خواہشات کے خریدار


سوٹزرلینڈ میں ایک پراپرٹی ایجنٹ نے رہائشی ولا اپنے عرب شیخ گاہک کے لیے خریدا تو شیخ نے بغیر مکان دیکھے اس کی قیمت آٹھ ملین سوئس فرانک اس کو ادا کر دیے۔ ایجنٹ کو معلوم تھا کہ شیخ نے یہ سرمایہ کاری کی ہے اور جب بھی اس کو معقول منافع ملا وہ فروخت کر دے گا۔ کچھ عرصہ بعد ایجنٹ نے شیخ کو بتایا کہ اس کے مکان کا گاہک لگ گیا ہے جو 74 ملین میں اس کا مکان خریدنے پر راضی ہے، وہ گاہک روسی ریاستوں میں سے ایک سابقہ صدر کی بیٹی تھی۔ ایجنٹ کا کہنا تھا کہ اس کے پاس جو خریدار آتے ہیں ان کو اصل قیمت کے آگے مزید ایک صفر لگانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ خواہشات کے خریدار ہوتے ہیں۔

خواہشات کے خریدار پاکستان میں بہت ہیں، اسلام آباد کی ایک ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک مکان برائے فروخت تھا۔ ایک آدمی آیا۔ مکان کو اندر باہر سے دیکھا، قیمت دریافت کی، چوکیدار نے بتایا کہ وہ تو ملازم ہے قیمت مالکان ہی بتا سکتے ہیں۔ خریدار نے نوٹوں کا ایک بنڈل چوکیدار کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی قیمت ہو یہ رقم بیعانہ ہے مکان کسی دوسرے کو فروخت نہ کرنا۔

ایسے خریدار سرمایہ کار کہلاتے ہیں یا پھر سرمایہ دار، یہ سرمایہ محنت سے کمانا ممکن ہیں ہوتا۔ سرمایہ دار گئے وقتوں میں تجارت کیا کرتے تھے، صنعت لگاتے تھے مگر موجودہ دور محفوظ سرمایہ کاری کا دور ہے وہ اپنا سرمایہ صرف ایسے منصوبوں میں لگاتے ہیں جہاں نقصان کا اندیشہ بالکل بھی نہ ہو اور منافع اور اصل کسی قسم کے ٹیکس سے بھی محفوظ رہے۔ اور یہ خدمات بجا لانے کے لیے ہر جگہ ایسے ادارے موجود ہیں جو سرمایہ دار کے سرمائے کو محفوظ بنانے کے قانونی گر جانتے ہیں۔

ٹیکس، وہ بنیادی رقم ہوتی ہے جواکٹھا کر کے مقامی حکومتیں عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بناتی اور مکمل کرتی ہیں۔

پاکستان میں ٹیکس دھندگان کے اعداد و شمار سے مانوس لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہاں امیر ٹیکس تو ادا نہیں کرتا مگر غریبوں کے لیے بنائی گئی کسی بھی سکیم سے مستفید ہونے کے لیے پیش پیش ہوتا ہے۔ ریکارڈ پر ہے کہ حکومت نے یلو کیب کے نام سے غریبوں کے لیے جو سکیم شروع کی تھی اس سے استفادہ کرنے والوں میں کراچی کی ایک مشہور امیر شخصیت بھی تھیں۔ اور اس سہولت سے فائدہ اٹھانا ان کے نزدیک ہر پاکستانی کا حق تھا۔

پاکستان میں ٹیکس وہی ادا کرتے ہیں جو ادا کرنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں مثال کے طور ملازمین جن کے ٹیکس ان کی تنخواہوں میں سے کٹ جاتے ہیں، یا وہ خریدار جو خریداری کے وقت مال کی قیمت کے طور پر ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ہمارا ٹیکس کاقانونی نظام ناقص ہے کہ اس نظام کو درست کرنے کے لیے جو سیاسی عزم درکار ہے وہ ناپید ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ حکمران یا تو خود اس طبقے کا حصہ ہے یا پھر اس کا ایجنٹ ہے۔ روزمرہ کے واقعات اور سیاسی جماعتوں کے حالات ہمیں چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ یہاں اکثر خواہشات کے خریدار ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

دلپذیر احمد کی دیگر تحریریں
دلپذیر احمد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں