اپنے بزرگوں کو بوجھ سمجھنے والے


ہمارے معاشرے میں ’اولڈ ہومز‘ کا تناسب اس رفتار سے نہیں بڑھا جیسا کہ یورپین ممالک میں ہے۔ وہاں کچھ مخصوص دنوں کو اپنے خونی رشتوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ کیونکہ ان ترقی یافتہ ممالک میں بوڑھے شخص کی دیکھ بھال کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ وہاں پر بزرگ جو معاشرے کا ناکارہ حصہ سمجھے جاتے ہیں، ان کو ’ اولڈ ہومز‘ میں بھجوا دیا جاتا ہے۔ آج کا انسان بڑا بے حس ہو چکا ہے۔

خطرہ ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کو بھی ایسی کسی صورتحال سے دو چار نہ ہونا پڑے، افسوس صد افسوس یہاں سوچنے کا پہلو یہ ہے کہ ایسے ’اولڈ ہومز‘ کی ضرورت پیش ہی کیوں آئی؟ کیا گھرانے چھوٹے پڑ گئے ہیں کہ ان میں ایک عدد کمرہ بھی والدین کے لیے مختص نہیں کیا جا سکتا؟ دراصل گھروں میں نہیں دلوں میں جگہ کی کمی ہو گئی ہے!

ماں باپ کو بوجھ سمجھنے والے دنیا و آخرت میں کس طرح بچ سکتے ہیں؟ اسلام ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ والدین کے حقوق کو لازماً پورا کیا جائے کیونکہ خدا اپنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے مگر اپنے بندوں کے حقوق نہیں معاف کرتا جب تک بندہ خود نہ معاف کر دے!

والدین جو ساری زندگی اپنی اولاد کے سکھ کی خاطر اپنی خوشیاں تج دیتے ہیں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر ان کی تمناؤں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیتے، وہ اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے جو بچپن میں ان کے کندھوں پر بیٹھ کر دنیا دیکھتی تھی۔ وہ اولاد اپنے ماں باپ کو بے سہارا کر دیتی ہے جو روزِاوّل سے ان کے سہارے کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتی تھی! آج کل تو اولاد کی نافرمانی کی اور والدین کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے کی ایسی ایسی روح فرسا خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ کہیں جائیداد کے تنازعے میں بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا تو کہیں بیوہ ماں کو سابقہ شوہر کی جائیداد سے دستبردار کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔ کہیں اولاد نے والدین کو بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا اور کہیں بزرگوں کو زہر ملا کھانا کھلا کر اپنی جان چھڑوالی! تف ہے ایسی انسانیت پر اور ایسی اولاد پر۔ جو دنیاوی رنگینیوں میں کھو کر اپنے اخلاق سے گر چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اولاد پر والدین کے احسانات کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے اور پھر اولاد کو اس امر کی ہدایت کی ہے کہ ماں باپ کا حقِ خدمت ادا کیا جائے۔ جہاں تک ہو سکے ان کے ساتھ بھلائی اور نیکی کا سلوک کیا جائے۔ ان کے لیےاپنا مال خرچ کیا جائے، عجزوانکساری کا اظہار کیا جائے۔ بزرگ والدین کے ساتھ کبھی تنگی ترشی سے بات نہ کی جائے اور نہ انہیں جھڑکا جائے۔ کیونکہ بزرگ کسی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ساری زندگی کا تجربہ ہوتا ہے جو انسان کتابیں کھنگال کر یا علم حاصل کر کے بھی نہیں لے سکتا۔ ان کا سایہ شفقت زمانے کی دھوپ سے بچنے کاواحد ذریعہ ہے۔ یہ جس محدب شیشے سے زمانے کو پرکھنے والی نگاہ رکھتے ہیں وہ ایک عمر گزارنے کے بعد ہی مل سکتی ہے۔ بزرگوں کی دعاؤں میں بڑا اثرہوتا ہے۔ آزما کر دیکھ لیں! سچے دل سے نکلی ہوئی ہر دعا شرفِ قبولیت ہی پاتی ہے۔ ایسے میں مخلوقِ خدا کی خدمت کے صلے میں ملی ہوئی دعا زیادہ طاقتور ہوتی ہے!

یاد رکھیے یہ دنیا ایک مکافاتِ عمل ہے۔ جو آج آپ اپنے بزرگوں کے ساتھ کریں گے، کل کو وہی سلوک آپ کی اولاد روا رکھے گی! اپنے سےبڑوں کا خیال رکھیں، ان کی ہر ضرورت کو بر وقت پورا کریں۔ صرف دنیا دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے! اللہ پاک ہمیں بزرگوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے۔ (آمین)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں