جنرل صاحب کا چھرا ہمیشہ چکور کی بائیں آنکھ میں لگتا تھا


صدر ایوب خان کو پرندوں کے شکار کا شوق بھی تھا، مواقع بھی بہت ملے۔ اس لئے ماہر شکاری ہوچکے تھے۔ ایک بار بلوچستان میں فورٹ سنڈیمن کے آس پاس خوب مارے، آفیسر ز میس میں بیٹھے مشروب سے شغل فرماتے ہوئے اپنے شکار کے، معر کے بیان کر رہے تھے۔ کہنے لگے میں چکور کا شکار کرتے وقت اس کا سر کا نشانہ لیتا ہوں۔

سننے والوں نے سنا اور انہیں حیرت ہوئی کہ اتنے چھوٹے سے پرندے کے سر کا نشانہ کیسے لیا جا سکتا ہے۔ اس کے سر کی کل لمبائی ایک ڈیڑھ انچ سے زیادہ نہیں ہوتی اور جب وہ پہاڑی سے نیچے کی طرف پرواز کرتا ہے تو اس کی رفتار بہت ہی تیز ہوتی ہے کہ سر اور دم کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

حاضرین میں آرمی میڈیکل سروسز جنرل برکی بھی موجود تھے، وہ ایوب خان کے وزیر بھی تھے اور ان کی فوج میں شمولیت کے زمانے سے ان کے اچھے واقف بھی۔ ان کی مزاح کی حس بھی بڑی تیز تھی۔ انہوں نے پوچھا۔

”آپ یہ اندازہ کیسے لگاتے ہیں کہ چھرا چکور کے سر میں لگا؟ “

ایوب خان کہنے لگے۔ ” بڑا آسان ہے۔ جب چکور کے سر میں چھرا لگتا ہے، وہ اوپر کی طرف اڑتا ہے اور پھر گر پڑتا ہے اور میرا مشاہدہ ہے کہ میں نے جب بھی چکور کو مارا وہ اوپر کی طرف اچھلا اور پھر زمین پر آ گرا۔ “

ایوب خان کے بیان کے بعد پھر خفت آمیز خاموشی چھا گئی۔ پھر برکی صاحب نے چپ کو توڑا۔
” عجیب اتفاق ہے۔ میں جب بھی نشانہ لیتا ہوں چکور کی بائیں آنکھ میں چھرا لگتا ہے۔ “

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں