نیب کی شکایت حکومت سے یا سپریم کورٹ سے؟

رفاقت علی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن


نواز شریف

Getty Images
نیب نے وزیر اعظم کے حکم پر شہباز شریف کو گرفتار کیا: مسلم لیگ نون

پاکستان مسلم لیگ ن نے الزام عائد کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ شہباز شریف کو گرفتار کیا ہے۔

حکمران جماعت کا موقف ہے کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نیب اگر ان کے ماتحت ہوتا تو وہ ابھی تک 50 افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کر چکے ہوتے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیب واقعی ایک خود مختار ادارہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے یا وہ وزیر اعظم کے احکامات پر عمل کرتا ہے؟

عوامی عہدیداروں کی بدعنوانی کو روکنے کا ادارہ

فاروق لغاری، بینظیر بھٹو

Getty Images
صدر فاروق لغاری نے 1996 میں احتساب آرڈیننس کا اجرا کیا

1996 میں جب صدر فاروق لغاری نے جب بےنظیر بھٹو کی ‘بدعنوان’ حکومت کو ختم کیا تو انھوں نے بدعنوان عوامی نمائندوں کے احتساب کے لیے احتساب آرڈیننس 1996 نافذ کیا۔ جب چند ماہ بعد میاں نواز شریف ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ مسند اقتدار پر بیٹھے تو انھوں نے اس آرڈیننس کو قانون میں بدل کر اپنے دستِ راست سینیٹر سیف الرحمٰن کو احستاب بیورو کا سربراہ مقرر کیا جس نے سابقہ حکومت کی کرپشن کو سامنے لانے کےلیے اسی احتساب ایکٹ کے تحت مقدمات تیار کیے۔

احتساب بیورو کی ساری توجہ پچھلی حکومت کے عہدیداروں پر رہی اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف احتساب ریفرنس پیش کیے۔

جب جسٹس قیوم کی سربراہی میں دو رکنی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو ایس جی ایس اور کوٹیکنا مقدمے میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی تو اس وقت بھی ایسے الزامات سامنے آئے کہ قومی احتساب بیورو وزیر اعظم کے احکامات پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔

کچھ عرصے بعد سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگ میں اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کو تقویت ملی جس میں احتساب بیورو کے سربراہ احتساب عدالت کے جج کو ہدایت دیتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اسی پس منظر میں بےنظیر بھٹو اور آصف زرداری کےخلاف سزا کو معطل کر دیا اور احتساب عدالت کو حکم دیا کہ وہ اس مقدمے کو ازسر نو جائزہ لے۔

فوجی دور میں نیب کا استعمال

جنرل مشرف،چوہدری شجاعت

Getty Images
صدر مشرف کی حامی سیاسی جماعت قائم کرنے کے لیے نیب کا استعمال کیا گیا

جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب ‘ان دی لائن آف فائر’ میں لکھا کہ جب جنرل عزیز اور جنرل محمود کو یہ خبر ملی کہ ان کے آرمی چیف کی تذلیل کی جا رہی ہے تو وہ ٹینس کا میچ ادھورا چھوڑ کر اپنے فوجی وقار کو بچانے کے لیے نکل پڑے۔

فوجی جرنیلوں نے چند گھنٹوں میں ہیوی مینڈیٹ رکھنے والے وزیر اعظم کو مری ریسٹ ہاؤس میں پہنچا کر فوج کے سربراہ کو ملک کا چیف ایگزیکٹیو بنا دیا۔

جنرل مشرف نے احتساب بیورو کا نام تبدیل کر کے اسے قومی احتساب بیورو بنایا جس کی سربراہی ایک حاضر سروس فوجی جرنیل کے سپرد کی گئی۔ فوجی حکمران نے اسی قانون کے تحت نواز شریف کےخلاف مقدمات قائم کیے اور وہ بالآخر فوجی حکمران سے معاہدہ کر کے اپنے خاندان کے ہمراہ ملک چھوڑ گئے۔

جب جنرل پرویز مشرف نے سیاسی حمایت کے لیے ایک سیاسی جماعت بنانی چاہی تو اسے نیب کا سہارا لینا پڑا اور نیب کی مدد سے ہی مسلم لیگ ق وجود میں آئی جس کی سربراہی نواز شریف کے سیاسی رفیق چوہدری شجاعت حسین کے حصے میں آئی۔

جمہوری دور میں نیب کی آزادی

نوازشریف، شہباز شریف

Getty Images
فوجی حکمران کے دور میں نیب قانون کے تحت نواز شریف اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمات تیار کیے گئے

نیب کا ادارہ جنرل مشرف کے اقتدار سےعلیحدگی کے بعد بھی قائم رہا۔ البتہ اس کو آزاد اور غیر جانبدار بنانے کےلیے اس کے سربراہ کی تعیناتی کا طریقہ تبدیل کیا گیا جس کے تحت نیب کے سربراہ کی تعیناتی وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے ہی ممکن ہے۔ نیب کے سربراہ کی مدت ملازمت کو تین سال مقرر کیا گیا اور اس کو ہٹانے کے لیے وہی طریقہ وضح کیا جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے لیے آئین پاکستان میں دیا گیا ہے۔

پاناما پیپرز میں پاکستان کےحکمرانوں کے نام آنے کے بعد جب نیب نے کوئی کارروائی نہ کی تو نیب پر الزام لگا کہ وہ حکومت کے زیر اثر ہے۔ ایک موقع پر جب سپریم کورٹ نے نیب کے سربراہ کو عدالت میں بلا مقدمہ دائر کرنے کا کہا تو انھوں نے صاف انکار کر دیا۔

عمران خان کا سیاسی عروج

عمران خان

Getty Images
عمران خان ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کا نعرہ بلند کر کے اقتدار تک پہنچے ہیں

فوجی دور میں ملک سے باہر بییٹھ کر ملک کی سیاسی رہنماؤں نے ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے میثاق جمہوریت نامی ایک معاہدے پر دستخط کیے اور اسی معاہدے میں یہ طے پایا کہ نیب کو ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن جمہوری دور شروع ہوا اور آئین میں متعدد ترامیم بھی ہوئیں لیکن نیب کو ختم نہ کیا جا سکا۔

گذشتہ دس برسوں میں جمہوری حکومتیں نیب کو ختم کرنے کے عزم کے باوجود اسے ختم نہ کر سکیں اور اب جب عمران خان بدعنوانی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کر کے مسند اقتدار پر بیٹھ چکے ہیں، تو اس ادارے کی آزادی پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔

کیا نیب سپریم کورٹ کے زیر اثر ہے؟

جب فوجی حکمران پرویز مشرف نے احتساب بیورو کو تبدیل کر کے اسے نیب میں بدلا تو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اس قانون کو اس بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا کہ یہ قانون آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔

سپریم کورٹ نے نہ صرف اس قانون کو جائز قرار دیا بلکہ اس کے سربراہ کے لیے ایسی شرائط رکھیں جن پر کوئی جج ہی پورا اتر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب قانون کے تحت ہونے والے ‘پلی بارگین’ کو بھی جائز قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے اس قانون کو ملک میں ‘گڈ گورننس’ کے لیے ضروری قرار دیا۔

تو پھر مسلم لیگ ن کو نیب کی شکایت کس سے کرنی چاہیے، حکومت سے یا سپریم کورٹ سے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6325 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp