی ہیں۔ جیو اور سما میں کام کرچکے ہیں۔ انچولی کے دوست شباہت حسین نے ان کی فلسفیانہ گفتگو سن کر ان کا نام ارسطو رکھا تھا۔ وہ اس قدر کھوئے کھوئے رہتے ہیں کہ انھیں خود بھی اپنے اس نام کا علم نہیں ہوگا۔

مجھے 2004 میں دبئی اسٹیشن بھیجا گیا تو ابتدا میں میرا کام ریکارڈڈ خبریں کمپیوٹر سرور سے نشر کرنا تھا۔ کمپیوٹر سرور جس کمرے میں رکھا جاتا ہے، اسے ماسٹر کنٹرول روم یا ایم سی آر کہتے ہیں۔ وہاں ٹرانس مشن افسر اور انجینئر بیٹھتے ہیں۔ پہلے دن میرے ساتھی ٹرانس مشن افسر عامر بالی تھے۔ کان میں بالی پہنتے تھے۔ بہت مزے کے آدمی تھے۔ سوکھے منہ سے مذاق کرتے اور ہم لوٹ پوٹ ہوجاتے۔

پہلے دن شفٹ تبدیل ہوئی تو ایک سینئر پروڈیوسر بھاگتے ہوئے آئے۔ جلدی سے مجھے کچھ ہدایات دیں۔ دوڑتے ہوئے چلے گئے۔ چند منٹ بعد پھر بھاگتے ہوئے آئے۔ پرانی ہدایات منسوخ کیں، نئے احکامات دیے۔ دوڑتے ہوئے چلے گئے۔ عامر بالی نے کہا، بالکل پریشان مت ہونا۔ سکون سے کام کرنا۔ ان پر دھیان مت دینا۔ عام لوگوں کے چھوٹا موٹا کیڑا ہوتا ہے۔ ان صاحب کے وجود میں ایناکونڈا ہے۔ اس دن کے بعد سب لوگ ان سینئر پروڈیوسر کو ایناکونڈا کہنے لگے۔

ایک سینئر پروڈیوسر دھیمے مزاج کے تھے۔ بریکنگ نیوز کا ہنگامہ مچتا لیکن وہ پرسکون رہتے۔ اسے خوبی سمجھنا چاہیے لیکن یاروں نے ان کا نام سُن رکھ دیا۔ یہ نام اس قدر مشہور ہوا کہ ڈائریکٹر نیوز بھی کراچی سے کال کرتے تو کہتے، سُن سے بات کرواؤ۔

ہم سب کو دبئی کا مستقل ویزا ملا تو گاڑی خریدنے کی جستجو ہوئی۔ لیکن وہاں ڈرائیونگ لائسنس لینا آسان نہیں۔ انسپکٹر بار بار فیل کردیتے ہیں اور پھر کم از کم چھ کلاسیں لینا پڑتی ہیں۔ ڈرائیونگ اسکول پیسے بناتے ہیں۔ مجھے امریکا میں پہلے ٹیسٹ میں لائسنس مل گیا لیکن دبئی میں چار ٹیسٹ کے بعد بھی نہیں مل سکا۔ آئی ٹی انچارج خاور کو سات اور نسیم شاکا کو نو بار ٹیسٹ دینے کے بعد لائسنس ملا۔ کسی کا مذاق نہیں بنا لیکن سُن صاحب فیل ہوئے تو پورا دبئی ”پپو فیل ہوگیا‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ دوسری ٹرائی میں انھیں لائسنس ملا تو ایک بار پھر ”پپو پاس ہوگیا‘‘ کے ڈنکے بجے۔ اس طرح کے نام میرا دوست زاہد مظہر رکھتا تھا جو اب ڈان ٹی وی کا ڈائریکٹر نیوز ہے۔

جیو دبئی میں ایک ویڈیو ایڈیٹر نصراللہ تھے لیکن ان کا پیار کا نام بابو تھا۔ جیو میں ان کا پورا نام یوں لیا جاتا تھا، بابو راؤ گنپت راؤ آپتے۔ اگر آپ نے فلم ہیراپھیری دیکھی ہے تو جانتے ہوں گے کہ یہ پاریش راول کے کردار کا نام تھا۔ بابو بھائی کو ان کے قریبی دوست شمس کراچی میں بھی گنپت کہتے ہیں۔ بابو بھائی نے انتقاماً شمس بھائی کو پنڈت کہنا شروع کردیا۔

جیونیوز کا ایک دوست درمیانی قامت لیکن چوڑی ہڈی کا تھا۔ بابو بھائی اسے ڈکی کہتے تھے۔ ایک فی میل اینکر جسمانی خوبصورتی سے محروم تھیں لیکن توجہ پانے کے لیے ایڑی چوٹی اور پتا نہیں کہاں کہاں کا زور لگاتی تھیں۔ ہم ٹی وی کے ڈائریکٹر اور ہمارے چلبلے دوست ندیم رضا نے ان کا نام وہم رکھ دیا۔ یعنی خوبصورتی کے وہم میں مبتلا۔ ایک آڈٰیو انجینئر کی خدمات کے اعتراف میں سب اسے عمران آڈٰیو کہتے ہیں۔ عمران کی آواز اس قدر شاندار ہے اور وہ پنجابی فلموں کی ہیروئنوں کی طرح ایسا غیر معمولی رقص کرتا ہے کہ اگر بولی ووڈ چلا جائے تو بڑے بڑے پروڈیوسر اس کے عاشق ہوجائیں۔

عمران آڈیو سے میری بے تکلفی تھی۔ وہ مجھ پر جملہ کستا، بچے کی شکل والے بڈھے! میں جواب میں کہتا، مرد کی شکل والی عورت! عمران کا شناختی کارڈ ایکسپائر ہوا تو اس نے نیا فارم جمع کروایا۔ کارڈ بن کر آیا تو اس میں غلطی تھی۔ عمران شکایت کرنے میرے پاس آیا کہ دیکھو، نادرا نے کیا حرکت کی ہے۔ میں نے دیکھا، عمران کے شناختی کارڈ پر لکھا تھا، جنس: عورت

جیونیوز میں نائن پی ایم بلیٹن کی ٹیم مزے دار کیریکٹرز سے بھری ہوئی ہے۔ ایک پروڈیوسر کا نام عارف شاہ ہے۔ وہ بہت ذہین آدمی ہیں اور مطالعے کے شوقین۔ آپ کوئی بات کریں، وہ پورا پس منظر اور تفصیلات بیان کردیں گے۔ آپ کے منہ سے نکل جائے، داؤد کے بارے میں جانتے ہیں؟ وہ حضرت داؤد سے شروع کریں گے اور داؤد ابراہیم تک تمام نام گنوادیں گے۔ کون سا داؤد کہاں پیدا ہوا، وجہ شہرت کیا ہے، کون کون سے پیشے اختیار کیے، کتنی شادیاں کیں، کتنے بیٹے ہوئے، ان کی ختنہ کون کون سی تاریخ کو ہوئی۔ دوستوں نے تنگ آکر عارف شاہ کا نام گوگل شاہ رکھ دیا۔

میرے ایک لاڈلے پروڈیوسر کا نام اسد عباس ہے۔ اس سے پوچھیں، خبر بنادی؟ وہ کہے گا، جی ہاں تقریباً بنادی ہے۔ مطلب ابھی نہیں بنائی۔ آپ پوچھیں کہ ویڈیو ایڈٰٹ ہوگئی؟ وہ کہے گا، جی ہاں، تقریباً ایڈٹ ہوگئی ہے۔ یعنی ابھی ایڈٹ نہیں ہوئی۔ وہ اکثر تاخیر سے دفتر پہنچتا تھا۔ میں کال کرتا تو وہ کہتا، تقریباً پہنچ گیا ہوں۔ یعنی ابھی نہیں پہنچا۔ ظالموں نے اس کا نام تقریباً رکھ دیا۔
گزشتہ دنوں میں نے اسے فون کرکے پوچھا، اسد! شادی ہوئی یا نہیں؟ اس نے کہا، جی ہاں، تقریباً ہوگئی ہے۔

جیو لاہور کے ظفر ملک بے حد ہنس مکھ شخصیت ہیں۔ وہ دوسروں کی مبالغے کی حد تک تعریف کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ خوشامد کررہے ہیں حالانکہ قطعی بے غرض آدمی ہیں۔ ان کا انداز یہ ہوتا ہے کہ مبشر صاحب! آپ نے شدید پیاری کہانی لکھی ہے۔ اسد صاحب! آپ نے شدید پیاری رپورٹ بنائی ہے۔ لوگوں نے انھیں شدید پیارے ملک صاحب کہنا شروع کردیا۔

ایک دن جیو دبئی کے دفتر میں انکشاف ہوا کہ ملک صاحب کی آواز بہت اچھی ہے اور وہ گانا گاتے ہیں۔ چنانچہ ایک شام ملک صاحب کے نام منانے کا اہتمام کیا گیا۔ ان سے گانا سنا گیا۔ نیو ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز محمد عثمان ان دنوں جیو دبئی میں ہمارے سینئر تھے۔ انھوں نے گانا سن کر کہا، واہ ملک صاحب! بہت اچھا گایا۔ ملک صاحب نے حسب عادت کہا، عثمان صاحب! واہ، کیا تعریف کی ہے آپ نے۔ شدید پیارا انداز ہے آپ کا تعریف کرنے کا۔

جیونیوز میں ہمارا ایک دوست عاطف اعوان ہے۔ اسے پنجابی زبان سے عشق ہے۔ کوئی انگریزی میں بات کرے یا اردو میں، وہ پنجابی میں جواب دیتا ہے۔ اس کی ٹھیٹھ پنجابی سن کر لوگوں نے اس کا نام محمد بوٹا رکھ دیا۔ ایک دن میں سرور پر کام کررہا تھا کہ سینئر پروڈیوسر نے دوسرے کمرے سے آواز لگائی، بوٹے! میں نے بتایا کہ بوٹا نہیں ہے۔ سینئر پروڈیوسر نے دریافت کیا، پھر کون ہے؟ میں نے جواب دیا، بوٹا نہیں ہے، برگد کا درخت ہے۔

جیو دبئی میں ایک بار کراچی سے ایک لڑکا عابد پہلی بار آیا۔ پروڈیوسر نے اسے ہیڈلائنز کا پرنٹ دے کر بھیجا کہ جلدی سے اینکر کو دے آؤ۔ ہیڈلائنز میں ایک منٹ رہ گیا تھا۔ عابد پرنٹ لے کر تیزی سے بھاگا تو اندازہ نہیں کرسکا کہ اسٹوڈیو کا دروازہ شفاف شیشے کا ہے۔ وہ زور سے ٹکرایا اور شیشے کا دروازہ دھماکے سے ٹوٹ گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، پورا جیو عابد رضا کو عابد شیشہ ہی کہتا ہے۔
میں نے اس واقعے کے بعد فی میل اینکرز سے کہا، دیکھا اس لڑکے کا حال؟ ہماری قدر کیا کریں کہ آپ کے بے پناہ حسن کی تاب لے آتے ہیں اور ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 147 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi