سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ اڑنچھو ہوتا ہے


آج صبح انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر یکلخت 11 روپے 70 پیسے کے قریب چڑھ گیا۔ دن کے اختتام پر انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 9 روپے 39 پیسے کے اضافے کے ساتھ 133 روپے 64 پیسے کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ اوپن مارکیٹ کا ریٹ انٹر بینک سے چار پانچ روپے زیادہ ہوتا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں حالیہ کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ لگتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف پہلے ہی روپے کی قدر میں 15 فیصد کمی کا مطالبہ کرچکا ہے۔ یعنی اگلے چند ہفتوں میں اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر 150 تک ہو جائے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ مارکیٹ سے ڈالر غائب ہو چکا ہے۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے صرف ایک ہی روز میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ لگ بھگ 900 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی سب سے بڑی وجہ مسلسل گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر ہیں۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ ان ذخائر کو سہارا دینے کی خاطر حکومت کی جانب سے حکمت عملی کے اعلان میں تاخیر نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

کل کراچی سٹاک ایکسچینج 13 سو پوائنٹ گر گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق حال ہی میں حکومت کی جانب سے دوبارہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں کمی نے اسٹاک مارکیٹ کی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سیاسی و مالی عدم استحکام کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ واپس نکال رہے ہیں جس سے بحران پیدا ہوا ہے۔

سیاسی عدم استحکام یا امن امان کی صورت حال پیدا ہوتو سب سے پہلے سرمایہ فرار ہوتا ہے۔ غیر ملکی تو اپنا سرمایہ نکالتے ہی ہیں، پاکستانی بھی اپنی فیکٹری بنگلہ دیش اور دبئی منتقل کر دیتے ہیں۔ بھٹو کی نیشنلائزیشن کے بعد کتنے پاکستانی بزنس مین دبئی منتقل ہوئے تھے؟ گزشتہ برسوں میں فیصل آباد اور کراچی کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیوں بنگلہ دیش چلی گئی؟

پھر روپے کی قیمت گرنے کا خوف بھی ہے۔ جن لوگوں نے خام مال یا دیگر پراڈکٹس امپورٹ کرنے کے آرڈر دیے ہوئے تھے، اب ان کے لیے ان پراڈکٹس کے دام چکانے مشکل ہوں گے۔ گو اس صورت حال میں مال ایکسپورٹ کرنے والوں کی چاندی ہو گئی ہے۔

اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ سیاسی ہیجان پھیلانے سے گریز کرے۔ کرپشن کے خلاف مہم کو وچ ہنٹ بنانے سے معیشت مشکل میں آئے گی اور روپیہ گرے گا۔ یہ بات تو سب کو ماننی پڑے گی کہ ہماری زیادہ تر معیشت ان ڈاکیومنٹڈ ہے۔ کیا کرپشن کی مہم میں شدت آنے پر یہ سرمایہ ملک سے فرار نہیں ہو گا؟ اس کے نتیجے میں جو معاشی بحران پیدا ہو گا اور بیروزگاری پھیلے گی اس کا کیا علاج سوچا گیا ہے؟ بہتر ہے کہ اس مہم کو پانچ مہینے میں پورا کرنے کی بجائے پانچ سال کو ہدف بنایا جائے اور آہستہ آہستہ سختی لائی جائے۔

زیادہ جوش دکھانے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ایک مرتبہ ترک کارکے کمپنی نے 560 ملین ڈالر میں بجلی سپلائی کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ نیب اور سپریم کورٹ کو اس میں کرپشن دکھائی دے گئی۔ پاکستانی سپریم کورٹ میں مقدمہ ہارنے کے بعد کارکے بین الاقوامی عدالت میں چلی گئی۔ نیب نے سیٹل منٹ کی کوشش کی مگر عظیم چیف جسٹس افتخار چوہدری نے نیب کو سختی سے منع کر کے کرپشن پکڑنے کا حکم دیا۔ نتیجہ یہ کہ بین الاقوامی عدالت نے ڈیل کا جائزہ لے کر اسے شفاف قرار دیتے ہوئے پاکستان کو 700 ملین ڈالر کا جرمانہ ٹھوک دیا۔ یعنی کرپشن پکڑنے کے چکر میں بجلی بھِی نہ ملی، اور ٹھیکے کی اصل قیمت سے بھی زیادہ جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔

دوسرا مشہور کیس ریکوڈک اور ٹیتھیان کمپنی کا ہے۔ ادھر بھی اساطیری چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پانچ ارب ڈالر کے ٹھیکے میں حکومتی کرپشن پکڑی تھی۔ نتیجہ یہ کہ بین الاقوامی عدالت کے ذریعے حکومت پاکستان کو پتہ چلا کہ اساطیری چیف جسٹس ضرورت سے کچھ زیادہ ہی اساطیری تھے اور ان کو قانون کی اتنی سمجھ نہیں تھی جتنی ہم سمجھتے تھے۔ پانچ ارب ڈالر کے اس ٹھیکے کی ”کرپشن“ پکڑنے کا جرمانہ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر عائد کیا گیا ہے جو اب موجودہ حکومت ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔

سنہ 2014 میں وزیر معدنیات و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم نواز شریف کو سمری بھیجی تھی کہ ٹیتھیان سے عدالت سے باہر جلد از جلد سمجھوتہ کر لیا جائے۔ لیکن چیف صاحب کو کرپشن کا جڑ سے خاتمہ کرنے میں دلچسپی تھی، اس لیے پاکستان کو کم رقم پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے اربوں ڈالر کا اضافی ڈنڈ بھرنا پڑا۔ یہ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر اس رقم سے بہت زیادہ ہیں جو حکومت اب آئی ایم ایف سے اس کی من مانی شرائط پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اب موجودہ کرپشن مہم کا بھی ایسا ہی پریشان کن نتیجہ نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کی لیڈر شپ کو ایک قومی ایجنڈے پر اکٹھا کیا جائے، صلاح مشورے سے اقتصادی پالیسیاں بنائی جائیں، سیاسی محاذ آرائی کی فضا کا خاتمہ کرنے پر فوکس کیا جائے، ورنہ جیسے آصف زرداری کو گیارہ برس اندر رکھ کر بھی ایک روپیہ کرپشن کا نہیں نکلوایا جا سکتا تھا اب شہباز شریف وغیرہ کے کیس میں بھی ویسا ہی نتیجہ نکلے گا مگر کرپشن کی جتنی رقم کا دعوی کیا جا رہا ہے، قومی معیشت کو اس عدم استحکام کے باعث اس سے ہزاروں گنا زیادہ جرمانہ بھرنا پڑے گا اور اس کا الزام موجودہ حکومت کے سر ہی جائے گا۔ سیاسی استحکام ہو تو سرمایہ باہر سے ملک میں آتا ہے، عدم استحکام ہو تو ملک کا اپنا سرمایہ اڑنچھو ہو جاتا ہے۔

یقین نہیں آتا تو جنرل مشرف سے پوچھ لیں۔ انہوں نے اس زمانے میں کرپشن کے خلاف یہ مہم شروع کی تھی جب عمران خان ان کو ایک مسیحا سمجھا کرتے تھے۔ مہم روکنا پڑی تاکہ سرمایہ ملک سے باہر جانا رک جائے۔

سرمایہ ملک سے باہر جاتا رہا تو ڈالر مہنگا ہوتا جائے گا۔ نتیجہ یہ کہ تیل بھی مہنگا ہو گا اور اس کی وجہ سے ہر شے مہنگی ہو جائے گی۔ پھر حکومت بھی عوام کو سستا تیل فراہم کرنے سے معذور ہو گی اور تھوک میں پکوڑے تل کر نظامِ حکومت چلانے کی کوشش کرتی دکھائی دے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar