بیوقوف لڑکیاں کیوں مر جاتی ہیں؟


وہ 29 جنوری کی رات تھی اور 1889ء کا پہلا مہینہ‘ جب تاج و تخت کے وارث شہزادے روڈولف نے میری وٹسیرا کے ساتھ خود کشی کر لی۔ آسٹریا کے تیس سالہ اکلوتے شہزادے نے پہلے اپنی گرل فرینڈ کو گولی ماری اور پھر اپنے سر پہ بندوق رکھ کے فائر کر دیا۔

وہ دونوں اس وقت مئیرلنگ کے ایک دوردراز شاہی محل میں موجود تھے‘ جس کے باہر کھلا جنگل تھا۔ یہ جگہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے مضافات میں تھی۔ اگلی صبح جب بیڈروم سے یہ خبر اور دونوں کے مردہ جسم برآمد ہوئے تو پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی۔

شاہی محل کے اندر کسی میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ جائے اور بادشاہ کو خبر کرے ۔ ایک ملازم گیا اور اس نے ملکہ کو بہت سلیقے سے تمام ماجرا کہہ دیا۔ پہلے تو خبر سنتے ہی ملکہ اس بات پہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھی‘ لیکن واقعہ ہو چکا تھا اور خبر جنگل کی آگ کے جیسے پھیل رہی تھی۔ انہیں جلد از جلد کوئی آفیشل بیان دینا تھا۔ وہ اپنے خاوند‘ شہنشاہ فرانز جوزف کے پاس گئی اور اسے شہزادے کی موت کا بتا دیا۔

شہزادے کی موت نے پورے شاہی عملے میں تھرتھلی مچا دی تھی۔ پولیس‘ وزیر اعظم اور شاہی ڈاکٹر موقع واردات پہ موجود تھے ۔ ان کا پہلا امتحان تو یہ تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو یہ واردات خودکشی نہ کہلائے اور دوسرا یہ کہ اس لڑکی میری وٹسیرا کی لاش کہیں ادھر اُدھر کر دی جائے‘ تاکہ خبر کا چٹپٹا پن مارا جا سکے اور شاہی خاندان کی بدنامی نہ ہو۔

اس بے چاری لڑکی کا جنازہ ایک نہایت بھیانک اور غیرانسانی قسم کا سین تھا۔اس کی لاش بغیر کسی رسم کے ‘ بغیر نہلائے دھلائے ‘ انہی خون آلود کپڑوں سمیت ایک چھکڑے میں ڈالی گئی‘ لاش کی دونوں طرف اس کے دو بزرگ کھڑے ہوئے اور چھکڑا انتہائی تیزی سے ایک قریبی گاؤں کی طرف دوڑا دیا گیا۔

ادھر ایک پادری کو پہلے حکم دیا جا چکا تھا کہ لاش آتے ہی اسے اپنے قبرستان میں دفنا دے ۔ اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پہ لکھا گیا کہ میری نے خود کشی کی ہے‘ اسے دفن کرتے وقت موسم اس قدر خراب تھا کہ جو بزرگ لاش وہاں لے گئے تھے‘ کفن دفن میں بھی ان بے چاروں کو مدد کرنا پڑی۔

شاہی محل میں سکون تھا کہ خبر کوئی بڑا فساد مچائے بغیر دفن ہو چکی ہے ۔ اٹھارہ سالہ خوبصورت میری وٹسیرا ٹنوں مٹی کے نیچے پڑی ‘ان کے سکون پہ مسکرا رہی تھی۔

ویانا کے اخباروں میں پہلا سرکاری بیان تو یہ لگا کہ شہزادہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وفات پا گیا ہے‘ لیکن اس پہ یقین کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ روڈولف کی ایک تو عمر کم تھی پھر وہ سپورٹسمین ٹائپ کا بندہ تھا اور لوگوں کو یہ اندازہ بھی ہو چکا تھا کہ اصل بات کچھ اور ہے ؛ اگرچہ موقع واردات پہ کوئی صحافی نہیں تھا‘ لیکن آس پاس راستوں پہ موجود لوگ شاہی عملے کی آنیاں جانیاں دیکھ رہے تھے ۔

وہ ان کی بوکھلاہٹ بھی نوٹس کر رہے تھے ۔ مئیرلنگ میں ہونے والا یہ واقعہ اس صدی میں آسٹریا کی سب سے بڑی خبر بننے والا تھا۔

ایک دن گزرا تو بادشاہ نے دوسرا آفیشل بیان دے دیا۔ اس میں کچھ باتیں سچ تھیں۔ بتایا گیا کہ شہزادے نے خودکشی کی ہے‘ نیز چونکہ وہ دماغی طور پہ ٹھیک نہیں تھا‘ اس لیے کسی اندرونی دباؤ پہ بے چین ہو کے اس نے پستول سے اپنے آپ کو گولی مار لی ہے ۔

اسے پاگل ڈکلیئر کر دینا‘ اس لیے ضروری تھا‘ تاکہ اس کا جنازہ پوری مذہبی رسومات کے ساتھ ادا کیا جا سکے ۔ خودکشی کرنے والوں کو صرف اسی صورت میں قابل عزت جنازہ ملتا تھا؛ اگر یہ بات ثابت ہو جاتی کہ مرنے سے پہلے ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا‘ لیکن اس والے سچے بیان کا اور الٹا اثر ہوا۔

لوگوں نے سوچا کہ پہلے دن ہارٹ اٹیک کا بتاتے ہیں‘ دوسرے دن کہتے ہیں کہ خودکشی کی تھی‘ اصل قصہ لازمی طور پہ اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب ہو گا۔ تب آسٹریا میں جتنے منہ تھے‘ اتنی ہی باتیں تھیں اور ہر آتے جاتے کے پاس ایک ہی موضوع تھا۔

پھر آخر جو مئیرلنگ والے اس محل کا عملہ تھا اور جو میری کو دفنانے والے تھے ‘ جو راستے میں دیکھنے والے لوگ تھے ‘وہ سب بھی عام لوگوں میں بیٹھ کے آہستہ آہستہ راز کھولتے گئے ۔ اگلے ہفتے یہ ایک کھلا راز بن چکا تھا کہ میری اور روڈولف نے اکٹھے خودکشی کی تھی۔ خبر نکل چکی تھی‘ لیکن اس کے اتنے ہی ورژنز بھی پھیلے ہوئے تھے ۔ ہر بندہ دوسرے آدمی کو ایک نیا راز بتاتا تھا۔

میری شہزادے روڈولف سے شدید محبت کرتی تھی۔ شہزادہ بھی اس کا جواب اسی طرح دیا کرتا تھا۔ مسئلہ صرف ایک تھا۔ شہزادہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔ اس کی شادی اپنے جیسے کسی شاہی خاندان میں ہو چکی تھی‘ لیکن حالات کچھ اچھے نہیں تھے ۔

وہ شاہی مصلحتوں کی وجہ سے اپنی بیوی کو چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ میری سے شادی کرنا‘ اسی وجہ سے اس کے لیے ناممکن ہو چکا تھا۔ میری جس قدر شہزادے کے پیار میں ڈوبی ہوئی تھی‘ اس کے لیے کچھ بھی ممکن تھا۔ شہزادہ کہتا :میرے ساتھ مینار سے چھلانگ مار دو‘ اس نے مار دینا تھی۔

شہزادہ کہتا: میرے بغیر چھلانگ مار لو ‘اس نے تب بھی مار لینا تھی۔ شاید اسی لیے شہزادے نے جب اس کے سامنے یہ حل رکھا کہ ہم اکٹھے جی تو نہیں سکتے ‘ مرنے کا پلان ضرور کر سکتے ہیں ‘تو وہ مان گئی۔ میری نے سوچا ہو گا کہ زندہ رہ کر دور رہنے سے بہتر ہے‘ مر کے اکٹھے ہو جائیں۔ سوہنی‘ سسی اور ہیر کی طرح میری بھی فنا ہو گئی۔

اس خودکشی کی تحقیقات اتنی زیادہ ہوئیں کہ آج بھی کوئی نہ کوئی ریسرچر بھولا بھٹکا کہیں سے نکلتا ہے اور اس موضوع کو لے اڑتا ہے ۔ کچھ عرصے پہلے ایک تھیوری یہ بھی سامنے آئی تھی کہ شہزادے نے خود کشی نہیں کی تھی‘ بلکہ اسے فری میسنز نے مارا تھا۔

ویسے پچھلی پوری صدی میں ہوتا یہی تھا کہ جس واردات کا کھرا کہیں نہ ملتا ہو‘ اسے فری میسن لاج پہ لے جا کے جوڑ دیا جاتا تھا۔ یہ تھیوری لانے والوں کا خیال تھا کہ شہزادے نے مبینہ طور پہ اپنے ملک سے چرچ کا اثر رسوخ ختم کرنے اور اپنے باپ کی حکومت پہ قبضہ کرنے سے انکار کر دیا تھا‘ اس لیے فری میسنز نے اسے مار دیا۔

میری بے چاری کی قبر اگلے سو برسوں میں دو تین بار کھودی گئی‘ اس کی ہڈیوں پہ ریسرچ ہوئی‘ ایک ریسرچر نے کہا: اسے گولی نہیں ماری گئی تھی‘ اس نے کسی اور طرح خود کشی کی‘ ایک نے کہا کہ شاید وہ حاملہ ہو چکی تھی اور ان دونوں کے پاس آخری راستہ یہی تھا۔

کسی نے کہا: اس کے سر پہ کوئی چیز ماری گئی تھی‘ جس سے وہ مری۔ میری کی جان اگلے سو برس بھی چھوٹنا ممکن نہیں تھی؛ اگر2015 ء میں اس کے وہ تمام کاغذات منظر عام پہ نہ آتے‘ جو خود کشی کے بعد اس کے خاندان کے پاس تھے اور1926 ء میں انہیں باقاعدہ آسڑیا کے ایک بینک لاکر میں حفاظت کی غرض سے رکھوا دیا گیا تھا۔

وہ کاغذات اصل میں خودکشی سے پہلے لکھے جانے والے الوداعی خطوط تھے‘ جو اس نے اپنے سب گھر والوں کو لکھے تھے ۔

اٹھارہ سالہ میری وٹسیرا بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنی محبت کے چکر میں قربان ہو گئی۔ رُل کُھل کے دفن ہوئی‘ ہڈیاں بار بار نکالی گئیں‘ لیکن شہزادہ پورے آفیشل ڈیکورم کے ساتھ دفنایا گیا۔ اس کا مقبرہ آج بھی مکمل شاہانہ کروفر کے ساتھ موجود ہے ۔

شہزادے کی موت کے چند دن بعد اخباروں میں ایک خبر اور بھی چھپی تھی۔ وہ خبر کچھ یوں تھی کہ شہزادے نے اکٹھے مرنے والی یہی آفر دو تین ہفتے پہلے اپنی ایک اور چوبیس سالہ گرل فرینڈ کو بھی دی تھی۔ میریوں کو مرنا ہی ہوتا ہے ! بر مزار ما غریباں نے چراغے نے گلے !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 468 posts and counting.See all posts by husnain