MeToo#: انڈیا میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی می ٹو مہم، مزید کئی نام


می ٹو

iStock

بھارتی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات پر کھل کر باتیں کر رہی ہیں۔

بالی وڈ اداکار نانا پاٹیکر، وکاس بہل، اتسو چکرورتی کے بعد اس میں آئے دن نئے نام سامنے آ رہے ہیں۔

پردۂ سیمیں پر عام طور پر ایک ‘سنسکاری’ یعنی مہذب و بلند کردار شخص کا کردار نبھانے والے اداکار پر ریپ کا الزام لگایا گيا ہے۔ ان پر ٹی وی شو ‘تارا’ کی ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ونیتا نندا نے الزام لگایا ہے۔

فیس بک کی اپنے پوسٹ میں ونیتا نندا نے ان کا نام ظاہر کیے بغیر یہ الزام لگایا ہے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ‘یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ جس نے میرا ریپ کیا اس کی اس انڈسٹری میں ایک ‘سنسکاری اداکار’ کی شبیہہ ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

’اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا بھی کہے: می ٹو‘

جنسی ہراس پر خاتون صحافیوں کی بے خوف آوازیں

انڈیا خواتین کے لیے ’سب سے خطرناک‘ ملک

‘میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے’ کیا یہ کہنا آسان ہے؟

ونیتا لکھتی ہیں: میں ‘ٹی وی کے نمبر ون شو تارا کی پروڈیوسر تھی۔ وہ سیریل کی اداکارہ کے پیچھے پڑا تھا لیکن اس شخص میں اس کی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ شرابی اور بہت برا انسان تھا۔ لیکن فلم اور ٹی وی کی صنعت کا ایک بڑا سٹار ہونے کے لیے اس کی یہ حرکتیں معاف تھیں۔ اداکارہ نے ہم سے شکایت کی تو ہم نے سوچا کہ اسے نکال دیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمیں اس دن آخری شاٹ لینا تھا۔ ہم اسے نکالنے والے تھے اور اس شوٹ کے بعد اسے یہ بتانے والے تھے۔ لیکن وہ شراب پی کر اپنا ٹیک دینے آیا۔ جیسے ہی کیمرہ رول ہوا اس نے اداکارہ کے ساتھ بد تمیزی کی۔ اداکارہ نے اسے تھپڑ مارا۔ ہم نے فورا اسے شو سے جانے کے لیے کہا اور اس طرح وہ شو سے نکالا گیا۔

اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: ‘اس نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ ہم اپنے گروپ کے ساتھ پارٹیاں کرتے تھے، لہذا یہ خلاف توقع نہیں تھا۔ پارٹی کی شراب میں کچھ ملایا گيا تھا۔ رات دو بجے میں نے عجیب محسوس کیا اور میں اپنے گھر کے لیے نکل پڑی۔ کسی نے مجھے گھر چھوڑنے کی پیشکش نہیں کی۔ میں تنہا پیدل اپنے گھر کے لیے چل پڑی۔ راستے میں وہ شخص مجھے ملا۔ وہ اپنی کار میں تھا اور مجھے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے گھر چھوڑ دے گا۔ میں نے اس پر اعتماد کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس کے بعد جو ہوا مجھے بہت اچھی طرح یاد نہیں۔’

‘مجھے بس اتنا یاد ہے کہ اس نے میرے منہ میں زبردستی مزید شراب ڈالی۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں بہت درد میں تھی۔ میرا اپنے ہی گھر میں ریپ کیا گیا تھا۔’

‘میں نے اپنے دوستوں کو بتایا تو مجھے اس واقعے کو بھول کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیا گیا۔’

نانا پاٹیکر

Getty Images

‘تقریبا 20 سال بعد میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔ میں نے اس کہانی کو اس لیے بیان کیا کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ کوئی لڑکی سچ بتانے سے خوفزدہ ہو۔’

انڈیا میں ‘می ٹو’ کی مہم کے تحت ٹوئٹر، فیس بک پرکسی کی مرضی کے بغیر جنسی پیش قدمی اور اس کی پیچيدگیوں پر ایک نئی بحث چھری ہوئی ہے۔

گذشتہ ہفتے سے زور پکڑنے والی اس ‘می ٹو’ تحریک نے سب سے زیادہ میڈیا کے شعبے میں ہلچل پیدا کی ہے۔ میڈیا سے تعلق رکھنے والی بعض خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات شیئر کیے اور ان میں سے بعض نے تشدد کرنے والے افراد کا برملا نام بھی لیا ہے۔

پہلی بار لڑکیوں نے نام نہیں لیا ہے

چار اکتوبر کو ٹوئٹر پر سب سے پہلے کامیڈین اُتسو چکرورتی پر کئی خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ 33 سالہ اُتسو پر کئی خواتین نے برہنہ تصاویر طلب کرنے اور اپنی برہنہ تصویریں بھیجنے کا الزام عائد کیا۔

اُتسو نے ان الزامات کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر اپنا موقف رکھا اور تمام خواتین سے معافی مانگی۔ اس کے بعد ‘می ٹو’ تحریک نے زور پکڑا۔

اس کے بعد پھر ‘می ٹو’ کے تحت کئی کامیڈینز، صحافیوں، مدیروں، مصنفوں، اداکاروں اور فلم سازوں کے خلاف الزامات سامنے آئے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے میسیجز کے سکرین شاٹ شیئر کیے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ہراساں کرنے والوں کا نام عام کیا گيا ہے۔ انڈیا میں سنہ 2017 میں قانون کی ایک طالبہ نے فیس بک پر طلبہ و طالبات سے پوچھ کر ایک فہرست شیئر کی تھی جس میں 50 پروفیسروں پر ہراساں کرنے پر الزام لگایا تھا۔

میڈیا کے شعبے میں #MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo#MeToo

می ٹو

Getty Images

یہ سچ ہے کہ آج ملک میں خواتین صحافی خود پر ہونے والے جنسی مظالم کے خلاف جس قدر آواز اٹھا رہی ہیں پہلے ایسا نہیں تھا۔ اسی لیے میڈیا میں ان کا زیادہ اثر نظر آ رہا ہے۔

ایڈیٹرز اور رپورٹرز پر لگنے والے الزامات کو نیوز چینل اور اخباروں نے اولیت دی اور ایک بڑے اخبار نے تو اپنے مدیر کے خلاف جانچ کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس مدیر کے ساتھ کام کرنے والی سات خواتین نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اخبار نے انھیں ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صحافی سندھیا مینن نے دو مدیروں پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے اور کئی دوسرے لوگوں کی روداد بھی بیان کی جنھوں نے اپنی تکلیف انہیں بتائی تھی۔

خواتین کی باتیں سننے کی ابتدا

خواتین جو الزامات لگا رہی ہیں ان میں بدسلوکی، فحش پیغامات یا براہ راست ہراساں کرنے کی باتیں شامل ہیں۔ وہ دوسری خواتین سے اس مہم کو سنجیدگی کے ساتھ لینے کی اپیل بھی کر رہی ہیں۔

اب انڈیا میں لوگ ان کی باتیں سن رہے ہیں اور ملزمان کے خلاف اقدام بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں تعاون کرنے اور معافی مانگنے سے بھی ان کی مہم کو قوت مل رہی ہے۔

اے آئی بی نے اتسو چکرورتی کے تمام ویڈیوز واپس لے لیے ہیں۔ اس واقعے کا پہلے سے علم ہونے کے لیے ادارے کے شریک بانی تنمے بھٹ کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ ویڈیو سٹریمنگ چینل ‘ہاٹ سٹار’ نے اے آئی بی کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا۔

اداکار رتک روشن نے ہدایت کار وکاس بہل کے خلاف کی جانے والی سخت کارروائی کی حمایت کی ہے۔ حالانکہ وہ ان کے ساتھ اپنی اگلی فلم سپر 30 میں کام کر رہے ہیں۔

اداکارہ

Getty Images

اب تک جب بھی خواتین نے اپنی بات کہنے کی جرات کی تو ان سے ہی سوال پوچھے گئے کہ اب تک تم کہاں تھیں؟ ایسی صورت حال میں آپ پولیس کے پاس کیوں نہیں گئیں؟ لیکن اب سوال کے بجائے ان سے معافی مانگی جا رہی ہے۔ معافی وہ بھی مانگ رہے ہیں جن پر خواتین نے بھروسہ کیا اور ان سے امید کی لیکن وہ ان کی امیدوں پر پورے نہیں اتر سکے اور اس وقت ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہے۔

تنمے بھٹ، کنال کامرا، گرسمرن کھمبا، چیتن بھگت سمیت بہت سے افراد نے ہراساں کی جانے والی خواتین سے معافی مانگی ہے اور اس سے ان خواتین کی حوصلہ ا‌فزائی ہوئی ہے۔

اب آگے کیا؟

بی بی سی نیوز دہلی کی گیتا پانڈے کہتی ہیں کہ ‘ایسے معاملات کا سیلاب سا امڈ آیا ہے۔ ابھی یہ غیر واضح ہے کہ کتنے لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں۔’

بہت سے لوگ اسے انڈیا میڈیا کی می ٹو مہم قرار دے رہے ہیں لکین کیا انڈیا میں جاری می ٹو اس قدر بااثر ہو گا جتنا کہ ہالی وڈ کا می ٹو رہا تھا۔ ہالی وڈ میں کئی لوگوں کے نام سامنے آئے لیکن ان میں سے چند ہی لوگوں پر پابندی لگی۔

انھوں نے مزید کہا: ‘اہم سوال یہ ہے کہ یہ مہم کہاں تک جاتی ہے۔ جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں انھیں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے یا نہیں۔ ابتدا میں می ٹو کا انڈیا میں کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ ابھی یہ سامنے آنا باقی ہے کہ اس کے اثرات کہاں تک ہوتے ہیں۔’

‘یہ بھی غور کرنا ہوگا کہ جو اپنی باتیں شیئر کر رہے ہیں انھیں مستقبل میں نقصان تو نہیں ہوگا۔ آواز اٹھانے والی کئی خواتین کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انھیں ہتک عزت کے مقدمے کے نام پر ڈرایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک کئی خواتین کھل کر سامنے نہیں آئی ہیں۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6327 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp