مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ کا تاش کا کھیل


پٹیالہ کا مہاراجا بھو پندر سنگھ ہندوستانی انداز کے تاش کے کھیل پوکر کا بہت شوقین تھا۔ انگریزی اور امریکی انداز کا پوکر پانچ پتوں سے کھیلا جاتا ہے جبکہ ہندوستانی انداز کا پوکر تین پتوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ تین پتوں والے پوکر میں تین یکے ّ سب سے بڑے پتے ہوتے ہیں جنہیں کوئی پتا مات نہیں دے سکتا۔ مہاراجا اپنی پوکر پارٹیوں میں صرف ایک دو قابل اعتماد وزیروں اور تین چار پسندیدہ مہارانیوں کے علاوہ شاہی خزانہ دار کو بلایا کرتا تھا۔

دعوت ٹیلی فون پر دی جاتی تھی اور مدعوئین سے کہا جاتا تھا کہ وہ کھیل کے لیے اپنے ساتھ وافر رقم لے کر آئیں۔ وزرا ء اپنے ساتھ بہت تھوڑی رقم لے کر آتے تھے تاکہ وہ کھیل میں بہت زیادہ رقم ضائع نہ کریں۔ مہارجا نے شاہی خزانہ دار کو حکم دے رکھا تھا کہ جس کھلاڑی کے پاس رقم کم پڑ جائے اسے رقم ادھا ر دے دی جایا کرے۔

کھیل عموماً آدھی رات کے بعد موتی باغ محل میں مہاراجا کے نجی کمرے میں شروع ہوا کرتا تھا۔ کھیل سے پہلے مہاراجا اور اس کے مہمان شراب نوشی کرتے تھے۔ وہ شراب کے دو، دو، چار چار جام پینے کے بعد بڑے خوشگوار موڈ میں کھیل شروع کرتے۔ کھیل مہاراجا کی مرضی اور موڈ کے مطابق دو تین گھنٹے جاری رہتا۔ جب بھی کسی کھلاڑی کے پاس رقم ختم ہوتی، وہ شاہی خزانہ دار سے رقم ادھار مانگتا۔ اسے حاصل کر دہ رقم کی رسید پر دستخط کرنا ہوتے تھے۔ بعض اوقات ادھار کی رقم پانچ یا چھ ہندسوں پر محیط ہوتی اور روایت یہ تھی کہ شاہی خزانہ دار کھیل کے کسی بھی شریک کی ادھار دینے کی درخواست کو رد نہیں کر سکتا تھا۔

عموماً ایسا ہوتا کہ کھلاڑی ضرورت سے زیادہ رقم ادھار لے لیتے۔ کھیل جاری ہوتا تو کچھ وزیر اور مہارانیاں اپنے ساتھ لائی ہوئی رقم نہ ہارنے کے باوجود شاہی خزانہ دار سے ادھار مانگ لیتے تھے، جسے اس امر سے لاعلمی میں، کہ یہ درخواست حقیقی ہے یا مصنوعی، ان کو ادھار دینا پڑتا تھا۔ جب کھیل کے سارے شرکا ء کی جیبیں بھر جاتیں اور مہاراجا بہت زیادہ رقم ہار چکا ہوتا اور شاہی خزانہ دار کے پاس بھی اس کھیل کے لیے مخصوص اکاؤنٹ میں رقم موجود نہ رہتی تو کھیل ختم کر دیا جاتا۔

کھیل عموماً کھیل کے قوانین و ضوابط کے مطابق نہیں بلکہ ہلکے پھلکے اور آزادانہ انداز میں کھیلا جاتا تھا۔ یہ خالصتاً جوا نہیں ہوتا تھا کہ کسی کھلاڑی کے پاس تین یکے آئیں گے تو وہ جیتے گا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ مہاراجا ” شو“ کرانے پر سب سے بڑے پتے رکھنے والے کھلاڑی کو اچھی خاصی رقم دے دیا کرتا تھا۔ جہاں تک ادھار کا تعلق تھا تو شاہی خزانہ دار کبھی ادھار کی واپسی کا تقاضا نہیں کرتا تھا جبکہ ادھار لینے والے بھی ادھار لوٹا نے کی نیت سے نہیں لیتے تھے۔ چنانچہ مہارانیاں اور وزراء کو کھیل میں شرکت سے اپنی جیبیں بھرنے کا موقع مل جاتا تھا اور وہ قرض کی صورت میں بھاری رقوم کما کر گھر لوٹتے تھے۔ ایسا ہوتا تھا مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ کا کھیل!

دیوان جرمنی داس کی کتاب مہاراجا سے اقتباس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں