HisChoice#: شادی نہ کرنے پر اتنے سوال کیوں؟


ہز چوائس

BBC

میرے دوست نے پوچھا: ‘کیا آپ اب بھی اسی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس نے پھر سوئی چبھوئی: ‘اگر چپ رہو گے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بہت چالاک ہو۔’

اس نے کہا: ‘تم پاگل ہی ہو سکتے ہو۔۔۔ تمہارا افیئر تو سالوں پہلے ختم ہو چکا ہے، لیکن تم زندگی میں آگے بڑھ نہیں سکے۔۔۔اب بچپنا چھوڑو۔ تمہیں وقت کے ساتھ ہی سمجھدار ہونا چاہیے۔’

#HisChoice سیریز کی دیگر کہانیاں

HisChoice#: ’دل کے کسی گوشے میں مہندی لگانے کا شوق زندہ تھا‘

HisChoice#:’تیری مجبوری کو تیرا شوق بنا دوں گی’

‘میں ہاؤس ہزبینڈ ہوں تو لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟’

میں نے کہا: تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ یہ میری پسند کا معاملہ ہے۔’ دل میں آیا کہ اسے ایک گھونسا ماروں۔ لیکن آخر میں کتنے لوگوں کو اس طرح مارتا پھرتا؟

میری کہانی کیا ہے، کہاں سے شروع کروں؟ یہ کہانی میرے ماضی اور حال سے جڑی ہے۔ محبت میں ناکام ہونے کے بعد میں نے تنہا یعنی سنگل رہنے کا فیصلہ کیا۔یہ اس سماج کے لیے ایک بڑا سوال بن گیا ہے جس کے ساتھ میرا روز سابقہ پڑتا ہے۔

میری مشکلات؟

میرے دوست، رشتہ دار اور میرے شناسا مجھے انوکھا (مختلف) کہتے ہیں۔ میری صلاحیت اور صفات کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے شادی نہ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے وہ مجھے مختلف سمجھتے ہیں۔

شادی شدہ یا غیر شادی شدہ؟ سنگل یا کمیٹڈ؟

اگر آپ ان دو سوالوں کے جواب میں کہتے ہیں کہ آپ نہ تو شادی شدہ ہیں اور نہ ہی کسی سے بندھے ہوئے ہیں تو بہت سے لوگوں کا متحیر ہونا قدرتی ہے۔ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ آپ کو مختلف یا عجیب الخلقت جاندار کے طور پر دیکھا جائے۔

کام کے سلسلے میں ایک بڑے شہر سے دوسرے بڑے شہرآ گیا۔ میں ایسے ماحول میں کام کرتا ہوں جہاں مختلف جگہوں سے آنے والے لوگ ہیں۔ میں شہر کے پوش علاقے میں رہتا ہوں۔ یہاں رہنے والا ہر ایک فرد ماڈرن ہے اور اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔

پڑوسیوں کے پاس مجھ سے بات کرنے اور مجھے جاننے کے لیے کم وقت نہیں ہے۔ جس جم میں جاتا ہوں اور جہاں روزانہ چائے پیتا ہوں وہ سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ بس رسمی بات چیت ہے۔

لیکن جیسے ہی انھیں پتہ چلتا ہے کہ میں ‘سنگل’ ہوں ان میں چھپا ‘متجسس انسان’ جاگ اٹھتا ہے۔

یہ سال کب ختم ہوگا؟

‘کیا تم ابھی بھی سنگل ہو؟’ سوال کرنے والے کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ اب بھی بچوں کے سکول میں ہیں۔

ایسے موقعوں میرے کچھ دوست ہی آگے بڑھ کر بتاتے ہیں: ‘اس سال کے اختتام تک وہ شادی کر لے گا۔’

انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ کہہ کر مجھے توہین سے بچا رہے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ‘بھائیو سنو! میں اپنی شناخت سے شرمندہ نہیں ہوں، اور جس سال آپ ذکر کر رہے ہیں، وہ کبھی نہیں آنے والا۔

اور پھر میرے قریبی لوگ ہی میرا نام لڑکیوں کے نام کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری عمر اور عہدے کے فرق کو سوچے سمجھے بغیر۔ اس طرح کی افواہیں ہر جگہ پھیلتی رہتی ہیں۔

انھیں کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ان کے اس برتاؤ سے ہمارے ان سے رشتے ختم ہو رہے ہیں۔ ویسے بھی دنیا میں اچھے دوستوں کا ملنا بہت مشکل ہے۔

ہز چوائس

BBC

کچھ لوگوں کی یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ میں کنوارا ہوں یا نہیں؟

مجھے سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ میں جنسی طور پر فعال ہوں یا نہیں۔ کچھ تو مجھ سے براہ راست پوچھتے ہیں کہ میری ‘صحت’ ٹھیک ہے یا نہیں۔

ایک نے تو یہ بھی پوچھ لیا کہ کیا میں مردوں میں دلچسپی رکھتا ہوں۔

میں کہتا ہوں ‘دوست! اب بڑے ہو جاؤ۔ اگر ایسا ہوتا تو میں مرد کے ساتھ رہ رہا ہوتا۔

اگر میں غصے میں ایسے سوالات کا جواب دوں تو مجھ پر ‘غیر دوستانہ’ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ اس لیے میں چپ رہتا ہوں۔

کون کہتا ہے کہ میرا معاشرہ میرے ذاتی معاملے میں دراندازی کر رہا ہے؟ وہ تو صرف میرے بارے میں فکرمند ہیں اور مجھے ان سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔

کچھ لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ‘گھر بسا لیا یا نہیں؟’ اور میں اس سوال کا دلچسپ انداز میں جواب دیتا ہوں: ‘میں اس سمت میں کام کر رہا ہوں۔ میری کمائي اچھی ہے، قرض نہیں ہے اور میری صحت بالکل ٹھیک ہے۔’

اور پھر وہی سوال: ‘تم نے شادی کی یا نہیں؟’ مجھے لگتا ہے کہ میرے جیسے کسی شخص کے لئے سب سے زیادہ مشکل سوال یہی ہے۔

سنگل ہونے کے فوائد

سنگل ہونے کی وجہ سے مجھے بہت سی ‘سہولیات’ کی ‘فوائد’ بھی حاصل ہیں۔ یہ ہمیں معاشرے کا ایک طبقہ فراہم کرتا ہے۔

میرے ایک سابق باس کا کہنا تھا کہ ‘تم سنگل ہو، تم ویک اینڈ پر دفتر آ سکتے ہو، رات گئے تک کام کر سکتے ہو۔ آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔’

میں ان سے کہنا چاہتا تھا کہ میرے پاس بھی کچھ کام ہیں۔ لیکن میں نے کبھی نہیں کہا۔

یہ بھی پڑھیے

’جب جنسی طور پر کمزور مرد سے میری شادی ہوئی‘

کچھ دن کے لیے نہ میں کسی کی بیوی اور نہ ماں!

‘بستر میں جبر کرنے والے شوہر کو میں نے چھوڑ دیا’

ایک بار میرے مکان مالک نے کہا: ‘تم اکیلے ہو، سب سے اوپر والی منزل پر رہو، کپڑے خشک کرنے میں بھی مدد ملے گی، درمیانی منزل پر ایک فیملی رہ سکتی ہے۔

میں دوسروں کی طرح برابر کرایہ دیتا ہوں، پھر میں ہی اوپری منزل پر کیوں رہوں؟

ایک دوست نے ہاؤس وارمنگ پارٹی کی دعوت دیتے ہوئے کہا: تم سنگل ہو، کیا تمہیں بھی مدعو کرنے کی ضرورت ہے؟ اس وٹس اپ پیغام کو دعوت نامہ ہی سمجھو۔

تو دعوت نامے کے لیے بھی شادی شدہ ہونا ضروری ہے؟ میرے لیے یہ ایک خبر تھی۔

تو کیا سنگل ہونا کوئی جرم یا کمی ہے؟

میں شادی کروں یا نہیں کروں یا تاخیر کروں، یہ میری پسند کا معاملہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کو ہماری بہت فکر ہے۔

مجھے کسی مشورے کی ضرورت ہو نہ ہو لیکن معاشرے کے پاس میرے لیے مشوروں کی بھرمار ہے۔

مفت تجاویز، مشورے، اگر میں اسی طرح تنہا رہا تو دس بیس سال بعد کیا ہوگا کی پیشین گوئياں۔

ایک ساتھی نے کہا کہ مجھے ان لوگوں سے ملنا چاہیے جو مجھ جیسے حالات میں ہیں۔ میں نے پوچھا: ‘اقتصادی حالت میں یا جغرافیائی صورتحال میں؟’

انھوں نے کہا: ‘نہیں جنھوں نے وقت پر شادی نہیں کی۔ آپ جانتے ہیں، آپ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں اور باقی زندگی ساتھ ساتھ ساتھ گزار سکتے ہیں۔’

میں نے کسی کو کبھی نہیں بتایا کہ میں نے شادی کرنے کا صحیح وقت گنوا دیا ہے اور میں نے کبھی بھی کسی کو نہیں بتایا ہے کہ میں ایک بیوی کی تلاش میں ہوں۔

پہلے میں اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور خاندان کی تقریبات میں شرکت کرتا تھا۔ شادی کے دعوت نامہ کا احترام میری ترجیح تھی۔ لیکن اب میں خود کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوں۔

ہز چوائس

BBC

کیونکہ ان مواقع پر مجھے سے زیادہ ہی سوالات کیے جاتے ہیں۔

‘اتنے دنوں بعد آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ پانچ سال ہو گئے ؟ آپ کی بیوی کہاں ہے؟’

اور پھر میرے آس پاس دیکھنے اور مجھے تنہا پانے کے بعد اسی بات پر آ جانا: ‘اوہ، ابھی تک سنگل؟’

میرا خیال ہے کہ اب مجھے تقاریب میں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

اب جب چھٹیوں کے بعد اپنے آبائی شہر سے واپس دفتر آتا ہوں تو دانستہ خالی ہاتھ ہی آتا ہوں۔ اپنے شہر کی مشہور مٹھائي نہیں لاتا۔ میں اس سوال سے بچنا چاہتا ہوں کہ ‘کیا کوئی خاص خبر ہے؟’ عام طور پر خاص خبر کا مطلب ہے شادی ہونا یا گھر میں بچے کی پیدائش ہے۔

ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟

میں سکول کے دنوں میں کرکٹ کے بجائے ہاکی پسند کرتا تھا۔ اس پر کبھی سوال نہ ہوا۔ جب لوگ جدید موٹر سائیکل خرید رہے تھے تو میں پرانی فیشن کی موٹر سائیکل پسند کرتا ہوں۔ مجھ پر ہلکے رنگ کے کپڑے اچھے نظر آتے تھے لیکن مجھے شوخ رنگ پہننا پسند تھا۔

یہ بھی پڑھیے

‘میں غیر مردوں کے ساتھ انٹرنیٹ پر فلرٹ کرتی ہوں’

‘میں نے بغیر شادی کے بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟’

میں نے پڑھائی کسی دوسرے میدان میں کی اور کام کسی دوسرے شعبے میں کر رہا ہوں۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری ترجیحات کو سمجھا اور میری حوصلہ افزائی کی۔ میرے دوست اور معاشرے نے بہت حوصلہ افزائی کی اور میں زندگی میں آگے بڑھ سکا۔

لیکن جب میرے شادی نہ کرنے کے فیصلے کی بات آتی ہے تو مجھے وہ حوصلہ افزائی نہیں ملتی ہے۔

میں شادی کر بھی سکتا ہوں اور نہیں بھی لیکن مجھے ابھی تک ہم سفر نہیں ملا ہے۔ میں عشق میں اپنی ناکامی کے ساتھ آگے بڑھ چکا ہوں۔ لیکن زندگی میں آگے بڑھنا ایک مختلف چیز ہے۔ میں ابھی وہ فیصلہ نہیں کر سکا ہوں۔

فی الحال میں سنگل ہوں۔ آج کا سچ یہی ہے۔ کل کی بات کچھ اور ہو سکتی ہے۔ کیا مجھے پھر سے عشق ہوگا۔ اگر ہو گا تو دیکھا جائے گا۔

(یہ کہانی ایک اس شخص کی ہے جن سے شو کمار الگناتھن نے بات کی ہے۔ ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ السٹریشن پونیت برنالا نے بنائی ہے۔ سیریز کی پروڈیوسر سوشیلا سنگھ ہیں)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5712 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp