آزادی اظہار کی قیمت دینی پڑتی ہے ، آپ وصول بھی کر سکتے ہیں


میانوالی جیل… 19مئی 1978

میرے دوست ، میرے بھائی میرے ہمدم ۔کہو کس حال میں ہو۔ تمہیں تابڑ توڑ خط لکھ رہا ہوں اس طر ح کچھ باتیں کرلیتا ہوں۔ اور یہ کہاوت تو مشہور ہے کہ خط سے نصف ملاقات تو ہوجاتی ہے۔

آج جمعہ ہے اور ہماری شفٹ کی چھٹی ہے لیکن تمہیں معلوم نہ ہوگا مگر میرے اور دیگر چھ ساتھیوں سے مختلف قسم کی مشقت لی جاتی ہے۔ میرے حصے میں دری بننے والا کام آیا۔ کل جمعرات کو ہماری مشقت کا پہلا دن تھا اور آج چھٹی تودن اچھا گزرا۔ پی پی پی کے کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی اور شام کو سب نے مل کر محنت اور محبت کے گیت سنائے ۔ یقین جانو بہت اچھا دن گزرا۔ آنے والا کل پھر مشقت کا دن ہے۔

ویسے میانوالی جیل واقعی قصوری جیل ہے۔ جیل میں فرنیچر بھی بنتا ہے۔ سوت بھی کاتا جاتا ہے۔ نہایت خوبصورت اور پھول دار دریاں بنتی ہیں۔ ہمارا دل جیل میں لگ گیا ہے۔ اگر یہاں سے گرمی،مکھیوں اور مچھروں کو نکال دیا جائے تو میں یہاں نودس سال رہ سکتا ہوں۔

ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحریک کے بارے میں خبریں نہیں مل رہیں پہلے تو بی بی سی خبریں اور تبصرے دے دیتا تھا مگر مارک ٹیلی کے پاکستان سے چلے جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ کل پتا چلا ظفر قریشی گرفتار ہوگئے ہیں اور چھاپڑہ کو سزا ہوگئی ہے۔جیل میں بے چارگی کا احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنی تحریک کیلئے کوئی کام نہیں کرپا رہے مگر کیا کریں مجبور ہیں۔

تمہارا دوست صبیح الدین غوشی

یہ خط اور ایسے دیگر کچھ خطوط میں اکثر اس وقت نکال کر بار بار پڑھتا ہوں جب بھی مجھے یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ ایسے لوگ کہاں چلے گئے ۔ غوشی کوئی سیاست دان نہیں تھا اور نہ ہی اس جیسے 300سے زائد وہ لوگ جو جیل گئے ، کوڑے کھائے۔

یہ خط کسی سیاسی کارکن کا نہیں بلکہ اس ملک کے ایک معتبر صحافی کاہے ۔ ان جیسے بے شمار لوگ آزادی صحافت کا استعارہ اور ہمارا غرور تھے۔وہ سچے اور اچھے صحافی، صحافت اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنے والے۔ کس خوش دلی سے ان دوستوں نے سخت ترین جیل کاٹی، فوجی عدالتوں سے سزا بھی ہوئی مگر لیڈر سے لے کر کارکن صحافی تک سب نے جیل میں مشقت بھی کی۔

میں اس وقت جامعہ کراچی شعبہ صحافت کا طالبعلم تھا اور وہاں اپنے شعبہ میں ہم نے اس جدوجہد کے سلسلے میں جلسے بھی کیے۔ پیش نظر صرف ایک چیز تھی کہ اگر صحافی بننا ہے تو صحافت کا آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔ نثار عثمانی،منہاج برنا، احفاظ الرحمان، خالد بھائی اور غوشی جیسے بے شمار صحافیوں کے بارے میں کچھ اخبار میں اور کچھ بی بی سی سے سنتے رہتے تھے۔

پھر عملی صحافت میں قدم رکھا اور اس جدوجہد کاحصہ بن گئے ۔ یہاں آکر پتا چلا کہ آزادی اظہار رائے اور صحافت کی آواز بلند کرنا آسان نہیں، قیمت دینی پڑتی ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ چاہیں تو قیمت وصول بھی کرسکتے ہیں۔

ہمارے بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ آزادی صحافت کسی جدوجہد کے نتیجے میں نہیں ملی بلکہ وقت کے حکمرانوں نے بس دے دی۔ آج جب کچھ دوستTVپر بیٹھ کر یہ باتیں کررہے ہوتے ہیں تو افسوس کے سوا آپ کرہی کیا سکتے ہیں۔ کیا جمہوریت بھی بس ایسے ہی ملی ہے۔ جدوجہد کا سودا نہیں کیا جاتا پس قیمت دینی پڑتی ہے۔

سیاسی اور صحافی کارکنوں نے پاکستان کی جیلوں میں تاریخ رقم کی ہے تب ہی حسن ناصر ، نظیر عباسی ، جام ساقی جیسے لوگ پیدا ہوئے جن کی ، منی ٹریل، جیل سے نکل کر پھر دوسری جیل یا روپوشی رہی ۔ مرے تو کوئی کرپشن کا کیس نہیں تھا ہاں غداری کے مقدمات کا ان محب وطن لوگوں نے ضرور سامنا کیا ۔شاہی قلعہ آج بھی ان دنوں کی یاد دلاتا ہے۔ جو لوگ ادھر رکھے گئے ان کو آج بھی کسی نہ کسی بیماری کا سامنا ہے۔

آزادی صحافت کی بات کرنا بہت آسان ہوتا ہےمگر اس کی لاج رکھنا بہت مشکل آج صحافیوں اور صحافی کارکنوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، اخبار اور چینل بھی بے شمار ہیں، حکومتیں بھی بظاہر جمہوری ہیں، پابندی بھی بظاہر نظر نہیں آرہی تو پھر صحافت خوف زدہ کیوں نظر آرہی ہے۔

مقابلہ کرنے کی سکت کیوں کمزور نظر آرہی ہے۔ پابندی لگانے والے ماضی میں پابندی لگا کر اور پابند سلا سل کرکے آزما چکے ہیں۔ پابندیوں سے ہیfake news جنم لیتی ہے۔ جب آپ آزاد صحافت کو کمزور کریں گے اور اصل صحافیوں کے لیے حالات سازگار نہیں رہیں گے تو مارکیٹ میں صحافی بھی ایسے ملیں گے جو جعلی ہوں اور صحافت بھی۔

جن لوگوں نے آزادی صحافت کا علم قیام پاکستان کے بعد سے بلند رکھا وہ اپنا کام بھی جانتے تھے اور ذمہ داری بھی ان میں لڑنے کا جذبہ بھی تھا اور کام سے بھی وہ غافل نہیں تھے ۔ نثار عثمانی مرحوم ایک مرتبہ جیل میں مشقت کرتے ہوئے بولے ’’ چلو اچھا ہوا کچھ اور کام بھی سیکھ لیا جو بے روزگاری میں کام آسکتا ہے‘‘۔

یہ آئیڈیل صورتحال نہیں ہے۔ تقسیم جدوجہد کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ اس سے صرف فائدہ، تقسیم کرنے والوں کو ہوتا ہے۔ آج میڈیا کو جس دبائو کا سامنا ہے اور صحافیوں اور کارکنوں کو اپنے مستقبل کا ،وہ صرف اتحاد سے ہی دور ہو سکتا ہے۔مالکان ، مدیروں اور صحافیوں کا آپس میں اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ صحافی بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا انسان چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔ یہ لڑائی اتحاد کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔

مقدمات کل بھی بنتے تھے اور آج بھی بنتے ہیں آج صحافی کوجان کابھی خطرہ ہے اور جاب کابھی، پہلے پابندی لگانے والے کابھی پتا تھا اور قانون کابھی ۔ آج بھی صحافت خطرے میں ہے آج بھی اخبارات کے صفحات کم ہورہے ہیں، آج بھی کسی نہ کسی شکل میںسنسر شپ، یا ٹیلی فون کال پر پروگرام روک دیا جاتا ہے۔ آج بھی اشتہارات کی بندش ہے۔ توپھر کیا آمریت اور کیا جمہوریت؟

اگراتنے سالوں بعد بھی سیاست دانوں اور آزادی صحافت کی جدوجہد کرنے والوں کے رویے جمہوری نہیں ، جس کی وجہ سے وہ ثمرات نہیں حاصل ہوسکے جس کے لیے غوشی جیسے لوگوں نے ایسے خط لکھے ۔

منہاج برنا ، نثار عثمانی اور احفاظ الرحمان جیسے لوگوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں تو مجھ جیسے لوگوں کے پاس آنے والی نسلوں کے لیے صرف یہ خطوط اور کہانیاں سنانے کے لیے باقی ہیں کہ ہاں اس ملک میں جمہوریت اور آزادی صحافت کی ایک تاریخ ضرور موجود ہے، چاہو تو اس تاریخ سے فائدہ اٹھاکر جدوجہد کو آگے لے چلو یا پھر مالی فائدہ؟

کوئی تو پرچم لے کر نکلے

اپنے گریباں کا جالب

چاروں جانب سناٹا ہے

دیوانے یاد آتے ہیں

بدقسمتی سے ہمیں لڑنے کی اتنی عادت پڑگئی ہے کہ اپنے حقوق کے لیے لڑتے لڑتے اب آپس میں لڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے جنہوں نے ایک بہتر کل کے لئے اپنا آج قربان کیا۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں